سسٹم ٹھیک کرنے والے اناڑی ماہرین کی استادی

سنیچر کے روز کسی اہم کام کے سلسلے میں ڈی ایچ اے جانا ہوا جی ٹی روڈ سے گزر رہا تھا کہ گاڑی کے اگلے حصے سے ”ٹھڑلہ ٹھڑ“ کی آوازیں آنا شروع ہو گئی فکر نے آن گھیرا ڈی ایچ اے میں کام نمٹانے کے بعد واپس راولپنڈی آیا۔ چچازاد کو کال کی کہ گاڑی کے اگلے حصے سے ”ٹھڑلہ ٹھڑ“ کی آوازیں آ رہی ہیں کسی اچھے میکینک کے بارے میں بتائیں تاکہ گاڑی ٹھیک کروا سکوں۔ کزن نے بتایا کہ کمرشل مارکیٹ میں بہت اچھا کاریگر ہے کام ایمانداری سے کرتا ہے اس کے پاس کاریگروں کی ٹیم بھی بہت اعلی ہے۔ عام روٹین ہے کہ گاڑی ورکشاپ میں جائے تو منٹوں کا کام گھنٹوں اور گھنٹوں کا کام دنوں میں مکمل ہوتا ہے مگر اس کے پاس ٹیم اچھی ہے جلد گاڑی کو ٹھیک کر کے ٹریک پر لے آئے گا۔ اچھی ورکشاپ بنی ہوئی ہے آپ گاڑی لے آئیں میں آتا ہوں۔

ورکشاپ پہنچا میکینک آیا پوچھا کیا مسئلہ ہے اسے بتایا استاد جی مسئلہ میری سمجھ سے باہر ہے اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔ استاد جی نے کہا سٹیئرنگ میرے حوالے کریں میں گاڑی ڈرائیو کر کے جانچ سکوں نقص کیا ہے؟ کوئی دو کلو میٹر گاڑی چلانے کے بعد بولے مسئلے کی جڑ تک پہنچ چکا ہوں۔ اس میں ڈسک ڈالنے ہوں گے ممکن ہے اگلے حصے کے بش بھی نئے ڈالنے پڑ جائیں۔ پوچھا گاڑی ٹھیک ہونے میں کتنا وقت لگے گا استاد جی گویا ہوئے کوئی ایک گھنٹہ کیونکہ میرے پاس ماہر میکینکس کی ٹیم ہے جو چٹکی بجاتے ہی گاڑی ٹھیک کر دیں گے۔

میں نے کہا استاد جی ایک گھنٹے کا مطلب ایک گھنٹہ ہے استاد جی بولے بادشاہو فکر نہ کرو میں نے کہا چلیں گاڑی کھول دیں۔ استاد جی نے آواز لگائی اوئے قمر اوئے فیض اوزاروں سمیت آؤ اور گڈی کھول دو۔ جب استاد جی آواز لگا رہے تھے تو ہم سمجھ رہے تھے کہ بڑے ماہر کاریگر ہوں گے دیکھا لڑکے اوزار لے کر آ رہے ہیں ہمیں آم سے غرض تھی پیڑوں سے نہیں اس لیے خاموش رہا۔ گاڑی کھلنے کے بعد استاد جی سے گویا ہوا میں چائے پینے قریبی ہوٹل پر جا رہا ہوں ایک گھنٹے بعد آؤں گا تاکہ گاڑی لے جاؤں۔

لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے بعد واپس آیا گاڑی اسی حالت میں ہے لگ رہا تھا کہ گاڑی کھلنے کے بعد کسی نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا استاد جی کا پتہ کیا تو دیکھا وہ کسی اور گاڑی کو ٹھیک کر رہے ہیں۔ پوچھا کہ گاڑی اسی حالت میں ہے ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی آپ نے ایک گھنٹہ کا کہا تھا اب تو دو گھنٹے ہو گئے ہیں۔ استاد جی بولے کہ بش کے لیے لڑکے کو قریبی مارکیٹ میں بھیجا تھا ابھی واپس نہیں آیا۔ استاد جی اتنی دیر میں تو بندا سری نگر سے ہو کر واپس آ جاتا ہے اور آپ کا لڑکا واپس نہیں آیا استاد جی نے جیب سے موبائل نکالا کال کی اور بولے بس دس سے پندرہ منٹ میں آ جاتا ہے اور اگلے ادھے گھنٹے میں آپ گاڑی لے جانا۔ جی اچھا اذان مغرب ہو رہی ہے میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر آتا ہوں استاد جی بولے آپ نماز کی ادائیگی کر کے واپس آئیں گے تو گاڑی ٹھیک ہو جائے گی۔

کوئی پون گھنٹہ بعد میں واپس آیا تو گاڑی ٹھیک ہونا تو دور کی بات ابھی تک وہ لڑکا واپس نہ آیا جو پرزہ لینے گیا تھا۔ اب کچھ کہنے سے بھی رہا کہا جاتا ہے ”پھنسنا کیا اور پھدکنا کیا“ خاموش رہا۔ بصد احترام استاد جی سے پوچھا میرا کیا قصور ہے کون سی میں نے غلطی کر دی جس کی سزا مجھے دی جا رہی ہے۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھی کہ لڑکا پرزہ لے کر آ گیا۔ استاد جی اناڑی لڑکوں کو ساتھ رکھا اور لگے گاڑی ٹھیک کرنے لگ بھگ ادھے گھنٹے میں گاڑی کے پرزہ جات وغیرہ تو مقررہ جگہ پر لگ گئے گاڑی جڑ گئی۔

اب بڑا مسئلہ آن پہنچا کہ سٹیئرنگ کھول کر گاڑی کو لیول میں رکھنے کے لیے کسی پرزے کو ٹھیک کرنا تھا۔ استاد جی سٹیئرنگ کھولنا شروع کیا۔ ایک گھنٹہ کی بھرپور کوشش کے باوجود استاد جی ناکام رہے۔ فیض کو آواز لگائی اور کہا جا فلاں استاد جی کو لے آئیں۔ وقت عشاء آن پہنچا گاڑی ٹھیک نہ ہو سکی۔ لڑکا دوسرے استاد جی کو لے آیا آن لمحوں میں استاد جی نے سٹیئرنگ کھول دیا۔ اللہ اللہ کر کوئی سات گھنٹوں بعد گاڑی ٹھیک ہوئی۔

گاڑی ٹھیک ہونے کے بعد استاد جی سے میں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ کے پاس ماہر مکینک موجود ہیں مگر آپ نے گاڑی اناڑی شاگردوں کے حوالے کر دی خیر کوئی بات نہیں یہ تو گاڑی ہے یہاں 22 کروڑ آبادی رکھنے والا ملک اسی طرح چل رہا ہے۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام کو بالکل اسی طرح سہانے سپنے دکھائے تھے کہ میرے پاس ماہرین موجود ہیں جو اقتدار میں آتے ہی ملک کو ترقی کا شاہراہ پر دوڑائیں گے۔ مگر وہ صرف باتیں تھی حقائق کچھ بھی نہیں تھے۔

جس طرح آپ اناڑی شاگردوں کے ساتھ کام چلا رہے ہیں ایسا زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ عمران خان نے بھی اڑھائی سال بعد اپنی ناکامی کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہماری تیاری بالکل نہیں تھی۔ انھوں نے اپنے ساتھ اناڑی رکھ کر ملک کا ستیاناس کیا آپ سے گاڑی ٹھیک نہیں ہوئی کسی دوسرے ماہر میکینک نے آ کر گاڑی ٹھیک کی اس طرح آپ اپنی ورکشاپ کا سوا ستیاناس کر دیں گے۔ ضروری ہو گیا کہ پاکستان کی گاڑی رواں دواں رکھنے کے لیے سٹیئرنگ قمر اور فیض جیسے اناڑیوں کی بجائے ماہر مکینک کے حوالے کیا جائے بصورت دیگر کچھ باقی نہیں بچے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words