لوگوں کو کئی طرح کے خبط ہوتے ہیں۔ کچھ طنز میں بجھی ہوئی تلوار ساتھ رکھتے ہیں اور کچھ کے پاس گالیوں کا وافر ایمونیشن ہوتاہے۔ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ادھر کسی کو کوئی کام کرتا دیکھیں گے اور ادھر ان کے اندر کا نقاد جاگ اٹھے گا۔ ہمیں ایک ایسے صاحب سے واسطہ پڑا جو نا صرف ’عالم ہر شے‘ تھے بلکہ دوسروں کو اس کی بار بار یاددہانی بھی کراتے تھے۔ ان سے ملاقات سے قبل ہم ’لاعلمی‘ کی دولت سے مالامال تھے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے ہماری کئی اصطلاحات پر اپنے ’کالے علم‘ کا پوچا پھیر دیا ہے۔ ہم جو ان تمام اصطلاحات کو اپنی عقل سے حسب حال کر چکے تھے اور جیسے چاہتے تھے، استعمال کرتے تھے اب اس ’عیاشی‘ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
دراصل ہوا یوں کہ ایک دن وہ اپنی علمیت کے قصے سناتے سناتے ایک سیمینار میں نکل گئے۔ سیمینار میں بیسویں لڑکیاں پونی ٹیل کیے ہوئے تھیں۔ اس سے قبل پونی ٹیل سے متعلق ہمارا مشاہدہ رومان سے بھرپور تھا۔ یہ بالوں کا خاص سٹائل تھا جو نوجوان لڑکیوں تک ہی محدود تھا۔ بہرحال حضرت عالم نے بتایا کہ ’پونی ٹیل‘ گھوڑے کی دم (بلکہ انہوں نے تو پونچھ کہا تھا) کو کہا جاتا ہے۔ یہ سن کر پونی ٹیل بنائے لڑکیوں نے ربڑ بینڈ اتار ڈالے۔ اگر وہ کھلے بالوں میں مزید قیامت نہ ڈھا رہی ہوتیں تو ہم عالم کی اس تھیوری سے انکار بھی کر سکتے تھے۔ تاہم انہوں نے ہمارے ایک رومانوی احساس کو مٹی میں ملا دیا۔ اب جہاں بھی کوئی لڑکی پونی ٹیل میں دکھے اپنا آپ گھوڑا گھوڑا سا لگنے لگتا ہے۔
Read more