پاکستان کرکٹ اپنا مستقبل کیسے سنوار سکتی ہے؟

ویرات کوہلی بطور کپتان ٹرافی نہ جیت سکا تو اسے کسی نے اپروچ بدلنے کا نہیں کہا۔ اس ورلڈ کپ میں اس نے اپنے تئیں تیز کھیلنے کی پوری کوشش کی مگر بری طرح ناکام ہوا۔ فائنل میں اپنی پرانی روش پر کھیلتے ہوئے ہی وہ کامیاب ہوا۔ بطور کپتان ٹرافیاں نہ جیتنے پر اسے بھی گالیاں پڑیں۔ ٹیگ لگائے گئے کہ اپنے لیے کھیلتا ہے، خود غرض ہے، وغیرہ وغیرہ۔ پھر روہت شرما کو کپتانی دے دی گئی۔ اور

Read more

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: دوسرے ٹی ٹونٹی کا تجزیہ

جٹ چڑھیا کچہری اور پہلی پیشی میں ہی لٹیا ڈبو دی۔ پہلا میچ بارش کی نذر ہو جانے کے بعد دوسرے ٹی ٹونٹی میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اوپنر فل سالٹ ( 13 ) عماد کی گیند پر جلدی پکڑے گئے، لیکن جوس بٹلر ( 84 ) اور ول جیکس ( 37 ) نے پاکستانی تھنک ٹینکس کو سجھایا کہ ٹی ٹونٹی میں بیٹنگ اپروچ کیا ہونی چاہیے۔ دونوں نے جلد وکٹ گرنے

Read more

پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹی 20 ورلڈ کپ سکواڈ: ایک جائزہ

ماضی میں پاکستان ٹیم عام طور پر تیز وکٹوں پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتی تھی۔ تاہم، اب جا کر پتہ چلا ہے کہ یہ تو سلو وکٹوں پر بھی نہیں کھیل سکتی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 23 مئی 2024 کو ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے 15 رکنی سکواڈ کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد انتخاب کے عمل پر کافی بحث ہوئی ہے۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ٹیم میں کچھ تجربہ کار کھلاڑیوں کو شامل

Read more

محبت، مرمت اور مذمت

ملکی صورت حال گاہے گاہے رنگ بدلتی رہتی ہے۔ مگر ہم ہر موضوع پر بات نہیں کرتے۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ اِک انبار جمع ہو جاتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ کتنے ہی حادثے، سانحے گزر گئے مگر ہمیں لکھنا نصیب نہ ہوا: سانحہ ِ 9 مئی، سانحہ ِ بہاولنگر، سانحہ ِ کھاریاں۔ 9 مئی پر تو ہم ڈر کے مارے بھی چپ تھے۔ لیکن بہاولنگر پر ’گلی گلی نگر نگر‘ اور واقعہِ کھاریاں پر ’بوہے باریاں‘ کے

Read more

شمس الرحمان فاروقی بنام ظفر اقبال

یہ جو کہتے ہیں نا کہ ہمارے ہاں زندہ لوگوں کی پذیرائی نہ کرنے کا چلن عام ہے اور جب وہ گزر جائیں تو کتابوں کے منوں صفحات کالے کر دیے جاتے ہیں۔ ان محققین کو نوید ہو کہ ہمیں اس قومی راز کی وجہ معلوم ہو گئی ہے۔ ہم مسلسل سوچ و بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ دراصل جو کچھ ہمارے لوگ دوسروں کے بارے میں لکھتے (یا سوچتے ) ہیں۔ اس کے لیے

Read more

جاوید شیخ (خاکہ) ۔ جاوید نامہ

کیا یہ مقام حیرت (بلکہ افسوس) نہیں کہ آج کے پاکستان (پھر سے پرانے والا) میں ایسی فلمیں بن رہی ہیں، جن میں جاوید شیخ نہیں ہیں؟ یقیناً یہ بھی اسی امریکی (سوری! نام نہیں لینا تھا) سازش (معذرت، مداخلت ) کا حصہ ہے۔ جس کی وجہ سے نیا پاکستان، خیبر پختون خوا تک محدود ہو گیا ہے۔ بہرحال، ہمیں پولیٹیکل سٹائر جھاڑنے کا کوئی شوق نہیں ہے، بس عادت سے مجبور ہیں۔ ہاں سچ یاد آیا، ہم تو جاوید

Read more

تذکرہ ایک فیس بک گروپ کا

’دروغ بر گردن دروغہ‘ شنید ہے کہ جب احمد فراز ’سب آوازیں میری ہیں‘ لکھ رہے تھے تو ان کا پیٹ خراب تھا۔ مقام شکر ہے کہ اس گروپ سے متعلق میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ’سب آوازیں میری نہیں‘ ۔ چونکہ مجھ سے کوئی انٹرویو کرنے والا نہیں لہٰذا یہ فرض بھی مجھی پر عائد ہوتا ہے۔ کسی سچے شاعر نے میرے بارے میں ہی کہہ رکھا ہے کہ یہ روایت بھی چلی ہے مجھ سے

Read more

فصیح باری خان: ایک میسنا ڈرامے باز

فصیح باری خان کا تعلق شہر مانوس و فانوس کراچی سے ہے۔ اگر آپ انہیں نہیں جانتے تو کوئی بات نہیں، کچھ عرصہ قبل ہم بھی نہیں جانتے تھے۔ آپ کو کچھ ہنٹس دیتے ہیں۔ ذرا پہچاننے کی کوشش کریں : باؤلی بٹیا رونق جہاں کا نفسیاتی گھرانا خالد کی خالدہ پچھل پیریاں سات دن محبت ان نہیں، یہ محلے کی خواتین کسی کی غیبت نہیں کر رہیں۔ یہ فصیح صاحب کے لکھے گئے ڈراموں اور فلموں کے ناموں کی

Read more

شادی کب کر رہے ہیں؟ (اختتام)۔

صرف ایسا ہی نہیں کہ سوالات سے محض ہم ہی پریشان ہوئے۔ ہمارے جوابات نے بھی ٹھیک ٹھاک دور مار کی۔ دراصل، ناسمجھی میں ہم سے ایک فاش غلطی بھی ہوئی۔ ایک مرد بزرگوار کو جب تنک کر کہا کہ ”آپ کب Available ہیں؟“ تو وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ گئے۔ بس اسی پہ ہم ذرا اوور کونفیڈینٹ ہو گئے۔ کچھ ہی دنوں بعد ایک خاتون کولیگ نے بھی شادی سے متعلق ’وچار‘ جاننے چاہے۔ تو ہم نے اسے

Read more

شادی کب کر رہے ہیں؟ ابتدا

اگر آپ غیر شادی شدہ ہیں تو میرا درد بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ اور اگر کہیں با روزگار کنوارے ہیں تو پھر تو یقیناً دنیا میں ہم دو ہی بچے ہیں۔ ایسا میرا نہیں، ان بزرگوں کا کہنا ہے۔ جو بدقسمتی سے ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ اصل میں ان کی اپنی بد نصیبی یہ ہے کہ خود شادی شدہ ہیں۔ اور اب ہماری خوشیاں ان سے دیکھی نہیں جاتیں۔ جہاں ملتے ہیں، شادی کے نام پر بے طرح ذلیل

Read more

پی ایس ایل 6: کچا چٹھا

دراصل یہ بلاگ ہم نے پی ایس ایل (سیزن 6 ) کے فوراً بعد لکھنے کا سوچا تھا۔ چند اہم نوٹس بھی لکھ رکھے تھے۔ مگر سستی آڑے آتی رہی اور بلاگ نہ لکھا گیا۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔ تو اب سیزن 7 کی آمد آمد ہے اور اتفاق سے ہماری نظر پرانے نوٹس پر پڑ گئی۔ تو چلیے! ذرا پچھلے سیزن پر جلدی سے طائرانہ نظر ڈال لیتے

Read more

خلیل خاں کی فاختہ (خاکہ)

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ لفظ Controversy سنتے ہی آپ کے دماغ میں کون سی شخصیت آتی ہے ہے تو آپ کا کیا جواب ہو گا؟ گیس کریں ذرا؟ تکا لگاؤ مسلمانو! حریم شاہ؟ نہیں! صندل خٹک؟ ہرگز نہیں! متھیرا؟ بالکل نہیں! میرا؟ اوں ہوں! اگر آپ ٹھرک چھوڑ کر کسی ایک مرد کا نام بھی لے لیتے نا تو شاید بوجھ بھی لیتے۔ ویسے ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے چار اور کنٹروورشل شخصیات سے

Read more

منی ہائیسٹ کا پانچواں اور آخری سیزن

ہسپانوی ویب سیزن منی ہائسٹ کے پانچویں اور آخری سیزن کو 2 حصوں میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ 3 ستمبر کو جاری کیا گیا ہے۔ جب کہ دوسرا 3 دسمبر سے نیٹ فلیکس پر نشر ہو گا۔ کہانی ہمارے ہاں ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے قسط وار ناول جیسی ہے۔ خاتمہ ایسے سین پر ہوتا ہے جہاں ہر کوئی چونک جاتا ہے اور متجسس رہتا ہے کہ آئندہ قسط میں کیا ہو گا؟ پہلے دو

Read more

اسی مر گئے آں؟

بچپن میں ہمارے محلے کی کسی مٹیار کا دوسرے گاؤں کے ایک لڑکے سے اکھ مٹکا ہو گیا۔ میرے اور میرے ہم عمروں کے چچاؤں اور بڑے بھائیوں نے بڑی پلاننگ کر کے اس لڑکے کو عین موقع پہ پکڑ لیا۔ اہل محلہ نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ سب اس عاشق کو لاتیں گھونسے مارتے جا رہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے : ”اسی مر گئے آں؟ اوئے اسی مر گئے آں!“ چھوٹا ہونے

Read more

ایک دن جیو میرے ساتھ

میں نے بائیک کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تو وہ بھولے زلف تراش کے گرم حمام کے سامنے کھڑی نظر آئی۔ میں لپک کر اس پہ سوار ہوا اور دوسرے ہی لمحے بائیک ہواؤں میں، معاف کیجئے گا، اندرون شہر کی گندی گلیوں میں تھی۔ تھوڑا آگے جاکر میں نے جو ایک موڑ تیزی سے کاٹا تو ایک بزرگ بائیک کی زد میں آتے آتے بچے لیکن وائے ری قسمت کہ ان کو بچانے کی کوشش میں گلی کے عین

Read more

بے روزگار

چند سال پہلے ہم باقاعدہ یونیورسٹی کے طالب علم ہوا کرتے تھے لیکن جب سے ڈگری مکمل ہوئی ہے بے روزگار ہوئے پھرتے ہیں۔ کچھ عرصہ تو آوارہ گردی اور جاب کی آس امید میں گزر گیا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ اب ہم خود کو کافی سینئر بے روزگار سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اول تو سینئرز کے فرائض منصبی کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ نئے آنے والوں کو ورغلائیں۔ دوم،

Read more

چاپلوس

ہمیں تو ایک سیکرٹری تعلیم کے کچھ عرصہ قبل کے دورے پر بات کرنی تھی۔ ہوا یہ کہ ABCDیا ایسے ہی ایک نام کے کوئی صاحب صوبائی تعلیمی سیکرٹری مقرر ہو گئے۔ عہدہ پانے کے بعد آبائی علاقے کی یاد آئی توانہوں نے تین چار سکول اپ گریڈ کردیے۔ لہو لگاکر شہیدوں میں شامل ہو نے کا اتنا سا معروف فیصلہ بھی انہیں جنت دلانے کے لیے کافی تھالیکن حواریوں کا کیا کیا جائے۔ ان یار لوگوں نے ان کے کانوں میں بات ڈالی کہ ایسے کیسے ایک محکمانہ آرڈر پر سکول اپ گریڈ ہو جائیں اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ چند روز علاقے میں کھڑاک تو ہونا چاہیے کہ یہ کارنامہ صاحب بہادرکا ہے۔ اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں، انہوں نے فوراً آفیشل وزٹ کا ارادہ کر لیا۔

Read more

عید، عید کارڈز اور اشعار

گو ہم نے بزرگوں کی باتوں کا کبھی اعتبار نہیں کیا لیکن وہ درست کہتے تھے۔ وقت کتنی جلدی بدل رہا ہے۔ اس کا اب احساس ہوا ہے۔ وہ بھی یوں کہ محض ایک دہائی قبل عید کارڈ کی جو رسم عید کے چاند جتنی ہی ضروری سمجھی جاتی تھی، عنقا ہو گئی ہے۔ بہرحال، عید آ گئی ہے اور میاں محمد بخش صاحب کی یاد بھی : لے او یار! حوالے رب دے، میلے چار دناں دے اس دن

Read more

لیڈر کی تقریر میں تئیس برس کا وقفہ اور شیدائی عوام کی جذباتیت

ہجوم دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ اس کے تمام دشمن ششدر رہ گئے۔ وہ تو بلا کو سر سے اتارنا چاہ رہے تھے لیکن محض ایک جملے نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ 23 سال پہلے وہ جس ان ہونی سے ڈر رہے تھے۔ وہ ان ہونی محض ایک فقرے کی مار نکلی۔

ہوا یہ کہ یہ ملک بھی انگریزوں کی بہت ساری کالونیوں میں سے ایک تھا۔ یہاں سیاہ فام قوم رہتی تھی۔ انگریز حاکم تو تھے ہی انہیں اپنی گوری چمڑی کا زعم بھی تھا۔ وہ اپنے سے پھیکے رنگ والے تمام لوگوں کو سیاہ فام ہی گردانتے تھے اور پھر یہ تو وہ قوم تھی جس کا رنگ سیاہی کو مات دیتا تھا۔ اور تو اور ان کے بال بھی گھنگریالے تھے۔ وہ بھلا اس قوم کو غلام کیوں نہ سمجھتے۔ لیکن دنیا کے تمام ظالم ظلم کرتے وقت بھول جاتے ہیں کہ کائنات میں جہاں بھی کوئی عمل ہوتا ہے اس کے جواب میں کہیں نہ کہیں کوئی رد عمل ضرور وقوع پذیر ہوتا ہے۔

Read more

پاکستان بمقابلہ زمبابوے۔ کچا چٹھا

پاک زمبابوے ٹی ٹونٹی سیریز اختتام کو پہنچی۔ یار لوگوں نے بہت دھول دھپا کیا۔ دوسرے میچ کے بعد یہ سب بنتا بھی تھا۔ ہم نے بھی یاروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ٹیم کے ذرا بنیادی مسائل کی کھوج کی تو کئی خامیاں نظر آئیں۔ مسائل، وسائل اور ممکنہ حل درج ذیل رہے:

ماہر نفسیات کی ضرورت:

ہمارے کھلاڑی عمومی طور پر ناخواندہ ہیں۔ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کھیل کا پریشر الگ الگ ہوتا ہے۔ اس لیے نفسیاتی ماہرین کا ٹیم کے ساتھ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ایک کامیاب مثال بھی موجود ہے۔ 13۔ 2012ء کی پاک بھارت سیریز میں پنجاب یونیورسٹی کے مشہور ماہر نفسیات پروفیسر مقبول بابری ڈریسنگ روم کا حصہ تھے۔ اس سیریز میں جنید خان اور ناصر جمشید جیسے نوآموز کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی نے روایتی حریف کو آؤٹ کلاس کر دیا تھا۔ اس کامیابی میں کہیں نہ کہیں مقبول بابری کی کونسلنگ کا بھی ضرور ہاتھ تھا۔

Read more

موٹیویشنل اسپیکرز دور حاضر کے عامل بابے ہیں

موٹیویشنل سپیکرز اکثر اس طرح کے سوالات اچھالتے ہیں، جن کے بارے میں اس وقت ایسا لگتا ہے کہ اس سے زیادہ ضروری سوال تو روئے زمین پر کوئی نہیں۔ ان کے جواب بھی عموماً لوگوں کو معلوم نہیں ہوتے۔ بادی النظر میں سوال اور مقرر دونوں بے ہودہ معلوم ہوتے ہیں۔ جب جواب پتہ چلے تو بال (اپنے اور مقرر کے بھی) نوچنے کو جی چاہنے لگتا ہے۔ یہ ’علمی بحثیں‘ اکثر درج ذیل طرح کی ہوتی ہیں :

Read more

چالان بر گردن راوی

اگر مزاح نگار طنز نگاری شروع کر دیں تو سمجھیں کہ کہ ملک سنسرشپ کا شکار ہے اور اگر وہ پھر سے مزاح نگار بن جائیں تو سمجھ جائیں کہ مارشل لاء لگ چکا ہے۔ اس فلسفے کی آمد تب ہوئی جب لوگوں نے پوچھا کہ نئے طریقے سے ایسا مزاح کیسے تخلیق کیا جاسکتا ہے؟ جو اپنا اپنا معلوم ہوتا ہو۔ دیکھی، سنی، سامنے کی بات لگتی ہو۔ یہ پوچھنے والے دراصل ہمارے حصے کے بے وقوف تھے۔ وہ

Read more

ہمیں بابے اچھے نہیں ملے

”ایک وقت تھا جب کھوٹا سکہ چلانا ہی سب سے بڑی بے ایمانی ہوتی تھی“ اگر آپ بھی سوشل میڈیائی بابوں کی یہ ناسٹیلجک پوسٹ کہیں دیکھیں تو کمنٹس میں ضرور لکھیں کہ ”جی اب وہی نسل بڑی ہو گئی ہے اور سب اسی کا کیا بھگت رہے ہیں“

ہمارے سماج میں تو بابوں کا عمل دخل بہت پہلے سے تھا۔ البتہ ادب میں ان کی انٹری اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی کی مرہون منت ہے۔ ان حضرات کا کم و بیش سارا ادب ہی بابوں سے عبارت ہے۔ وہ اردگرد ہونے والی ہر اچھی بات کسی نہ کسی بابے کے سر ڈال دیا کرتے تھے۔ لیکن آپ ہمارا دکھ بھی ملاحظہ کریں کہ ہمیں بابے ہی اچھے نہیں ملے۔

Read more

علم ریاضی کی روشنی میں

پچھلے دنوں ہمارے ایک دوست نے پھبتی کسی کہ ”اگر ریاضی کا مائنس مائنس پلس والا فارمولا درست ہوتا تو موجودہ حکومت تو مریخ پر بھی دو نئے پاکستان بنا چکی ہوتی!“ ہمارا گو یوتھیؤں اور ٹائیگرفورس سے کوئی ناتا نہیں مگر پھربھی یہ بات حکومت کے حق میں جاتی نظر آئی۔ کچھ حساب کتاب کیا تو کم ہینگ پھٹکڑی میں بھی چوکھے رنگ والا ایک زبردست ٹوٹکا مل گیا۔ میتھس میں صحیح اعداد کی ضرب کے لیے چار فارمولے

Read more

دسمبر، نیا سال اور شاعری

دسمبر کا تیسرا عشرہ ختم ہو نے کو ہے۔ اس دفعہ کسی طرف سے ’انھے وا‘ شاعری موصول نہ ہوئی تو حیرت کے ساتھ ساتھ یک گونہ خوشی بھی ہوئی کہ ہو نا ہو شاعر کم ہو گئے ہیں۔ جلدی سے فیس بک کھولی تو یہ خوشی ہرن ہو گئی۔ کیونکہ اب بھی درج ذیل قسم کے شعر تھوک میں مل رہے تھے۔ ہندو مریا تے سڑ سواہ سواہ ہویا مر مر کے میرا تیرے نا ل ویاہ ہوا حیرت

Read more

کیا پاکستان نیوزی لینڈ سے ٹیسٹ جیت سکے گا؟

نیوزی لینڈ سے گھر میں ٹیسٹ جیتنا بہت ہی مشکل ہے۔ کیویز پچھلے اڑھائی سال سے گھر کے شیر بنے ہوئے ہیں۔ اگر پوری دہائی ( 10 سال) کی بات کی جائے تو بھی کیویز کو نیوزی لینڈ میں صرف تین ٹیمیں ہی کسی ٹیسٹ میچ میں شکست دے پائی ہے۔ ان فتح یاب ٹیموں میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور پاکستان شامل ہیں۔ پاکستان بھی آخری ٹیسٹ موجودہ ہیڈ کوچ مصباح الحق کی زیر قیادت جیتا تھا۔ لیکن ٹی ٹونٹی

Read more

نئی ٹیکنالوجی اور بزرگوں کی خفت

لگتاہے کہ جب کہ اشفاق احمد صاحب بیرون ملک تھے توآج کے سارے موجد شاید سبھی ان کے کلاس فیلو تھے کیونکہ وہ ساری عمر کہتے رہے کہ ’آسانیاں تقسیم کریں‘ ۔ اور ٹیکنالوجی آج آسانیاں بانٹ رہی ہے۔ سمارٹ فون کی آمد نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جو کبھی لائن میں کھڑے نہیں ہوئے وہ بھی اب ’آن لائن‘ ہو گئے ہیں۔ دنیا ’تھری جی‘ اور ’فور جی‘ سے نکل کر اب ’فائیو جی‘ کی سپیڈ

Read more

سنسرڈ خطوط

مشغلہ وہ کام ہے جس سے فارغ وقت برباد کر کے خوش ہواجاتا ہے ۔ لوگوں کے مختلف مشغلے ہوتے ہیں جیسا کہ باغ بانی، سکے جمع کرنا، پینٹنگ، خطاطی، کتابیں پڑھنا۔ مگر ہمارا مشغلہ بے حد دلچسپ ہے۔ ہم خطوط سنسر کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ غیر اخلاقی، غیرقانونی، غیر انسانی معلوم ہو مگرخلیل الرحمٰن قمرکے ابا جی اور شاہ رخ خان کی امی جان کہتی تھیں کہ کوئی بھی مشغلہ چھوٹا یا بڑا نہیں

Read more

جویوں ہوتا تو کیا ہوتا

چونکہ سوچنے پر ابھی تک ٹیکس نہیں لگا اس لیے دفتری اور دوسرے فارغ اوقات میں ہمارا یہی مشغلہ ہے۔ دراصل سیدھی سادی چیزیں ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ اس لیے اکثر ایسے فلسفے سنتے وقت ہم آنکھیں کان اور دماغ بند کرلیتے ہیں۔ بہرحال ہمیں وقت ملے یا نہ ملے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ پرانے فلسفوں کو نئے زاویے سے دیکھا جائے۔ کبھی کبھار یہ کوشش کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔ ورنہ اکثر تو یہی ہوتا ہے کہ

Read more

پانچ منٹ میں کالم نگار بنئے

اگر آپ کے پاس دو آنکھیں، دو کان، ایک ناک اورایک عدد قلم ہے تو مبارک ہو۔ آپ کالم نگار بن سکتے ہیں۔ اس نفسا نفسی کے عالم میں جب ہر کسی کو اپنی پڑی ہے۔ وہاں ہمیں بھی اپنی پڑی ہے۔ معاف فرمائیے گا، کہنے کا مطلب ہے کہ وہاں ہمارے جیسے چند لوگوں کی وجہ سے ہی یہ دنیا چل رہی ہے۔ اب یہی دیکھئے کہ ہمارے ادارے ”ادارہ سارے علوم“ نے ان گنت مختصر مدتی کورسز کا

Read more

آزادی

خلیل الرحمان قمر اور ماروی سرمد کی چپقلش پر بھانت بھانت کے تبصرے ہوئے۔ پروفیسر خاموش رہے۔ مجھے ان کی چپ چبھتی رہی لیکن ان کی طرف سے پہل کا منتظر رہا۔ دراصل جب تک پیمانہ چھلک نہ جائے۔ نہ پروفیسر بولتے ہیں اور نہ ہی میری تشفی ہوتی ہے۔ سو، میں نے بھی ’چپ شاہ‘ کا روزہ رکھ لیا۔ دراصل میں بہت کنفیوز ہو رہا تھا۔ ہر دو فریقین کا موقف سننے کے بعد خود کو اسی کا حامی پاتا تھا۔ اور پھر پروفیسر بھی کوئی سڑک کنارے بیٹھ کر فال نکالنے والوں میں سے نہیں تھے۔ حال ہی میں ایک یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے تھے۔ بظاہر علماء فضلاء والی کوئی بات ان میں نہ تھی کہ تنقید برداشت کرلیتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے باوجود ’سینئر تجزیہ کار‘ نہیں بنے تھے۔ اور مجھ ایسے بیسیوں کو چائے پانی بھی پلاتے رہتے تھے۔

Read more

علامہ کی مزید شاعری

یونیورسٹی میں یوم اقبال کی تقریب منعقد ہوئی۔ کاغذی کارروائی تھی۔ سو چند منٹ پہلے ہی سب کو معلوم ہوا۔ حاضرین تو اردگرد کی کلاسوں سے پورے کیے گئے۔ اب ہال بھرا ہوا ہے اور سٹیج خالی۔ ڈھونڈ ڈھانڈ منت سماجت کر کرکے چند طلبہ کوکچھ کہنے کہلانے پرراضی کیا گیا۔ مقررین میں خواتین کی نمائندگی کے لیے ایک لڑکی بھی تلاش کرلی گئی۔ باقی مقرر حاضرات نے تو جو کہا، وہ ہمیں یاد نہیں۔ البتہ جب طالبہ سٹیج پر

Read more

پونڈی

جو لوگ اس ترکیب اور اس کے ’ترکیب استعمال‘ سے ناواقف ہیں ان پرافسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ویسے ان سے تعزیت بھی بنتی ہے کہ بقول شخصے ”افسوس ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے“ ۔ اس ’اصطلاح‘ سے کماحقہ آگاہی کے لیے کسی ڈکشنری کا سہارا مت لیں بلکہ ایسا کریں کہ پہلی فرصت میں کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں۔ ہمیں بھی کافی عرصہ تک پطرس کا ’ٹھنڈی سڑک کی سیرکو نکل گئے‘ سمجھ نہ آتا

Read more

الٹ پلٹ

کبھی آپ نے سوچا کہ جیسا نظر آتا ہے ویسا کچھ نہ ہو تو کیا ہو؟ زیادہ کچھ نہیں آپ فقط روزمرہ اصطلاحات ہی ادل بدل کر دیکھیں کہ کیا تماشاہوتا ہے۔ یہ ہم خود سے نہیں کہہ رہے۔ استاد عطاء الحق قاسمی صاحب نے ایک کالم میں موشگافی کی تھی۔ ان کی تحریر میں دوکردار آپس میں بحث رہے تھے کہ ”تم مجھے بتاؤ کہ پنکھے کو پنکھا کیوں کہتے ہیں آلو بخارا یا تربوز کیوں نہیں کہتے؟“ ”اس

Read more

شعر گوئی کا شوق اور۔۔۔ ایتھے رکھ

برمحل شعر پڑھنا گفتگو کو چار چاند لگا دیتا ہے لیکن جن صاحب کی ہم بات کر رہے ہیں وہ بے بات بلکہ بغیر کسی سیاق و سباق کے شعر کہنے میں ملکہ رکھتے ہیں۔ ان حضرت سے خاصے راہ و رسم یوں تھے کہ ہمارے کولیگ واقع ہوئے تھے سو دامن چھڑانے کی کوئی نوبت میسر نہ تھی۔ ہفتے کے چھ دنوں میں کام کے اوقات کے علاوہ قریبا ایک گھنٹہ ان کی ہمراہی میں گزرتا۔ اس ایک گھنٹے

Read more

مختصر مختصر

مختصر لکھنا بہت طویل کام ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے آسان لکھنا بے حد مشکل ہے۔ دنیا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے آنے سے برق رفتار ہو گئی ہے۔ آنے والے دور کے ادب میں دو چیزیں ہوا کریں گی اختصار اور زبان سے بے نیازی۔ اردو شاعری کے بڑوں نے یہ بات غالباً بہت پہلے بھانپ لی تھی جبھی غزل دو مصرعوں میں ان پڑھ کو بھی مکمل بات سمجھا دیتی ہے۔ نظم میں بھی اس طور کے تجربات ہو چکے ہیں۔ منیر نیازی کی ایک نظم کا عنوان ہے ”وقت سے آگے نکل جانے کی سزا“ اور پوری نظم اس واحد مصرعے پر مشتمل ہے کہ ”آدمی تنہا رہ جاتا ہے“ ۔ ظفر اقبال تو ثروت حسین کی ایک نظم ”بند دروازہ“ بھی سناتے ہیں۔ جس کے مصرعے ہیں کہ

”مجھے نہ کھولو
مرے اندھیرے میں ایک لڑکی
لباس تبدیل کر رہی ہے

Read more

تجھ سے مل کر خدا بھی خوش ہوگا

کرنل محمد خان نے ”بسلامت روی“ میں یہ جو کہا تھا کہ ”زندگی کا مزا تماشائی بننے میں ہے نہ کہ تماشا بننے میں“ ، تو میں ان سے پوری طرح متفق ہوں۔ اگرچہ کئی احباب کواس سوچ پہ اعتراض بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر آدمی بیک وقت تماشا بھی ہوتا ہے اور تماشائی بھی۔ لیکن کرنل صاحب کے فلسفے سے در خور اعتنائی ممکن نہیں۔ طارق عزیز مرحوم اس ضمن میں اکثر مختار صدیقی کا ایک شعر سنایا کرتے تھے کہ

نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا خاص بنو اور عام رہو
محفل محفل صحبت رکھو دنیا میں گم نام رہو

Read more

ایک خبطی علامہ کے چند قصے

لوگوں کو کئی طرح کے خبط ہوتے ہیں۔ کچھ طنز میں بجھی ہوئی تلوار ساتھ رکھتے ہیں اور کچھ کے پاس گالیوں کا وافر ایمونیشن ہوتاہے۔ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ادھر کسی کو کوئی کام کرتا دیکھیں گے اور ادھر ان کے اندر کا نقاد جاگ اٹھے گا۔ ہمیں ایک ایسے صاحب سے واسطہ پڑا جو نا صرف ’عالم ہر شے‘ تھے بلکہ دوسروں کو اس کی بار بار یاددہانی بھی کراتے تھے۔ ان سے ملاقات سے قبل ہم ’لاعلمی‘ کی دولت سے مالامال تھے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے ہماری کئی اصطلاحات پر اپنے ’کالے علم‘ کا پوچا پھیر دیا ہے۔ ہم جو ان تمام اصطلاحات کو اپنی عقل سے حسب حال کر چکے تھے اور جیسے چاہتے تھے، استعمال کرتے تھے اب اس ’عیاشی‘ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

دراصل ہوا یوں کہ ایک دن وہ اپنی علمیت کے قصے سناتے سناتے ایک سیمینار میں نکل گئے۔ سیمینار میں بیسویں لڑکیاں پونی ٹیل کیے ہوئے تھیں۔ اس سے قبل پونی ٹیل سے متعلق ہمارا مشاہدہ رومان سے بھرپور تھا۔ یہ بالوں کا خاص سٹائل تھا جو نوجوان لڑکیوں تک ہی محدود تھا۔ بہرحال حضرت عالم نے بتایا کہ ’پونی ٹیل‘ گھوڑے کی دم (بلکہ انہوں نے تو پونچھ کہا تھا) کو کہا جاتا ہے۔ یہ سن کر پونی ٹیل بنائے لڑکیوں نے ربڑ بینڈ اتار ڈالے۔ اگر وہ کھلے بالوں میں مزید قیامت نہ ڈھا رہی ہوتیں تو ہم عالم کی اس تھیوری سے انکار بھی کر سکتے تھے۔ تاہم انہوں نے ہمارے ایک رومانوی احساس کو مٹی میں ملا دیا۔ اب جہاں بھی کوئی لڑکی پونی ٹیل میں دکھے اپنا آپ گھوڑا گھوڑا سا لگنے لگتا ہے۔

Read more

اکیڈمی بنائیں، لاکھوں کمائیں

کیا آپ عشق میں ناکام ہو چکے ہیں؟ محلہ بدر کر دیے گئے ہیں؟ کیا محبوب جوتے مار کے چھوڑ گیا ہے؟ کیا رسوائی آپ کا مقدر ہو چکی ہے؟ کیا ناکامیوں نے گھر کا راہ دیکھ لیا ہے؟ تو بالکل بھی مت گھبرائیے۔ آپ کے ہر مسئلے کا حل ہے ہمارے پاس۔ بلکہ صرف آپ پہ ہی کیا موقوف، ”صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے“ ۔ آہا! ایک شاعر بھی ہمارے ہم نوا ہو گئے ہیں :

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر راہ رکھ دیا

Read more

شاعری اور بھولے بادشاہ

یونیورسٹی کے زمانے کی بات ہے۔ اسائنمنٹ دو چار یار مل کر بنایا کرتے تھے۔ بلکہ بنانی کیا، کاپی ہی کرنی ہوتی تھی۔ سو بیک گراؤنڈ میوزک کا بندوبست لازمی قرار پاتا۔ یہ مشرف بہ ’لیپ ٹاپ‘ ہونے سے قبل کی بات ہے۔ ہمارے ایک دوست نے ’ڈنگ ٹپاؤ‘ قسم کا کمپیوٹر رکھ رکھا تھا۔ ہر بار کی طرح اس دفعہ بھی لیٹ نائٹ قلم کاغذ سے مسلح ان کے ہاں پہنچ گئے۔ کمر ے میں تناؤ کے ماحول کو

Read more