انگریز کے گیراج میں قیدی بادشاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفرنے جب انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کا اعلان کیا تو غداروں کی وجہ سے اسے انگریزوں کے آگے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بہادر شاہ ظفر پر غداری کا جھوٹا مقدمہ بنا کر اسے رنگون میں قید رکھنے کی سزا سنائی۔ ان دنوں انگریزکیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا۔ جب بہدر شاہ ظفر کو قیدی بنا کر اس کے پاس بھیجا گیا تو وہ دل میں اس بات پر دکھی ہوا کہ مغل بادشا کو قیدی بنا کر ایسی جگہ بھیج دیا گیا ہے جہاں اس کی حیثیت کے مطابق کوئی قید خانہ بھی نہیں تھا۔

اسی کشمکش میں نیلسن بادشاہ کو اپنے ساتھ اپنی رہائش گاہ پر لے آیا۔ بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود بادشاہ تھا اور نیلسن کا ضمیر گوارا نہیں کر رہا تھا کہ وہ بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو جیل میں پھینک دے جہاں ایک عام قدی کا رہنا بھی کسی بڑی سزا سے کم نہ تھا۔ نیلسن کو ایک طرف بادشاہ سے ہمدردی تھی تو دوسری جانب اس نے اپنے حکام کے احکامات پر عملدرآمد بھی کرنا تھا چنانچہ اس نے چند لمحے کچھ سوچا اورپھر اس مسئلے کاحل نکال ہی لیا جس کسی حد تک بہتر تھا۔

نیلسن نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اورمغل بادشاہ کو اپنے گیراج میں قید کر دیا۔ 17 اکتوبر 1858 ء کو ایک عظیم مغل سلطنت کابادشاہ بہادر شاہ ظفر اس گیراج میں قیدی بن کر رہنے لگا۔ اس سزا سے قبل انگریزوں نے بادشاہ کے چشم و چراغ، شہزادوں اور اس کے تمام وفاداروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور بہدر شاہ ظفر کو اسی وجہ سے ایک دور مقام رنگون میں قیدی بنایا گیا تھا کہ دوبارہ کوئی بادشاہ کو نہ تو مل سکے اور نہ ہی آزادی کی جنگ کو ہوا مل سکے۔

نیلسن نے بیمار بادشاہ کو ایک خادمہ بھی دے رکھی تھی۔ بہادر شاہ ظفر کو اپنوں کو کھونے کے غم کے ساتھ ساتھ جس طرح ایک گیراج میں قیدی کی زندگی گزارنا پڑ رہی تھی، یہ بات اسے ہر روز دل ہی دل میں کھائے جا رہی تھی جس کی وجہ سے بادشاہ دن بہ دن کمزور اور بیمار ہوتا گیا۔ ایک روزبدنصیب بادشاہ کی خادمہ نے شدید پریشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے پر دستک دی اور اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا۔ ملازمہ کی آواز سن کر نیلسن نے اپنا پسٹل اٹھایا، گارڈز کو ساتھ لے کر گیراج میں جب داخل ہوا تو اندر بدبو، اندھیرا اور موت کی سی خاموشی تھی۔

اردلی لیمپ لے کر بادشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھا فرش پر، اس کا ننگا سر تکیے پر تھا لیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی، آنکھوں کے ڈھیلے پپوٹوں کی حدوں سے باہر ابل رہے تھے، گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ ایک بادشاہ کی یہ حالت نیلسن کے لئے تکلیف دہ تھی اس نے بادشاہ کے دل کی دھڑکن چیک کرنے کے لئے کی گردن پر ہاتھ رکھا تو محسوس کیا کہ بادشاہ کی سانسیں تھم چکی تھیں، اس کی بے بسی اور لاچارگی پر مبنی قید ختم ہو چکی تھی۔

بادشاہ آزاد فضا میں سانس لینا چاہتا تھا مگر اسی خواہش کے ساتھ وہ زندگی سے آزاد ہو کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ بادشاہ کی نمازہ جنازہ استاد حافظ ابراہیم دہلوی نے پڑھایا۔ استاد حافظ ابراہیم دہلوی کی آنکھوں کے سامنے اس وقت وہ مناظر تھے جب بہادر شاہ ظفر کو دہلی کے لال قلعے میں تاج پہنایا گیا تھا۔ اس وقت ہندوستان کے نئے بادشاہ کو سلامی دینے کے لیے پورے ملک سے لاکھوں لوگ دلی آئے تھے لیکن بادشاہ کے جنازے میں کوئی بھی نہ تھا اور پھر جب قبر کا مرحلہ آیا تو پورے رنگون شہر میں آخری تاجدار ہند کے لیے دوگز زمین تک دستیاب نہیں تھی۔

آخرنیلسن نے سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں قبر کھدوا دی اور بادشاہ کو خیرات میں ملی ہوئی مٹی میں دفن کر دیا گیا۔ بادشاہ کو دفن کرنے کے بعداستاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی نے سورہ توبہ کی تلاوت شروع کر دی۔ تلاوت سنتے ہوئے کیپٹن نیلسن ڈیوس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نیلسن نے آخری مغل بادشاہ کو سلیوٹ پیش کرنے کے لئے اپنا ہاتھ بلند کیا۔ دنیا سے جاتے جاتے انگریز کا سلیوٹ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ جس جنگ آزادی کی بنیاد بہادر شاہ ظفر نے رکھ دی تھی وہ ایک نہ ایک دن ضرورکامیاب ہوگی۔ نیلسن کے آخری سلیوٹ کے ساتھ مغل سلطنت کا سورج بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی زندگی ہمیشہ کے لئے دنیا کے حکمرانوں کے لئے ایک سبق آموز کہانی چھوڑ گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •