دائروں کی قیدِ مسلسل اور سالِ نو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرد ہو یا کوئی قوم، دائروں میں چلنا شروع کر دے تو منزل سے دوری اس کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ بقول منیر نیازی کہ گردش تیز تر ہوتی جاتی ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ دائروں میں سفر کرنے والوں کو اور کچھ حاصل ہو نہ ہو وہ رستوں کے انتخاب کے جھنجٹ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی منزل مقصود ہی نہ ہو تو راستے کا انتخاب بے معنی ٹھہرتا ہے۔ انسان دائروں کا ہی اسیر بن کر رہ جائے تو سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ گود سے گور تک کا لاحاصل سفر۔

ہم ویسے بھی دائرے بنانے میں ماہر ہیں۔ ہم پہلے نامعلوم دائرے بناتے ہیں اور پھر ان دائروں کا سرا ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اب بھلا ہمیں کون سمجھائے کہ دائروں کا کوئی آغاز یا انجام نہیں ہوتا۔ دائروں میں سفر کرتے کرتے ہم نے زندگی کو بھی مختلف دائروں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔ دائرہ وسیع ہوتا تو پھر بھی کوئی بات ہوتی لیکن یہاں تو ہر کوئی اپنے ننھے ننھے دائروں کو ہی پوری کائنات کہلوانے پر مصر ہیں۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ ہر دم پھیلتی کائنات کو بھی اس میں قید کرنا چاہتے ہیں۔

دائرے بنانے کی عادت سے جان چھڑانا مشکل سہی لیکن کاش کہ ہم دائرے سے دائرے ملانا ہی سیکھ جاتے۔ یہ بھی بہت بہتر ہوتا کہ دائروں کے اسیر اپنے اپنے دائرے پہ ہی قناعت کرلیتے لیکن ہمیں تو دائرے بنا کر اپنا اپنا دائرہ اختیار بڑھانے کی بھی لت ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے دیس میں اپنے ہی بنائے ہوئے دائروں میں رہ کر کام کرنے کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ خیر چھوڑیے، آئیے کچھ اور دائروں کی بات کرتے ہیں۔

زمین کا سورج کے گرد اگر ایک دائرہ مکمل ہو تو وہ زمین کے باسیوں کے لیے ایک سال کہلاتا ہے۔ سال اور صدی کا اس دفعہ کا یہ سنگم اتنا مہنگا ثابت ہوا ہے کہ بقول شخصے ہماری سب کی زندگیوں میں ایک سال کا اضافہ کر دیا جانا چاہیے۔ صدی اور سال کے اس سنجوگ میں ہمیں دو بڑے دائروں سے واسطہ پڑا۔ ایک دائرہ عالمی تھا اور دوسرا قومی۔

عالمی دائرے کی بات کریں تو اس کرۂ ارض پر انسانی زندگی نے آج تک بہت بڑے بڑے سانحات دیکھے ہیں لیکن سال 2020 جیسا سانحہ آج تک ہم میں سے کسی نے نہ دیکھا ہو گا۔ بقول اسرار زیدی۔ یہ سال طول مسافت سے چور چور گیا/یہ ایک سال تو گزرا ہے اک صدی کی طرح۔ لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ یہ آخری سانحہ نہیں ہے۔ کورونا نے دنیا کو دیکھنے کا ہمارا انداز بدل دیا ہے۔ دنیا کو دیکھنے کا ہمارا پرانا انداز اب شاید لوٹ کر نہ آئے۔

بعد از کورونا، دنیا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ دکھائی دینے لگی ہے۔ انسانوں کی آزادیاں اب خطرے میں ہیں۔ معاشی بدحالی اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ ہر دائرے نما چیز کو روٹی سمجھنے لگے ہیں۔ دائرے ”پناہ گاہوں“ کی شکلوں میں اگنے لگے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سال کورونا کے کارن جہاں بہت سارے لوگوں نے زندگی کے بدترین حالات کا سامنا کیا وہیں بہت ساروں نے زندگی کے جھمیلوں سے فرصت پا کر اپنی زندگی میں کچھ نیا سوچا اور کچھ نیا کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی اور ان میں سے اکثریت کامیاب بھی ٹھہری۔

قومی دائرے میں نظر دوڑائیں تو پاکستانی سیاسی جماعتیں پہلی بار دائروں کی سیاست سے باہر کھیلتی نظر آئیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے آئین پاکستان کی بالادستی کا ایک ایسا سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جو اگر پاکستانی سیاسی تاریخ میں بہت پہلے ہو جاتا تو ہم آج اس مقام پر نہ ہوتے۔ سیاسی جماعتوں کے اپنے مفادات سہی، لیکن دیر آید درست آید ۔ یاد رہے کہ پاکستانی سیاسی جماعتیں فرشتوں پر مشتمل نہیں ہیں۔ بقول فقیر راحموں فرشتے ہونے بھی نہیں چاہییں،انسانوں کے معاشرے میں انسان ہی رہنما ہوتے ہیں۔ ان میں خامیاں خوبیاں ہوتی ہیں۔ البتہ ان کا ذکر اعتدال کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ذاتی یا خاندانی نفرت سے گندھی فہم سے نہیں۔

ہر ادارے اور محکمے کو اپنے اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ پولیٹکل اکانومی کے اس دور میں سیاست دانوں کی کردار کشی کا یک طرفہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ کیونکہ سیاست ایک ایسی اجتماعی ذمہ داری ہے جسے ایک شہری رضاکارانہ طور پر اٹھاتا ہے تاکہ اپنے ارد گرد کی دنیا کو بہتر بنانے کا راستہ نکالا جا سکے۔

بہرحال، یہ برس گزر گیا اور غالباً یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ہم نے نہیں اس دفعہ سال نے ہمیں گزارا ہے۔ یہ برس بہت سوں کو لے کر رخصت ہوا۔ بقول جالب خاک میں مل گئے نگینے لوگ۔ جہاں بیتے سال کے گزرے لمحے اداس کرتے ہیں وہاں نئے سال کی آمد زندگی کو اک نئے ڈھنگ سے گزارنے کی نوید بھی سناتی ہے۔ دنیا والے نیا برس اس لیے بھی جوش و خروش سے مناتے ہیں کہ شاید وہ ان کے لیے نئی خوشیاں لے کر آئے۔ جیون دھارا شاید یوں ہی گزرتا ہے۔

اس تلخ سچ کے ساتھ کہ جوں جوں سال بیتتے جاتے ہیں، ہم بحیثیت قوم زمانے سے کٹتے جاتے ہیں۔ نئی نسل ایک قدم آگے بڑھانا چاہتی ہے تو پرانی نسل کو چند قدم پیچھے ہٹنا ہی پڑتا ہے۔ امید ہے نئی نسل، پرانی نسل سے بہتر پاکستان بنائے گی۔ آخر میں دنیا بھر کے سب انسانوں اور قوموں کے لیے اس دعا کے ساتھ اجازت کہ

نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے

خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •