کیا پارلیمنٹ کے اختیارات کی کوئی حدود بھی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

27 فروری 1933 کو جرمنی کی پارلیمنٹ رائشٹاگ کی عمارت کو نا معلوم افراد نے آگ لگا دی اور یہ عمارت جل کر تباہ ہو گئی۔ ایک ماہ قبل ہی ہٹلر نے جرمنی کے چانسلر کا عہدہ سنبھالا تھا اور چند روز کے بعد پارلیمنٹ کے انتخابات ہونے والے تھے۔ تحقیقات کے تکلف کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ حکومت نے فوری طور پر شور مچا دیا جرمنی خطرے میں ہے۔ یہ آگ یقینی طور پر جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی نے لگائی ہے تا کہ خانہ جنگی کا آغاز کیا جا سکے۔

چند ہی گھنٹوں میں کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان کی گرفتاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ اگلے روز ہی ہٹلر نے جرمنی کے صدر کو اس بات کا مشورہ دیا کہ جرمنی کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ وہ صدر کی حیثیت سے ایک نیا قانون نافذ کیا جائے۔ یہ قانون رائشٹاگ فائر ڈکری کہلاتا ہے۔

اس قانون کے تحت جرمنی کی آئین کی وہ شقیں معطل کر دی گئیں جن میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی تھی۔ مثال کے طور پر حبس بے جا کے خلاف قوانین، آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کی ضمانت کا قانون، اجتماع کی آزادی کا قانون وغیرہ۔ اسی قانون کے تحت حکومت نے یہ اختیار حاصل کر لیا کہ وہ لوگوں کے خطوط، تاروں اور فون کی گفتگو تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ جب پسند کرے کسی کے گھر کی تلاشی لے سکتی ہے۔ کسی کی جائیداد ضبط کر سکتی ہے۔

یعنی جرمنی کی حفاظت کے دلفریب نعرے کی آڑ میں جرمن لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا تھا۔ اسی ماحول میں پارلیمنٹ کے انتخابات ہوئے۔ کمیونسٹ پارٹی نے اس پکڑ دھکڑ میں انتخابات میں بھر پور حصہ نہ لے سکی۔ پھر بھی ہٹلر کی پارٹی پچاس فیصد سیٹیں حاصل نہیں کر سکی اور انہیں ایک اتحادی پارٹی کو ملا کر حکومت بنانی پڑی۔

ہٹلر اپنے لئے مزید طاقتیں حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن مزید قانون بنانے کے لئے پارلیمنٹ میں موجود اراکین کی دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ضروری تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کے 81 اراکین کو نئے قانون کی مدد سے گرفتار کر کے یا دوسرے طریقوں سے پارلیمنٹ میں آنے سے روکا گیا۔ بعض اور پارٹیوں کو وعدے وعید کر کے ساتھ ملا گیا اور اس طرح ایک نیا قانون Enabling Act منظور کرایا گیا۔

اس قانون کے تحت حکومت کو اس بات کا اختیار دے دیا گیا کہ وہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی قانون بھی بنا سکتی ہے۔ اور کسی ملک سے جو چاہے معاہدہ کر سکتی ہے۔ جرمنی کی سٹیٹ کی کسی اسمبلی کو یہ اختیار نہیں ہو گا کہ وہ ان قوانین کو رد کر سکے۔ دوسرے الفاظ میں قانون ساز اسمبلی کے تمام اختیارات ہٹلر کی حکومت کو منتقل کر دیے گئے۔ ہٹلر کو کسی نئے آئین کی ضرورت نہیں تھی۔ منتخب پارلیمنٹ کی بھاری اکثریت نے اس کی منظوری دی تھی۔ اس کے حق میں 441 اور مخالفت میں صرف 91 ووٹ ڈالے گئے۔

اس طرح جرمنی کی منتخب پارلیمنٹ نے خود اپنے ہاتھوں سے پھندا تیار کر کے برضا و رغبت خود کشی کی تھی۔ اور دنیا کی بد ترین آمریت کی بنیاد کسی مارشل لاء نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون نے ڈالی تھی۔ اگر منتخب پارلیمنٹ خود ہی بد ترین آمریت کو جنم دے سکتی ہے گویا تریاق ہی زہر کا کام کرتا ہے تو اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ اگر سنجیدگی سے عمل در آمد کیا جائے تو اس کا حل ہمارے آئین میں بھی موجود ہے۔ پاکستان کے آئین کے باب 2 میں بنیادی حقوق درج ہیں۔ اور اس کی پہلی شق یعنی آئین کی شق نمبر 8 میں یہ لکھا ہوا ہے کہ

” مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو بایں طور عطا کردہ حقوق کو سلب یا کم کرے اور ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے اس خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہوگا۔“

اس کے نیچے بنیادی حقوق درج ہیں۔ جس میں یہ حق بھی شامل ہے کہ کسی شخص کو جلد از جلد گرفتاری کی وجہ بتائے یا قانون کی اجازت کے بغیر نہ تو گرفتار کیا جائے گا اور نہ نظر بند کیا جائے گا۔ اسے چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا۔ کسی شخص کے گھر کی خلوت پر دست اندازی نہیں کی جائے گی۔

کسی شخص کو شہادت حاصل کرنے کی غرض سے اذیت نہیں دی جائے گی۔ ہر شخص کو اجتماع کی آزادی ہو گی۔ انجمنیں اور یونین بنانے کا اختیار ہوگا۔ اظہار خیال اور پریس کی آزادی ہو گی۔ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی پیروی کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہو گا۔ ہر مذہبی گروہ اور فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام چلانے کا حق ہو گا۔ جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کیا جا سکے گا۔ ہر طبقے کو اپنی الگ زبان اور ثقافت برقرار رکھنے اور فروغ دینے کا اختیار ہو گا۔

یہ سوال لازمی طور پر پیدا ہوگا کہ اگر ان سب حقوق کو آئین میں تحفظ دیا گیا ہے تو پاکستان میں ان حقوق کی مسلسل پامالی کیوں ہوتی رہی ہے۔ اور مسئلہ کا اعلاج کیا ہے؟ پہلا علاج تو یہ ہے کہ جب تک اس مسئلہ کو سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا جاتا، خود پارلیمنٹ کی کوکھ ہی سے آمریت جنم لیتی رہے گی۔ جیسے ہٹلر کی آمریت نے پارلیمنٹ کی کوکھ سے ہی جنم لیا تھا۔ اور پاکستان کی پارلیمنٹ نے دو مرتبہ آمروں کے بنائے ہوئے تمام قوانین پر مہر تصدیق ثبت کی تھی۔

پاکستان کا آئین یہ کہتا ہے کہ مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کر سکتی جو کہ ان حقوق کو سلب کرتا ہو یا کم کرتا ہو یا معطل کرتا ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایسا قانون بنائے یا آئین میں ایسی ترمیم کرے جو کہ ان بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرتی ہو۔ عدالت اور دیگر حکومتی ادارے بھی اس کے پابند ہیں۔

آج کل اس بات پر بہت بحث ہوتی ہے کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں کام کرے۔ تو ہر ادارے پر پہلی حد یہی ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرے۔ اکثریت کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی قلیل تعداد کے گروہ کے بنیادی حقوق اس بنیاد پر دست اندازی کرے کہ یہ فیصلہ اکثریت نے کیا ہے۔ اس لئے یہ جمہوری فیصلہ ہے اور تم پر لازم ہے کہ اسے قبول کرو۔

اگر آئین میں کوئی تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے تو بنیادی انسانی حقوق کو زیادہ محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ آئین میں بنیادی حقوق کے باب میں بعض بنیادی حقوق کو بعض شرائط سے محدود کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر جہاں آزادی اظہار کا ذکر ہے وہاں اسے اور شرائط کے علاوہ امن عامہ اور غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے تقاضوں کے تابع قرار دیا گیا ہے۔

جہاں مذہبی آزادی کا ذکر ہے وہاں اسے قانون امن عامہ اور اخلاق کے تابع رکھا گیا ہے۔ اس قسم کی ’پخیں‘ اگر ختم نہیں کی جا سکتیں تو انہیں کم ضرور کرنا چاہیے۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ 5 اگست 1974 کو قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب نے کہا تھا کہ اگر پارلیمنٹ چاہے تو آئین کا آرٹیکل 8 جس میں بنیادی حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے مکمل طور پر ختم بھی کر سکتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا خیال تھا کہ پارلیمنٹ بنیادی حقوق کو سلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ [کارروائی سپیشل کمیٹی ص 36 تا 40 ]

لیکن جب 2015 میں سپریم کورٹ میں اکیسویں آئینی ترمیم کو چلینج کیا گیا تو اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ لکھا کہ

Parliament does not have unbridled or unfettered Power to amend the Constitution
پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا بے لگام یا بے محل ترمیم کرنے کا اختیار موجود نہیں ہے۔

جس طرح پارلیمنٹ جمہوریت کو ختم کر کے موروثی بادشاہت کو قائم کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکتی، غلامی کو جائز قرار نہیں دے سکتی، اسی طرح بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنے کا کوئی قانون یا ترمیم بھی منظور کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •