چین کا دنیا کی اشتراکی اقتصادی سماجی ترقی کا خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کو عالمی سطح پر معیشتوں کے درمیان ربط کا ایک عظیم منصوبہ قرار دیا جاتا ہے۔ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو اس سے فائدہ اٹھانے والے ممالک ترقی پذیر یا پسماندہ ہیں جہاں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر محدود وسائل کے باعث شاید ممکن نہیں تھی مگر چین نے ایک بڑے ذمہ دار ملک کا کردار بخوبی نبھاتے ہوئے کم ترقی یافتہ ممالک کو ترقی کے سفر میں شامل کیا۔ پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، لاوس اور دیگر بے شمار ممالک آج بیلٹ اینڈ روڈ کا حصہ ہیں اور ترقیاتی منصوبہ جات کی بدولت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہے ہیں۔ بیلٹ ایند روڈ کی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف ممالک کی قومی ترقی یا پھر علاقائی روابط کے فروغ کا ترجمان نہیں ہے بلکہ عوام کے دیرینہ خوابوں کی تکمیل بھی ہے۔ اسی باعث آج دنیا کے ایک سو اڑتیس ممالک اور اکتیس بین الاقوامی تنظیمیں بی آر آئی تعاون کے تحت دو سو اکتیس دستاویزات پر دستخط کر چکی ہیں۔

پاکستان کے پس منظر میں دیکھیں تو چین اور پاکستان کی نسل درنسل عظیم روایتی دوستی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عالمی و علاقائی صورتحال کے تابع نہیں ہے، گزرتے وقت کے ساتھ آہنی بھائیوں کے تعلقات میں مزید توانائی آتی جا رہی ہے اور مضبوط ترین سفارتی روابط اب سی پیک کی بدولت پائیدار معاشی تعلقات میں ڈھل چکے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو سال 2021 میں ستر برس ہونے جا رہے ہیں، دونوں ممالک چین۔ پاک اقتصادی راہداری کی تعمیر کے لیے پرعزم اور پرجوش ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ سی پیک کے تحت جاری منصوبہ جات میں تیزی آئی ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے وبائی صورتحال کے باوجود تعمیراتی رفتار میں کمی نہیں آنے دی گئی ہے۔

دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت بھی سی پیک کی تعمیر میں ذاتی دلچسپی لے رہی ہے، چونکہ یہ منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے لہذا اس کی کامیاب تکمیل جہاں چین اور پاکستان کے لیے ثمرات لائے گی وہاں بی آر آئی کے دیگر منصوبہ جات کے لیے بھی ایک عمدہ نمونہ بنے گی۔ پاکستان میں سی پیک منصوبہ جات کی موجودہ پیش رفت کا تذکرہ کیا جائے تو ابھی حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے سی پیک ایم ایل ون منصوبے کو پاک۔

چین دوستی کی شاندار مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے پاکستان میں بین الاقوامی معیار کا جدید مواصلاتی ڈھانچہ تیار ہوگا، ملک کا صنعتی شعبہ ترقی کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس منصوبے سے پاکستانی بندرگاہوں کے زمینی رابطے مربوط ہونے سے پاکستان کی برآمدات بروقت عالمی منڈیوں میں پہنچ سکیں گی جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔

دوسری جانب چین بھی سی پیک کی تعمیر میں پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور تمام فورمز پر پاکستان کی بھرپور حمایت کی گئی ہے۔ چین کی جانب سے تواتر سے سی پیک کی تائید میں بیانات دیے جا رہے ہیں اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو بھی ہمیشہ سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔ چین نے وبائی صورتحال کے باوجودسی پیک کے اہم منصوبوں سے متعلق نمایاں پیش رفت پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پاکستان میں انسداد وبا اور اقتصادی استحکام میں مدد ملے گی۔

چین نے بارہا اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ سی پیک کا مستقبل روشن ہے اور سی پیک کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے لیے چین اور پاکستان کے عزائم پختہ اور غیر متزلزل ہیں۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ کووڈ۔ 19 کے باعث عالمی کسادبازاری کے باوجود سی پیک سمیت دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے وابستہ دیگر منصوبہ جات کے حوالے سے چین کی سرمایہ کاری میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے اور چین نے بی آر آئی سے وابستہ ممالک کو اپنی استعداد کے مطابق انسداد وبا اور معاشی بحالی کے لیے مدد و حمایت فراہم کی ہے۔

سی پیک کے تحت پاکستان میں ریل، روڈ، توانائی انفراسڑکچر منصوبہ جات عملی طور پر واضح کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ مشترکہ مفاد پر مبنی تعاون کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس وقت پاکستان کی قومی پیداوار میں سی پیک منصوبہ جات کے ثمرات بھی سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، شاہراہوں کا نیٹ ورک فعال ہے، توانائی منصوبوں سے بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملی ہے، صنعتیں لگ رہی ہیں اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

پاکستان سے ہٹ کر اگر دیگر دنیا کی بات کی جائے تو چین نے ترقی کے سفر میں اپنے ہمسایہ ممالک سمیت ایسے افریقی ممالک کو شامل کیا ہے جہاں بنیادی انفراسٹرکچر سمیت دیگر وسائل کی بھی انتہائی کمی ہے۔ چین دی بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت افریقی خطے کو بھرپور مالیاتی معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہاں کے عوام بھی دیگر دنیا کی طرح بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھا سکیں۔ چین کی کوشش ہے کہ افریقی ممالک میں جدید صنعتکاری کو فروغ دیا جائے تاکہ یہاں کے عوام غربت اور بھوک سے نجات پا سکیں۔ یہ چین ہی ہے جس نے افریقی ممالک میں ریلوے، شاہراہوں اور بحری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سمیت دیگر بے شمار منصوبے شروع کرتے ہوئے افریقی معیشتوں کو دیگر دنیا کے ساتھ ملا دیا ہے۔

چین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے گزشتہ 40 برسوں میں اقتصادی و سماجی اعتبار سے معجزاتی ترقی کی ہے اور ترقی کے ثمرات کا دیگر دنیا سے تبادلہ بھی کیا ہے۔ پاکستان بھی انسداد غربت، انسداد بدعنوانی سمیت معاشی اصلاحات کے حوالے سے چین کی ترقی کے تجربے سے سیکھنے کا خواہاں ہے۔ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں چین اور پاکستان سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے اور باہمی مفادات پر مبنی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے تاکہ چاروں موسموں کی آزمودہ دوستی کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •