تومیں کیا کروں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کافی دنوں سے کپتان کے نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کے بہت چرچے ہیں، ”تو میں کیا کروں“، چرچا سن کر فوری طور پر سوشل میڈیا پر کلپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر دیکھے اور سنے، عقل دنگ رہ گئی، سانس ساکن ہو گئی، افسوس ہوا اور سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ ہمارا وزیراعظم ہے جس کی رعایا ہوشربا مہنگائی سے مر رہی ہے اور دنیا کا لیجنڈ فرما رہا ہے کہ تو میں کیا کروں؟

پھر فرماتے ہیں کہ ہماری حکومت میں آنے کی تیاری نہیں تھی، تیاری نہیں تھی تو 22 سال کی جدوجہد کا ڈھول کیوں پیٹتے رہتے ہیں اگر عوام سے ہمدردی نہیں تھی تو حکومت سے باہر رہتے ہوئے آپ کے پیٹ میں عوام سے ہمدردی کے مروڑ کیوں اٹھتے تھے، کیوں 126 روز کا بندر تماشا لگا کر ملک کا تماشا بنایا؟

اعتزاز احسن نظم سنایا کرتے ہیں کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی، یہ کیسی ماں کا رکھوالا آ گیا ہے جس کو ماں کے بچوں کا ذرا بھی احساس نہیں ہے، اپوزیشن میں رہتے ہوئے چور چور کے نعرے لگا کر عوام کو امیدیں دلائیں، ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی ایک ہی تال پر باجا بجائے جا رہے ہیں، چور چور۔

بس کردو بھائی، بہت ہو چکا، تیاری نہیں تھی۔ کوئی بچہ امتحان میں فیل ہو جائے اور رزلٹ آنے پر اس کا باپ پوچھے کہ فیل کیوں ہوئے ہو تو بچہ اگر یہ جواب دے کہ ابا جی، تیاری نہیں تھی تو باپ جوتا اتار کر اتنی پٹائی کرے کہ تالو پولا کر دے گا، ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی آپ نے سلیبس کو ہاتھ تک نہیں لگایا، کتاب کھول کر نہیں دیکھی، عوام پر دست شفقت نہیں رکھا۔ سوچیں آئندہ الیکشن میں عوام جوتے اتار کر آپ کا کیا حشر کریں گے؟

اب تو دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ آپ نا اہل، نالائق اور جاہل ہیں کہ ڈھائی برس میں بھی آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کرنا ہے، عوام کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں مل رہی، آج تک یہی دیکھا تھا کہ تنگدستی میں لوگ غیر ضروری خرچے کم کر دیتے تھے، یہ کیسی حکومت آ گئی ہے کہ لوگوں نے ایک وقت کی روٹی کھانا چھوڑ دی ہے تاکہ زندگی کی سانس چلتی رہے، ایک ہزار کی دیہاڑی لگانے والے مزدور کو اپنے بچوں کا ایک دن کا کھانا پورا کرنے کے لئے ہزار روپے کم پڑ جاتے ہیں ایسے میں وہ ایک وقت کا کھانا چھوڑ کر ہی اپنا گزارا کر رہا ہے

حکومت کے وزرا پارٹیاں کر رہے ہیں کہ تجارتی خسارہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہو گیا، حفیظ شیخ کہہ رہے ہیں کہ صنعتیں بھرپور چل رہی ہیں، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں صنعتی ملازمین کی کمی ہو گئی ہے اگر یہ سب کچھ حکومت نے کر لیا ہے تو عوام خوشحال کیوں نہیں ہو رہے، یہ پیسہ پھر کہاں جا رہا ہے کہ عوام کی حالت ہی نہیں بدل رہی۔

اگر آپ کی تیاری نہیں تھی تو کسی سیانے سے ہی مشورہ کرلیتے مگر خود کو عقل کل سمجھنے والا کسی سے مشورہ لینا اپنی توہین سمجھتا ہے، پاکستان کی ایک سابقہ ریاست کا واقعہ سن لیں، نواب صاحب، نوکریاں بانٹ رہے تھے، ایک نوجوان کی باری آئی تو پوچھا کہ کون سی آسامی خالی ہے، بتایا گیا کہ جناب، تحصیلدار کی آسامی خالی ہے، نواب صاحب نے نوجوان سے تعلیم پوچھی تو اس نے بتایا کہ حضور کا اقبال بلند ہو، میٹرک کیا ہے، نواب صاحب نے فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے تحصیلدار کی ملازمت دے دی۔ اس کے بعد ایک اور نوجوان کی باری آئی تو نواب صاحب نے اس سے پوچھا کیا تعلیم ہے، نوجوان نے بتایا، حضور ایم اے پاس ہوں، نواب صاحب نے ملازمین سے پوچھا کوئی آسامی بچی ہے تو نواب کو بتایا گیا کہ جناب بس تحصیلدار کے منشی کی سیٹ بچی ہے، نواب صاحب نے پھر وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے منشی کی ملازمت دینے کا اعلان کر دیا، نوجوان اس پر تلملا اٹھا اور کہا کہ حضور میٹرک پاس تحصیلدار اور ایم اے پاس منشی، یہ تو زیادتی ہے، نواب صاحب، جو خود کو عقل کل سمجھتے تھے جواب دیا کہ دیکھو نوجوان سارا کام تو منشی نے کرنا ہوتا ہے اس لئے منشی زیادہ پڑھا لکھا اور سمجھدار ہونا چاہیے، تحصیلدار نے تو صرف دستخط کرنا ہوتے ہیں۔

جناب عالی، آپ کی تیاری بھی نہیں تھی اور آپ میں کچھ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے تو اپنے تحصیلداروں (وفاقی، صوبائی وزرا) کے منشی ہی ایم اے پاس منشی لگا دیتے تاکہ حکومت تو چل سکتی، ڈھائی سالوں میں عوام کو رول دیا اور پھر کہہ رہے ہیں میں کیا کروں؟ تو جناب مجھے بھی کچھ بتا دیں تو میں کیا کروں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •