پیس جرنلزم کا فروغ کیوں ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٓپیس جرنلزم (peace journalism) شعبہ ابلاغیات کا مثبت اور اہمیت کا حامل موضوع ہے۔ پیس جرنلزم اور وار جرنلزم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔  وار جرنلزم پروپیگنڈا، ردعمل، جنگ میں جیت اور تشدد کے بیانیے کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے،  اس کے برعکس پیس جرنلزم جنگی صورتحال کو کنٹرول کرنے پر زور دیتا ہے، جنگ لڑنے والے فریقین کو انسانیت کا درس دیتے ہوئے جنگ سے متاثرہ ہر شخص کی آواز بنتا ہے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تجویز کرتا ہے۔ پیس جرنلزم امن کے فروغ کی بات کرتا ہے کسی تنازع کا حصہ بننے، انتشار پھیلانے والی خبروں سے گریز کرنا اور کسی ایک فریق کے مؤقف کو جانب دارانہ طور پر پیش نہ کرنا پیس جرنلزم کی اولین ترجیح ہے۔

پیس جرنلزم متنازع مسئلے کے حل کے لیے فریقین کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کرتا ہے اور تنازع کی وجہ جانتے ہوئے حقائق کو جاننے کے لیے مختلف اور مستند ذرائع تلاش کرتا ہے۔ یہ تشدد اور تنازع سے جڑی فضولیات کو پس پشت ڈال کر امن پر مبنی رپورٹنگ کرتا ہے۔ جن ممالک میں پیس جرنلزم کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے وہاں انسانی حقوق کا خیال، وسائل کی ترقی، اور پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات جیسے مثبت پہلو غالب نظرآتے ہیں۔

پیس جرنلزم تصوراتی باتوں، غلط بیانیوں، روایتی باتوں کے بجائے حقائق پر مبنی جوابی بیانیہ پیش کرتا ہے۔ پیس جرنلزم پر کام کرتے وقت صحافی کے لیے الفاظ کا درست اور مثبت استعمال بہت اہم ہے ، کسی چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار ہو کر انتشار پھیلنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اور بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں پیس جرنلزم کا تصور بہت زیادہ واضح نہیں ہے۔ نیوز چینلز کی کثرت کے باجود خبروں کی صداقت، ان کا معیار دن بہ دن زوال پذیر ہو رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر معلومات کی غیر محتاط ترسیل اور تبادلہ امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے کا کام کر رہا ہے ،  غیر مصدقہ خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں اور عوام میں اشتعال کا باعث بنتی ہیں۔ پرائم ٹائم میں نیوز چینلز پر ٹاک شو میں میزبان عوامی مسائل کو بالائے طاق رکھ کر مہمان سیاست دانوں کو لڑوانے کے جتن کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں جتنی گالم گلوچ ہو گی پروگرام کی مقبولیت اور ریٹنگ اتنی ہی اوپر جائے گی۔

ان حالات میں میڈیا، صحافیوں کو چاہیے کہ وہ پیس جرنلزم کو فروغ دیں اور ایک ایسا متفقہ ضابطہ اخلاق تشکیل دیں جس پر عمل کر کے ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنایا جا سکے بلکہ معیاری صحافت کی شروعات بھی کی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مصبیحہ صدیقی کی دیگر تحریریں