کیا ہے کس نے اشارہ؟


کراچی و حیدر آباد کو ملا کر ایم کیو ایم (پاکستان) نے کل 6 نشتوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ جس وقت پی ٹی آئی نے ان کو نفیس قرار دے کر حکومت میں شامل کیا تھا اس وقت راقم نے ایک کالم تحریر کیا تھا جس میں اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی 6 نشتوں کو 6 نہیں 6 سو سمجھا جائے۔ وجہ اس خدشے کی یہ تھی کہ ایم کیو ایم ہر دور میں سخت بارگینر ثابت ہوتی رہی ہے۔ ویسے تو یہ سیاست کی پچ پر ہر باہر جانے والی بال کو بلا اٹھا کر اور باؤنسرز کو جھک کر چھوڑ کر کھیلتی ہے لیکن کمزور گیند پر چوکے چھکے لگانے سے کبھی نہیں چوکتی۔ سیاست کا کوئی بھی ایسا موقع جس میں یہ اپنے لئے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے، کسی کا لحاظ کیے بغیر اسے کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔

ایم کیو ایم کوئی سی بھی ہو، خصلتیں سب کی ایک ہی جیسی ہیں۔ ایم کیو ایم میں سب سے پہلا دھڑا ایم کیو ایم حقیقی کے نام سے وجود میں آیا تھا۔ وہ آج تک نہ صرف موجود ہے بلکہ اب تک بساط بھر ہر موقع سے اپنے وجود میں لانے والوں سے خراج وصول کرتا دکھائی دیتا ہے۔ بے شک وہ اہل کراچی کی عوامی تائید حاصل کرنے میں آج تک کامیاب تو نہیں ہو سکا لیکن وہ اپنے لئے اعلیٰ سطح پر اب تک ہر مراعت وصول کرتا رہا ہے۔ مصفیٰ کمال کی صورت میں ایک گروپ اور سامنے آیا۔

اس کی خصلتیں بھی ایم کیو ایم والوں سے ذرہ برابر بھی مختلف ثابت نہ ہو سکیں۔ ایم کیو ایم پاکستان گوکہ پہلے بھی ایم کیو ایم پاکستان ہی تھی لیکن مائنس الطاف حسین کے بعد بے شک اس میں وہ دم خم باقی تو نہیں رہا لیکن جس طرح رسی جل جانے کے بعد بھی اس کے بل نہیں جاتے، بالکل اسی طرح باقی ماندہ ایم کیو ایم کی رسی جل جانے کے باوجود بھی اس کے بل ویسے کے ویسے ہی ہیں جس کا مظاہرہ وہ ایک مرتبہ پھر سے کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

ایم کیو ایم کی ہمیشہ یہ خوش قسمتی رہی ہے کہ وہ ہر حکومت کے لئے ایک ایسا مہرہ رہی جو شطرنج کی بساط پر ہمیشہ شاہ کی محافظت کا ایسا آخری سہارا ہوتا ہے جس کے پٹ جانے یا باغی ہو جانے کے بعد مخالفین کے پیدل بھی شیر بن جاتے ہیں اور جس کے نکل جانے کے کے بعد شاہ کی شکست یقینی ہو جاتی ہے۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ جب بھی اس کو حکومت سے نکالا گیا یا یہ خود باہر نکل گئی، مضبوط سے مضبوط حکومت تا دیر قائم رہنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

موجودہ حکومت سے قبل جتنی بھی حکومتیں آئیں وہ تو پھر بھی کسی حد تک محض ایم کیو ایم کے سہارے کی محتاج نہیں رہیں لیکن اس حکومت کی یہ بد قسمتی ہے کہ دیگر بہت ساری چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو شامل کرنے کے باوجود بھی ایم کیو ایم کی یہ 6 نشتیں موجودہ قومی اسمبلی میں 6 سو نشستوں کے برابر ثابت ہوتی رہی ہیں۔ اگر حکومت اب تک قائم ہے تو اس میں ایم کیو ایم کی یہی 6 نشستیں کام آتی رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن کے سہارے حکومت، حکومت کرتی چلی آ رہی ہے، اس کو زیادہ سے زیادہ مراعات دی جاتیں اور ان کے صائب مشوروں اور مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا لیکن ڈھائی سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس پر حکومت کی جانب سے سنجیدگی اختیار نہیں کی گئی۔ بظاہر ایسا نہ کرنے کا کوئی بھی جواز سامنے نہیں آ سکا سوائے اس کے کہ کراچی کے ساتھ ایوب خان کے زمانے سے لے کر اب تک امتیازی رویوں کا ایک ایسا سلسلہ چلا ہے جس کا آخری سرا دکھائی ہی نہیں دے رہا۔

ممکن ہے کہ موجودہ حکومت کے سامنے ایم کیو ایم نے ایسے مطالبات رکھے ہوں جن کو من و عن مان لینا ممکن نہ ہو لیکن مردم شماری کا مطالبہ نہ صرف سو فیصد جائز اور حقیقی ہے بلکہ یہ مطالبہ کراچی کے سارے طبقوں کا رہا ہے۔ جس شہر کے صرف شناختی کارڈ مردم شماری میں شمار کی جانے والی آبادی سے زیادہ ہوں اس شہر کی کل آبادی جاری کارڈوں سے کس طرح کم ہو سکتی ہے۔ یہ مطالبہ کوئی ایسا مطالبہ نہیں تھا جس کو مان لینا خلاف عقل و فہم یا ناجائز سمجھنے کے قابل تھا۔ آج وہی ایم کیو ایم جو حکومت کو اب تک کندھا دیے ہوئے تھی اس نے محض اسی ایک بات کا سہارا لے کر حکومت سے باہر آنے کا جو اعلان کیا ہے وہ حکومت کے لئے نہایت غور طلب ہے جس پر عمل نہ کر کے ممکن ہے کہ وہ اپنا دھڑم تختہ ہی کرا بیٹھے۔

یہاں تمام اہل پاکستان کو یہ بات بھی خوب اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ موجودہ مائنس الطاف حسین والی ایم کیو ایم اگر حکومت میں شامل تھی تو وہ ”کسی“ کے کہے بغیر نہیں تھی۔ اب تک جو بغیر آنکھیں نکالے حکومت کا حصہ تھی تو بھی ”کسی“ کے اشارہ ابرو پر تھی اور اگر اب وہ باہر آنے کا اشارہ دے کر سڑکوں پر احتجاج کی دھمکیاں دے رہی ہے تب بھی کہیں نہ کہیں سے سگنلز کے بغیر ایسا نہیں ہو رہا ہوگا۔ اس سے کئی باتوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ایک یہ کہ اب موجودہ حکومت کے دن لانے والوں نے اچھی طرح گن لئے ہیں، دوئم یہ کہ ”کسی“ کے ارادے تبدیلی کے فریب سے باہر آ چکے ہیں اور آخری بات یہ کہ بساط پر ایم کیو ایم کے پیادے اس پوزیشن میں آ گئے ہیں کہ وہ فرزیں سے بھی زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ حقیقت کیا ہے اور کیا نہیں، ہم ان کے حکومت سے باہر آنے کے اشارے پر صرف اتنا ہی عرض کر سکتے ہیں کہ

تجھے بہانہ راحت ہے انتظار اے دل
کیا ہے کس نے اشارہ کہ ناز بستر کھینچ

Facebook Comments HS