ترکش ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی اور اس پر ہونے والی تنقید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند ماہ بیشتر ترکی کا ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی دیکھنے کا آغاز کیا، اس ڈرامہ کو کسی حد تک افسانوی اور تاریخ کا بہترین امتزاج کہیں تو یہ زیادتی نہیں ہوگی، یہ ڈرامہ دیکھتے وقت آپ محسوس کریں گے کہ اس کی کہانی، ایکٹنگ، لوکیشن اور کیمرہ ورک پر کس قدر محنت کی گئی ہے، ایک دو اقساط کو دیکھنے کے بعد آپ اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو مزید دیکھنے سے روک نہیں پاتے۔ ضروری نہیں کہ آپ کو تاریخ سے دلچسپی ہو تو آپ اسے دیکھیں، عدم دلچسپی بھی ایک دفعہ دیکھنے کے بعد دلچسپی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

رمضان میں پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر اس کواردو ڈبنگ کے ساتھ نشر کرنے کا اہتمام کیا گیا اور جہاں پاکستان میں اس کو انتہائی پسندیدگی حاصل ہوئی وہاں کچھ لوگوں کو اس پر اعتراض بھی ہوا۔ میں ارطغرل غازی کے اچھے اور برے پہلو، اور اس پر ہونے والی تنقیدکا جائزہ آپ کے سامنے رکھوں گا تاکہ اس کو دیکھنے والے کے علم میں اس کا ہر پہلو واضح ہو۔

ڈرامہ کے منفی پہلو:

1۔ ہر ذی شعورشخص اس بات سے اتفاق کرے گا کہ کسی بھی قسم کا ڈرامہ اور فلم دیکھنا وقت کا زیاں ہے۔

2۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ڈرامہ میں تاریخ کی اصل حقیقت آٹے میں نمک کے برابر ہے اگر آپ کہانی اور کرداروں کو تاریخ کی کتابوں میں تلاش کریں گے تو چند صفحات ہی تلاش کرپائیں گے۔

3۔ اس کو دیکھنے والے اپنے ذہن میں اس کی کہانی اور کرداروں کو حقیقی تاریخ ہی تصور کرنے لگتے ہیں۔ جبکہ اس میں حقیقت سے زیادہ افسانہ ہے۔

4۔ اس ڈرامہ میں دلفریب موسیقی کی دھن آپ کو سننے کو ملے گی جس سے موسیقی سے مزید شغف بڑھتا ہے۔

5۔ ڈرامہ میں خوش شکل مرد اور خواتین اداکار دیکھ کرنوجوانوں کے دلوں میں خاص رجحان پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

6۔ ڈرامہ میں کوئی ایسی بات یا ایسا کلچر پیش ہو جائے جس سے ناضرین اس کو اسلام کی یا مسلمانوں کی اصل ثقافت سمجھنا نہ شروع کردیں۔

7۔ خاص رمضان مبارک میں شروع کرنا لوگوں کو اللہ کی عبادت اور ذکر سے دور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈرامہ کے مثبت پہلو:

1۔ ڈرامہ کو دیکھ کر لوگوں میں اسلامی تاریخ اور اسلام کے اصل ہیروز کے بارے میں جاننے کا تجسس بڑھ جاتا ہے، اس طرح یہ ڈرامہ لوگوں کو اسلام کے قریب آنے کا سبب بن سکتا ہے۔

2۔ ڈرامہ کو دیکھ کر ایک اچھا کلچرمعاشرے میں پروان چڑھ سکتا ہے، جس کی مندرجہ ذیل مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں :

٭ ا اللہ کی رضا /حکم کو ہر چیز پر مقدم رکھنا دکھایا گیا ہے۔

٭ ا اللہ کے رسول کا نام مبارک آتے ہی تعظیم میں سر جھکا کر دلوں پر ہاتھ رکھنا۔

٭ دعا کے ساتھ طعام کا شروع کرنا اورسب کا ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا اور خود کھانے سے پہلے ساتھ بیٹھے افراد کو حصہ دینا۔

٭ ا اللہ کی راہ میں جہاد کو بدنام کرنے کی کوشش کا بہترین انداز میں جواب دینا اور لوگوں میں اس کا جذبہ پیدا کرنا۔

٭ جرگہ/قبیلے کے کسی فیصلے /معاملے کو سب کے سامنے رکھ کرمشورہ کرنا اور مشورہ سے پہلے اللہ رب العزت سے ہدایت اور صحیح فیصلہ کرنے کی استدعاکرنا۔

٭ ارطغرل، حضرت ابن عربی اور امام مسجد کے دلفریب انداز میں، دلوں کو چھو لینے والی حکایتیں بیان کرنا، جس سے جذبہ اسلامی کو بیدار کرنا مقصد تھا۔

٭ فحش باتیں اور فحش لباس سے بالکل اجتناب کرنا۔

٭ دنیاکی مختلف زبانوں میں ترجمے اور سب ٹائیٹل کی وجہ سے غیرمسلموں کو اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بنا۔

٭ ڈرامہ کے اداکاروں نے ایک ہی لباس میں سیکڑوں اقساط فلم بند کراکے جدید دور کے فیشن زدہ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

٭ میڈیا کو ہی ذریعہ بنا کر ان کے پروپیگنڈے کو جوابی بیانیہ دیا۔
٭ نوجوانوں میں دورحاضر کے ہیروز کا تصور بدل دیا۔

3۔ بڑی حد تک کوشش کی گئی کہ ڈرامہ میں ایسی چیزیں شامل نہ کی جائیں، جو کہ تاریخ، اسلام اور ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتیں، اور وہ ناضرین کو ان کے قریب کرنے کا ذریعہ بنے، نہ کہ دور کرنے کا سبب ہو۔

4۔ واعظ اور کتابوں کا مقصددلوں اور سوچ میں تبدیلی لانا ہوتا ہے، کیا اس ڈرامہ سے محسوس نہیں ہوتا کہ جو مقصددسیوں کتابوں اور واعظوں سے حاصل ہوتا تھا وہ اس ایک ڈرامہ نے حاصل کر کے دکھایا۔

5۔ بے شک ڈرامہ سیریز میں شامل سب کچھ تاریخ نہیں ہے لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہوگامجموعی طور پر اس ڈرامہ کاکیا اثر ہواہے۔

6۔ ڈرامہ دیکھ کرنوجوانوں کو معلوم ہوا کہ دلیر اور غیرت مند حکمران کسے کہتے ہیں۔

7۔ نوجوانوں میں جہاد اور اسلامی ثقافت کی بیداری پیدا کرنے میں ایک خوشگوار ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہوا۔

اب آتے ہیں اس ڈرامہ پر تنقید کرنے والوں پر جوابی تنقید:
تنقید کرنے والوں (مذہبی اور سیکولر) طبقہ کی تنقید صرف ان دو چیزوں پر ہی بنیاد رکھتی ہے۔
الف۔ نامحرم عورتیں اس ڈرامہ میں ہیں اس لئے دیکھنا حرام ہے۔
ب۔ موسیقی ہے اس لئے اسے دیکھنا حرام ہے۔
جواب الجواب:

کیا پاکستان میں ٹیلیوژن آنے کے بعد، ڈرامے اور فلمیں نہیں بنیں؟ اور اگر بنے تو ان میں خواتین کردار ادا نہیں کرتیں رہیں، توتنقید اور فتوی دینے والوں کی ان پر نظرکیوں نہیں نہیں پڑی، کیا اسی شدومد کے ساتھ انھی ڈراموں پر تنقید اور فتوی نہیں بنتا تھا؟ اگر دیکھا جائے توزیادہ تر ہمارے ڈراموں اور فلموں کا بنیادی مقصد ہی نوجوانوں میں عشق و محبت کو پروان چڑھانے کے طریقے وضع کرنا ہی رہ جاتا ہے۔ ، جس کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل بری طرح متاثر ہوئی۔

کیا اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ جو اثر ان کے واعظ/تقریریں اور ان کی کتابوں نے نہیں ڈالا وہ اس ایک ڈرامہ سے حاصل ہو گیا، ہمارا اصل مقصد تو لوگوں میں اپنے اصل ہیروز اور کسی حد تک اسلامی ثقافت کی یاد دہانی کرانی ہے چہ جایکہ وہ تقریروں، کتابوں یا واعظ سے حاصل ہوں یا کسی اسی طرح کے ڈراموں سے حاصل ہو۔ یہ تو خوش آئند ہے کہ ہمارے اس نوجوان طبقہ کو اس ڈرامہ نے متاثر کیا ہے جو کہ انڈین ڈرامہ اور فلمیں دیکھ کر پروان چڑھی ہیں۔ لوگو۔ ں کو متاثر کرنے کے لئے اسی دور کے رائج طریقے بھی استعمال کرنے چاہے۔ جہاں تک بات ہے ڈرامہ میں افسانہ زیادہ ہے اصل تاریخ سے، تو کیا ہمارے تاریخ دان اور علماء تاریخ بیان کرتے وقت مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتے؟ حتی کے دین کے حوالے سے بھی مبالغہ شامل کردیتے ہیں۔

پاکستان میں اور اسلامی دنیا میں ڈرامہ میں شامل اداکاروں کی عام لوگوں میں پذیرائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان اپنی تاریخ پر فخر اوراپنے بہادر اسلاف سے کتنی محبت رکھتے ہیں، حالانکہ ڈرامہ میں شامل اداکاروں نے تو صرف اداکاری کی ہے۔ ہمیں کوئی کیسے اپنی تاریخ اور ثقافت پیش کرنے سے روک سکتا ہے جبکہ اسلام دشمن اور لادینی قوتیں اپنا باطل نظریہ پوری قوت سے پیش کرنے میں دن رات ایک کیے رکھتے ہیں۔

میں نے دونوں پہلو اچھے اور برے آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں اور ساتھ اس پر ہوئی تنقید پر تبصرہ بھی، امید ہے آپ کے سامنے کسی حد تک اس ڈرامہ کے حوالے سے الجھنیں واضح ہوگی ہوں گی، اور ڈرامہ دیکھتے وقت اس کا ہر پہلو آپ کے سامنے ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ارشد، اٹلی کی دیگر تحریریں