کیا ہمارا ذریعہ روز گار ہمارا تشخص ہے؟



آپ کی اکثر ایسے افراد سے ملاقات ہوئی ہو گی جو خود کو ڈاکٹر، انجینئر، میجر کہہ کے متعارف کرواتے ہیں اور اپنے ناموں کے ساتھ یہ سابقے پیوست کر لیتے ہیں۔ وہ پیشے جو ہم اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے اختیار کرتے ہیں وہ ہماری پہچان کیسے اور کیونکر بن جاتے ہیں۔ میں کون ہوں اور آپ کون ہیں جیسے سوالات کا جواب میں وکیل ہوں یا منیجنگ ڈائریکٹر ہوں یا کسی کمپنی کا چیف ایگزیکٹو افسر ہوں کیسے ہو سکتا ہے۔

ہم جب اپنی ذات کا تعین اپنے عہدے سے کرتے ہیں تو پھر ہمارے وجود کی عمارت ہمیشہ زلزلوں کی زد میں رہتی ہے۔ ملازمت تو آنی جانی چیز ہے، آج ہے تو کل نہیں ہے۔ میری ملاقات جب اپنے آپ سے اپنے پیشے کے حوالے سے ہوتی ہے تو میں خود کو اپنی منشا سے ایک پنجرے میں قید کر لیتا ہوں اور میرے تالے کی چابی بھی کہیں کھو جاتی ہے۔

اسی طرح جب ہمارے اثاثے ہمارا تشخص مرتب کرتے ہیں تو پھر بھی ہم پھسلتی ریت پر سوار ہوتے ہیں۔ ہماری ملکیت میں بہت کچھ ہو سکتا ہے لیکن کسی کی ملکیت کو اس کا تعارف اور تشخص سمجھ لینا ایک فاش غلطی ہے۔ اس خطا کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب آپ کسی ایسے شخص سے کوئی رشتہ قائم کرتے ہیں جو بظاہر تو اپنی ملکیت کا مالک ہوتا ہے لیکن ذرا نیچے اتر کر دیکھیں تو وہ اپنی ملکیت کی ملکیت میں ہوتا ہے۔

میں اگر صرف وہی کچھ ہوں جو میری ملکیت میں ہے تو اگر مجھ سے خدانخواستہ میری ملکیت چھن گئی تو میں تو اپنے آپ کو پہچان بھی نہ پاؤں گا۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم اپنی ملازمتوں اور اپنے کاروباروں سے شدت کے ساتھ وابستہ کیوں رہتے ہیں۔ ہمارے کاروبار اور ہماری نوکریاں نہ صرف ہمارا ذریعہ روزگار ہیں بلکہ وہ تو ہمیں ہمارا تشخص بھی عطا کرتی ہیں۔ جس طرح ایک محبوب کے دو عاشق ایک دوسرے کے رقیب بن جاتے ہیں بالکل اسی طرح ایک پوزیشن کے دو امیدوار ایک دوسرے کو دھول چٹانے کے لئے تدابیر کرتے رہتے ہیں۔

سرکاری ونجی اداروں میں جو خانہ جنگی محوپرواز رہتی ہے، اس کا سبب بھی حصول اختیارات کی یہی رسہ کشی ہے۔ وہ حضرات اور صالحہ بیبیاں جو کسی طور اختیارات کے حصول میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان کے سروں پر لیڈر شپ کا ہما بیٹھ جاتا ہے اور جسے پاپڑ بیل بیل کر حاصل کیا جائے اس کا پہچان بن جانا یقینی ہے۔ اس لیے اہل اقتدار جب آئینے میں اپنی صورت دیکھتے ہیں تو انہیں اپنے جاہ وحشمت سے بھر پور ٹائٹیلز دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو انسان نہیں بلکہ اپنے اختیارات اورکمپنی کا مالک سمجھتے ہیں۔

طاقت کے پجاری بھی طاقت کے ارتکاز میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ طاقت کی برابر تقسیم جمہوریت کا حسن تو بے شک ہوگا لیکن انسان کی نفسیاتی ساخت میں اپنے لیے اختیارات و طاقت کی ذخیرہ اندوزی کا میلان کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ عوام الناس بھی اپنی اندھی تقلید سے اہل اقتدار کو اپنی من مانی کرنے کی کھلی اجازت دے دیتے ہیں۔ ویسے بھی ہر انسان کے اندر ایک بادشاہ مخمل کا کمبل اوڑھ کر سویا ہوتا ہے اور رعایا کی خبر پاتے ہی یہ بادشاہ بیدار ہو جاتا ہے اور رعایا کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا مبارک عمل شروع کر دیتا ہے۔ یہ اور بات کہ ہم میں سے اکثریت اپنی رعایا کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے اندر کے بادشاہ کا گلا خود ہی گھونٹ دیتی ہے اور ان کے آگے سر تسلیم خم کر لیتی ہے جنہیں اختیارات کو اپنی جانب مقناطیسی کشش کے ساتھ کھینچنے کا فن آتا ہے۔

مال و دولت دنیا اور پر کشش عہدوں کے ذریعے جو ریت کا محل بنایا جاتا ہے، موت کا آہنی ہاتھ اسے ایک ہی جھٹکے میں مسمار کر دیتا ہے اور پھر جسد خاکی کو سب میت سے تعبیر کرتے ہیں اور اسے شہر خموشاں کے سپرد کرنے کی سب کو بہت جلدی ہوتی ہے۔ اگر یہی انجام ہے تو پھر ہمیں اپنی ذات کا تعین آسمانی اقدار کی پاسداری اور ان پر عمل کر کے کرنا چاہیے۔ تمام آسمانی کتب متفق ہیں کہ جو نوالہ ہم نے کھاپی کر ہضم کر لیا وہ تو زمین کا حصہ بن جائے گا البتہ ہمارا جو عمل دوسروں کی زندگی میں توازن پیدا کر ے گا وہ ابدیت سے ہمکنار ہو گا اور ہماری ایسی پہچان ہوگا جس کے نیچے سے زمین سر کنے کا احتمال قطعاً نہیں ہوگا۔

Facebook Comments HS