مرتی ہوئی بیٹی اور باپ کی بے بسی


اٹھارہ برس کی ایک خوبصورت سی بچی کل ہسپتال لائی گئی، حالت ایسی کہ آنکھوں کے ڈھیلے اوپر کو کھنچے ہوئے، سانسیں چھاتی میں پھنسی ہوئیں، بات کرنے سے قاصر کہ جو تھوڑا ہوش اور قوت جسم میں باقی تھی وہ تو سانس لینے پر صرف ہو رہی تھی۔ حالت نزع اپنی تمام تر ہولناکی کے ساتھ بچی کے نحیف و بے بس جسم پر طاری تھی۔

بچی کے ساتھ اس کی چچی تھی، جو پاس کھڑی مونہہ تک رہی تھی۔ اسے بچی کی حالت دیکھ کر کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ بچی دو دنوں سے یوں ہی پڑی تھی، باپ نے اب سوچا کہ اس ہسپتال میں بھی دکھا لیتے ہیں۔ خیر میں نے باپ کو ادھر ادھر ڈھونڈا کر پاس نہ پاتے ہوئے بچی کی خراب حالت کے پیش نظر فوراً آکسیجن لگوانے سے لے کر باقی ادویہ افراتفری کے عالم میں شروع کروائیں۔

ذرا سی بہتری ہوئی تو میں نے اس کی چچی سے پوچھا کہ یہ بے یار و مددگار پڑی دو دن سے تڑپ رہی تھی، تمہیں یا اس کے باپ کو ترس نہیں آیا کہ پہلے ہسپتال لے آتے؟ چچی نے بغلیں جھانکنی شروع کر دیں، میری تلملاہٹ میں مزید اضافہ ہونے لگا تو اتنے میں لڑکی کا باپ بھی آ گیا۔ سفید داڑھی، میلا سفید شلوار قمیص جس میں سوراخ نظر آ رہے تھے۔ میرا غصہ یکایک بیٹھ گیا۔

میں اس کے والد کو الگ کمرے میں لے گیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو کسی ڈاکٹر نے بچی کی حالت بارے آگاہ کیا ہے؟ پھر جو کچھ اس زندگی کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہو چکے بوڑھے نے کہا اس کی تاب کوئی تیسری دنیا کے ملک کا ڈاکٹر جو اب تک پتھر کے زمانے میں بسنے والوں کا علاج کرتا آ رہا ہے بس وہی لا سکتا تھا:

”اس بچی کی والدہ فوت ہو چکی ہے، تین بڑی بہنیں گھر پر ہیں۔ بیٹا کوئی نہیں۔ میں جوہر آباد کا رہائشی ہوں اور کراچی میں چوکیداری کا معمولی سا کام کرتا ہوں۔ یہ تین ماہ سے بیمار ہے، میرے پاس ڈاکٹروں کو دکھانے کے بمشکل پیسے ہوتے تھے تو پھر ان کے بتائے ٹیسٹ یا دوا لینے کا خرچ نہیں ہوتا تھا۔ بڑی بہنوں کی شادی کے لیے رقم جوڑی تھی وہ بھی خرچ کر چکنے کے باوجود اس کی تشخیص نہ ہو سکی، تو میں نے اسے پیروں حکیموں کے پاس لے جانا شروع کر دیا۔

تین مہینے سے یہ روز تھوڑا تھوڑا مر رہی ہے اور میں بھی اسی کے ساتھ شاید اب تک پورا مر چکا ہوں۔ آپ نے اس کی چچی کے ساتھ ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ اس کا تو مجھ پر احسان ہے کہ وہ میرے ساتھ چل پڑتی ہے اسے لے کر۔ میں نے اسے اپنی مرضی سے گھر پر رکھ چھوڑا تھا کیونکہ میں یا تو بچوں کو کھلا سکتا ہوں یا اس کا علاج کرا سکتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے یہ شفایاب نہیں ہو گی، میں اسے زندگی میں تو کچھ دے نہیں سکا تو سوچا کہ کم تکلیف والی موت ہی اسے نصیب ہو جائے، بس اسی لیے ادھر لے آیا ہوں۔ آپ اپنی سی کوشش کر لیں، بس میری بچی کی موت آرام دہ بنا دیں تو میں آپ کو دعائیں دوں گا۔ ”

یہ سننے کے بعد میں نے مزید کچھ نہیں کہا۔ آخری سانسیں لیتی اٹھارہ سال کی خوبصورت بچی کے والد کی آنسوؤں سے بھیگی سفید داڑھی اور غربت و سخت محنت کے باعث قبل از وقت جھریوں سے بھر چکے اس کے چہرے کو میں نہ جانے کتنی دیر گھورتا رہا، پھر آخرکار اسی نے خاموشی توڑ کر کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا ”اچھا بیٹا فیر اللہ دی سپرد“ ۔ میں نے بھی سر ہلا دیا۔ یہ سوچتے ہوئے کہ معاملات یہاں بندوں کی بجائے اللہ کے سپرد ہوتے تو یہ مکالمہ شاید یوں نہ ہوتا۔
(یہ بچی کل انتقال کر گئی)۔

Facebook Comments HS