بے نظیر کو گولی اور نواز شریف کو ہٹانے کا منصوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اسلام آباد ہائی وے پر میاں نواز شریف کی ریلی کے انتظار میں کھڑے بار بار میں بات دوہرا رہا تھا کہ ریلی کی آمد میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے تو جواب ملتا ریلی میں بہت رش ہے اس لئے یہاں تک پہنچنے میں وقت لگے گا، پھر کسی نے اطلاع دی کہ ریلی پر فائرنگ کی گئی ہے اور متعدد کارکن زخمی ہو گئے ہیں لیکن میاں صاحب بخیریت ہیں، زخمی کارکنوں کو فوری طور پر ہسپتال روانہ کیا گیا اور ریلی دوبارہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئی، ایک طویل انتظار کے بعد ریلی اس مقام پر پہنچی جہاں ہم کھڑے تھے تو ہم نعرے بلند کرتے ریلی کے ساتھ شامل ہو گئے۔

کری روڈ جو ہائی وے کی نسبت کافی تنگ تھا ایک دم اتنی بڑی ریلی کے داخل ہونے سے پوری طرح جام ہو گیا اور عوام کے بے پناہ ہجوم کے باعث گاڑیاں کافی دیر ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ پا رہی تھیں، پھر مشاق کارکنوں کے ایک دستے نے ریلی کو آگے بڑھانا شروع کیا ریلی کے راستے میں جگہ جگہ سٹیج لگا کر استقبال کیا جا رہا تھا، ایک بڑا سٹیج صادق آباد چوک میں لگایا گیا تھا جہاں میاں صاحب نے رک کر کارکنوں سے خطاب بھی کرنا تھا، کارکن اور ووٹر صبح سے اپنے محبوب قائد کی آمد کے منتظر تھے۔

خدا خدا کر کے وہ لمحہ آن پہنچا اور میاں صاحب کی قیادت میں قافلہ صادق آباد چوک پہنچا، اچانک سیکیورٹی پر مامور گاڑیوں کے سائرن بجنا شروع ہو گئے اور میاں صاحب کی گاڑی نے رفتار پکڑ لی اور ان کے پیچھے چند مزید گاڑیاں تیزی سے نکلنے لگیں، ہمیں محسوس ہوا کہ کوئی غیر معمولی صورتحال ہے لہٰذا ہم بھی ان گاڑیوں کے تعاقب میں روانہ ہو گئے، اس سفر کا اختتام سینٹرل ہسپتال پر ہوا جہاں میاں صاحب سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر منزل کی طرف روانہ ہوتے دکھائی دیے۔

ہسپتال کے دروازوں کے شیشے جا بجا ٹوٹ کر بکھرے پڑے تھے اور پیپلز پارٹی کے کارکن مضطرب کھڑے ایک دوسرے سے سوالات کرتے دکھائی دے رہے تھے اور کچھ دعا کے لئے ہاتھ بلند کیے نظر آ رہے تھے، ایک سینئر عہدے دار سے پوچھا تو عقدہ کھلا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو گولی لگی ہے اور وہ شدید زخمی ہیں، سن کر دھچکا لگا اور ہم نے دعائیں کرنا شروع کر دیں کہ اللہ بی بی کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

چند ہی لمحوں بعد میاں صاحب سیڑھیوں سے نیچے آتے دکھائی دیے، ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھ کر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ان کو گھیر لیا اور بی بی کی خیریت دریافت کرنے لگے، میاں صاحب کے منہ سے بمشکل یہ الفاظ نکلے ”ظالموں نے بی بی کو شہید کر دیا“ ۔

یہ سن کر ایسے لگا جیسے ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہے، ایک دم کارکنوں میں غم و غصہ پھیلنا شروع ہو گیا تو بڑے بھائی جو میرے ساتھ تھے گویا ہوئے کہ چلو یہاں سے کسی بھی وقت شہر کی صورتحال بگڑ سکتی ہے، ہم ہسپتال سے گھر کی طرف روانہ ہو گئے، راستے میں مری روڈ جگہ جگہ آگ لگائی جا رہی تھی اور پیپلز پارٹی کے کارکن اکٹھے ہونا شروع ہو گئے تھے، بمشکل گھر تک پہنچے، والدہ نے مجھے دیکھا تو کہا تمہاری آنکھیں کیوں لال بوٹی ہو رہی ہیں، میرے منہ سے روتے ہوئے نکلا کہ بی بی کو شہید کر دیا گیا ہے، والدہ بھی ایک دم پلنگ پر ڈھے سی گئیں۔

اس المناک واقعہ کے بعد جو کچھ ہوا وہ ایک تاریخ ہے لیکن میں سوچتا تھا کہ نواز شریف کی ریلی پر فائرنگ اور بی بی کی شہادت ایک ہی دن میں دو بڑے لیڈروں کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کا ایک بھیانک منصوبہ تھا۔ اس منصوبے میں اپنے ہدف کا نصف تو حاصل کر لیا گیا جبکہ باقی نصف کے حامل نواز شریف آج بھی نظام کی درستگی کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ میں اپنی زندگی خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان کے پورے خاندان کو بد ترین جبر کا سامنا ہے۔

آج بے نظیر بھٹو کی شہادت کو تیرہ برس گزر گئے۔ ملکی تاریخ کا یہ المناک سانحہ آج بھی سوال کر رہا ہے کہ اس ملک کی تقدیر میں کبھی سچی جمہوریت کا سورج طلوع ہو گا بھی یا ہم بھی بی بی کی طرح اس خواب کی تعبیر کی حسرت لئے مٹی میں جا سوئیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اعجاز بلوچ، کوئٹہ کی دیگر تحریریں