کہیں سے آغاز تو کرنا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قدرت کے قوانین میں تغیر ممکن نہیں، اعلان ہو چکا ہے کہ ”انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے“ صد افسوس ہم نے سلیقے سے کوشش نہیں کی، راہزن میر کارواں بن گئے۔ ترقی کے آسمان پر اڑانیں بھرنے والا ملک کسی مرغ شکستہ پر کی طرح منڈیر پر آ بیٹھا ہے، ترقی کی ڈگر سے ہٹنے کا احساس ہو چکا ہے لیکن محض احساس تو کافی نہیں، تدارک کب ہوگا۔ خلق خدا نا امیدی سے حکمرانوں کی طرف دیکھ رہی ہے یہ خلق خدا کر بھی کیا سکتی ہے ، قنوطیت کا ایک گہر اسمندر ہے اور خلقت اس گہرے سمندر کے کنارے پر کھڑی ہے۔

کوئی صدا سماعتوں سے ٹکراتی ہے اور اچھے دنوں کی نوید سناتی ہے ، آن کی آن میں مایوسی سے اٹے چہروں پر امید کی برکھا برسنے لگتی ہے لیکن اگلے ہی لمحے مایوسی در آتی ہے۔ مایوسی کیوں نہ ہو ، چین 1949 آزاد ہوا اور آج عالمی معاشی طاقت بننے کے قریب ہے۔ گزشتہ روز برطانوی تھینک ٹینک ”دی سینڑ فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ“ کی طرف سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خیال تھا کہ چین کی معیشت 2033ء میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گی لیکن چین مذکورہ معاشی ہدف 2028 ء میں ہی حاصل کرلے گا۔

قارئین! یہ وہی چین ہے جس کی ناؤ کئی دہائیوں تک آگ اور خون کے دریا میں غوطے کھاتی رہی ، لاتعداد چینی مارے گئے، ایک اندازے کے مطابق، 1945 سے 1949 کے درمیانی عرصے میں 70 لاکھ چینی موت کی وادی میں چلے گئے۔ آگ اور خون کا دریا عبور کر کے چینی قوم کو یکم ستمبر 1949 کا دن نصیب ہوا۔ جب چینی رہنما ماوزے تنگ نے 3 لاکھ چینیوں کی موجودگی میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا۔ چین کے قیام کے ستر سال بعد آج برطانیہ کے معاشی ماہرین دنیا کو یہ نوید دے رہے ہیں کہ چین محض 8 سال بعد دنیا کی عالمی معاشی طاقت بن جائے۔

ایک لمحے کو سوچتا ہوں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں تو دل بیٹھنے لگتا ہے۔ ہماری کمر قرضوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی ہے، بدحال معیشت کی بدولت ارض وطن کے چہرہ کا رنگ اڑا ہوا ہے۔ مہنگائی کا پانی سر سے گزر رہا ہے، غریب کے لیے حیات جرم اور زندگی وبال بن گئی ہے صورت حال حکمرانوں کے دعووں کے برعکس ہے۔ مکرر عرض کرتا ہوں قوانین قدرت میں تغیر ممکن نہیں ہے۔ اعلان ہو چکا ہے کہ ”انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے“ سو ہمیں وہ کیسے مل سکتا ہے جس کی ہم نے کوشش نہیں کی۔

وقت دریا کی روانی کا عکس ہے ، وقت نہیں رکتا، رات خواہ کتنی ہی سیاہ ہو سحر بالآخر طلوع ہوتی ہے، قوم کا مزاج بنتے بنتے بنتا ہے، تربیت کا فقدان منزلیں دور کر دیتا ہے، تربیت کے اسباب پید اکریں تاکہ آنے والا کل آج جیسا نہ ہو، اس کار کٹھن کا آغاز ابھی سے کیجیے ، وقت کم ہے اور سفر زیادہ۔

سہل پسند ی فرد کے لیے باعث افتحار نہیں تو قوم کے لیے کیوں کر ہو سکتی ہے، اہل دانش رہنمائی فرمائیں اہل حکومت کی، دشمن کو زیر کرنے لیے بہترین معیشت ہی بہترین ہتھیار ہے، کیوں نہ ہتھیارسازی کی جائے ، ملک کے در و دیوار پر سبزہ اگ آئے گا، چہروں پر خوشی کی برکھا برسے گی تو دلوں کے غنچے کھل اٹھیں گے۔

کرپشن کے ناسور کو اکھاڑ پھینک دیا جائے، ورنہ قو م کے قدم اکھڑ جائیں گے، احتساب کا عمل ایسا ہو کہ اہل خطا پر لرزہ طاری ہو جائے، تب ہی بہتری کی کوئی صورت نکل سکتی ہے ورنہ یاد رہے کہ دشمن تو گھات لگائے بیٹھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •