گرلڈ چمگادڑ، وبا کی نحوست اور بھٹی کی گالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نئے سال کی خوشیاں منانے کی تیاریاں کر رہے ہوں گے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی چھوٹی سی عیاشی انسانیت کے بقا کو خطرے میں ڈال سکتی ہے؟ آپ کی لمحوں کی خطا کی سزا صدیوں پر محیط ہو سکتی ہے؟ اور آپ کی ذرا سی غلطی لاکھوں انسانوں کی جان لے سکتی ہے؟ اگر آپ کو میری

اس بات پر اعتبار نہیں آ رہا تو آئیں میں آپ کو ایک ایسا سچا قصہ سناتا ہوں جس کے سننے کے بعد آپ کو یقین کامل ہو جائے گا کہ خوشیاں مناتے وقت باقی دنیا کا خیال کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ، نئے وقتوں کی بات ہے، ملک چین کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک شخص رہتا تھا جسے بچپن سے ہی طرح طرح کے کھانے کھانے کا شوق تھا۔ مؤرخ بیان کرتا ہے، ایک دن بلی کے گوشت کے بنے تکے کھاتے ہوئے اس نے اپنی ماں سے سوال کیا، ”امی ہم شیر کا گوشت کیوں نہیں کھاتے؟“ اس کی ماں نے شفقت بھرے لہجے میں جواب دیا، ”بیٹا جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو شیر کا شکار کر کے اس کے تکے بوٹی کھا لینا، کون سا ہمارا مذہب ایسا ہے جو ہمیں اس کا گوشت کھانے سے روکے“ ۔ بچے کے سوال سے ماں کو یقین ہو گیا کہ میرا لعل بڑا ہو کر اپنے خاندان اور اپنے ملک چین کا نام ضرور روشن کرے گا۔ اس کے بعد اس کی ماں نے اسے شیر کے بارے میں مزید چند باتیں بتائیں جو کہ مشکل چینی زبان میں تھیں۔ اس لیے مورخ جو ذات سے بھٹی راجپوت تھا اسے خاص سمجھ نہیں آئیں۔

اس سے پہلے کہ یہ کہانی مزید آگے بڑھے آپ سے مؤرخ بھٹی کا تعارف کرانا انتہائی ضروری ہے۔ بھٹی ہمارے پڑوس میں رہتا ہے اور میرا ہمدم دیرینہ ہے۔ بھٹی ایک عرصے سے چینی مال کی درآمد کا کاروبار کرتا ہے اور اسے تاریخ سے شغف ہے۔ وہ جب بھی چین جاتا ہے وہاں رونما والے واقعات اپنی ڈائری میں رقم کرتا رہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے، جب وہ دنیا سے جائے تو سکندر کی طرح خالی ہاتھ نہ جائے بلکہ تاریخ کی کتاب کا احسان کرہ ارض پر چڑھا کر جائے۔ اس نے چین کی تاریخ پر کتاب لکھ لی ہے اور اپنے ورثاء کو نصیحت بھی کردی ہے کہ جونہی وہ وفات پائے اس کے اگلے دن کتاب کو چھپوانے کے لیے پبلشر کو بھجوا دیا جائے۔

بھٹی کا خیال ہے کہ جب کتاب پر اس کے نام کے آخر میں مرحوم لکھا آئے گا تو پھر لوگ اسے یقیناً پڑھیں گے ورنہ کسی اولڈ بک شاپ میں ہی گلتی سڑتی رہے گی۔ ہمارے جن دوستوں کو تاریخ میں دلچسپی ہے، انہیں جب تاریخ کی کوئی اچھی کتاب نہیں ملتی تو وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں، ”اے مالک ارض و سماء اب بھٹی کو اٹھا لے تاکہ کوئی نئی کتاب پڑھنے کو ملے“ ۔ جب کہ میرے جیسے دوست جنہیں تاریخ سے کوئی خاص انس نہیں ہے وہ بھٹی کو لمبی عمر کی دعا دیتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اگر وہ داعی اجل کو لبیک کہ گیا تو اس کی تصنیف کا چار و ناچار مطالعہ کرنا پڑے گا۔

مؤرخ بھٹی دنیا کا وہ واحد مؤرخ ہے جو ہمیشہ سچ بولتا ہے ہاں مال درآمد کرتے وقت، کسٹم حکام کے سامنے، ریشمی کپڑے کو ویسکوس ظاہر کرنا اور مہنگے جوتوں کو خام پلاسٹک ظاہر کرنا اس کی کاروباری مجبوری ہے۔ بھٹی کی ذات میں صرف ایک خامی ہے کہ وہ ذہن میں آئے لطیفے اور منہ میں آئی گالی پر قابو نہیں پا سکتا، اس لیے ہم حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ اسے سنجیدہ محفلوں میں نہ مدعو کیا جائے۔

کل بھٹی ہمارے گھر آیا اور اس نے بتایا کہ وہ چینی جسے مختلف اقسام کے کھانے کھانے کا شوق تھا اس نے اپنی عیاشی کی خاطر دنیا سے بہت بڑی زیادتی کی ہے۔

میں نے استفسار کیا، ”بھلا وہ کیسے؟“

بھٹی نے بتایا پچھلے سال کے آخر میں اسے اسے چمگادڑ کھانے کا شوق چڑھا اور ووہان پہنچ گیا۔ وہاں اس نے بیرے کو بلا کر چائینیز میں
请一只蝙蝠
کہا جس کا مطلب تھا ایک چمگادڑ لے آؤ۔ بیرے نے پوچھا بھی فرائیڈ یا گرلڈ؟ کاش وہ اس وقت فرائیڈ کہہ دیتا تو ہمارا 2020 برا نہ گزرتا، اتنے لوگ نہ مرتے۔ ہوائی سفر کی کمپنیاں دیوالیہ نہ ہوتیں۔ سکول بند نہ ہوتے اور بازار ویرانے نہ بنتے۔

یہ کہتے ہوئے مورخ بھٹی غصے میں آ گئے اور چیختے ہوئے بولے، ”چمگادڑ کھا کر عیاشی کر گیا چینی اور ماسک لگ گئے ہمارے چہروں پر! جیسے ہم نے کوئی ایسی عیاشی کی ہے جس کے بعد منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔“

میں نے اسے سمجھایا، ”بھٹی، چینیوں کے بارے میں ایسی باتیں مت کرو، وہ ہمارے بھائی ہیں۔“
وہ چلایا، ”اگر چینیوں کے ساتھ ہماری ہمالہ سے اونچی دوستی نہ ہوتی تو میں اسے دیکھ لیتا۔“

مجھے بھی اس بات پر غصہ آ گیا، میں نے بھی اس سے غصے سے پوچھا کیا کرلیتے تم؟
بھٹی نے غصے سے آنکھیں پھاڑ کر میری طرف دیکھا، تھوڑی دیر سوچا اور پھر بے بسی سے بولا، ”میں اس کو گالی دیتا۔“

مجھے احساس ہو گیا کہ بھٹی کے منہ میں اب گالی آ گئی ہے اور کہیں وہ بک ہی نہ دے، اس لیے مسکراتے ہوئے اسے کہا،
”چھوڑ بھٹی! شکر کر سال گزر گیا“

بھٹی بولا، ”سال گزر گیا؟ شکر کرو سالا گزر گیا“
تمام دوستوں کو نیا سال مبارک!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •