میڈیکل یونیورسٹیوں کی فیکلٹی میں چھپے جنسی درندے 

تقریباً دس سال قبل پنجاب میڈیکل کالج میں فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس میں داخل ہوا۔ ٹین ایجر تھے اس وقت، ہارمونزکا سیلاب تھا اور کلاس میں لڑکیوں کی شرح تین چوتھائی تھی۔ اپنے ہی جیسے تُھڑے ہوئے سینیئرز کی“گائیڈنس“ بھی شاملِ حال تھی۔ پر اللہ نے دستگیری کی، سنبھلے رہے، اچھے دوست ملے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ جس جگہ پانچ سال گزارنے تھے وہاں کی بابت چشم کشا حقائق بھی معلوم ہوتے گئے۔ پتا چلا کہ ہم

Read more

مرتی ہوئی بیٹی اور باپ کی بے بسی

اٹھارہ برس کی ایک خوبصورت سی بچی کل ہسپتال لائی گئی، حالت ایسی کہ آنکھوں کے ڈھیلے اوپر کو کھنچے ہوئے، سانسیں چھاتی میں پھنسی ہوئیں، بات کرنے سے قاصر کہ جو تھوڑا ہوش اور قوت جسم میں باقی تھی وہ تو سانس لینے پر صرف ہو رہی تھی۔ حالت نزع اپنی تمام تر ہولناکی کے ساتھ بچی کے نحیف و بے بس جسم پر طاری تھی۔

بچی کے ساتھ اس کی چچی تھی، جو پاس کھڑی مونہہ تک رہی تھی۔ اسے بچی کی حالت دیکھ کر کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ بچی دو دنوں سے یوں ہی پڑی تھی، باپ نے اب سوچا کہ اس ہسپتال میں بھی دکھا لیتے ہیں۔ خیر میں نے باپ کو ادھر ادھر ڈھونڈا کر پاس نہ پاتے ہوئے بچی کی خراب حالت کے پیش نظر فوراً آکسیجن لگوانے سے لے کر باقی ادویہ افراتفری کے عالم میں شروع کروائیں۔

Read more