وزیراعظم صاحب! لفاظی کافی نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک شخص صدا لگاتا ہے کہ کون ہے جو انسانی کردار کی سر بلندی کے لیے میرے ساتھ چلے گا۔ اس آواز پرحالات کے جبر کے ہاتھوں پسے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد لبیک کہتی ہے اور یوں ایک ”نئے پاکستان“ کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس نئے دور کے پہلے اڑھائی سال کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ اداراتی اصلاحات، ہر گھر کی دہلیز پرانصاف کی دستیابی، اچھی صحت سب کے لیے، تعلیمی نصابوں میں بٹی اس قوم کے لیے یکساں نصاب، سازگار تعلیمی ماحول اور سیاسی رواداری کے نعروں کے ساتھ اقتدار کی مسند پر آنے والی حکومت اپنے اندرونی محاذوں پر کچھ حد تک ناکام رہی ہے۔

مہنگائی اور چور بازاری کو روکنے کے سلسلے میں خاطر خواہ نتائج نہیں مل سکے۔ بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہے اور صرف میڈیا کے شعبے سے پچھلے چند سالوں میں تقریباً تین ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکا ہے کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات بند ہو چکے ہیں۔ پارلیمنٹ نے اس دور میں اب تک کوئی قابل ذکر قانون سازی نہیں کی۔ ہاں! عمران خان کا ”نقلی نیلسن منڈیلا اور قائد اعظم ثانی“ کو بے نقاب کرنا اور بے نامی اکاؤنٹس کی پٹاری کھولنا، قوم پر ایک عظیم احسان ہے۔

احتساب کے عمل کو بے شمار غلاظتوں سمیت جاری رکھنا ایک جرات مند بندے کا ہی کام ہو سکتا تھا۔ جب ساری شیطانی قوتیں اکٹھی ہو کر اپنے طاغوتی عزائم کے ساتھ یلغار کریں تو ”میں این آر او نہیں دوں گا“ کے نعرے کے ساتھ کھڑے رہنا آسان نہیں ہوتا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے سیاسی اپوزیشن کی دشمن ملک چالیں اور غیر اخلاقی و مفاداتی اقدامات بھی درد سر بنے رہے ہیں جس کی وجہ سے معاملات حکومت متاثر نظر آتے رہے کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ملک کی مضبوط معیشت کو پروان چڑھانے میں ملکی سیاسی استحکام کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔

بد قسمتی سے ہم اس سیاسی عدم استحکام کا صرف اپوزیشن کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ موجودہ دور میں حکومتی سطح پر بھی چند وزیروں کے نامناسب بیانات کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کی تو مسلسل کوشش جاری رہی مگر استحکام کی جانب سنجیدہ کوشش اب تک نظر نہیں آئی۔ اپوزیشن نے اپنی احتجاجی تحریک کا پہلا مرحلہ ناکامی کے لیبل کے ساتھ مکمل کر لیا ہے اور اب اس ہزیمت کو چھپانے کے لیے کئی جتن کیے جا رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں اپوزیشن نے لانگ مارچ اور پھر استعفوں کو پلان کیا ہے مگر حکومت کی سینیٹ الیکشن جلد کروانے والی عمدہ چال نے اپوزیشن کی یکجہتی کو مزید متأثر کر دیا ہے اور اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آرہے ہیں اگرچہ بلاول زرداری نے استعفوں کی بات کی ہے مگر ساتھ میں یہ بھی بتا دیا کہ آصف زرداری اس کے حق میں نہیں ہیں۔

لاہور کے ناکام جلسے کی وجہ سے نون لیگ کی اعلیٰ قیادت میں دراڑیں مزید بڑھ رہی ہیں اور صاف پتا چلتا ہے کہ نون لیگ کے اکثر اراکین اسمبلی نواز شریف کے بیانیہ کے حق میں نہیں ہیں۔ عوام کو بھی ”نئے پاکستان“ کی جدوجہد کے دوران اس بات سے آگاہی ہو چکی ہے کہپنجاب میں عوامی خدمت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے نام پر لیے گئے قرضے صرف کمیشن اور ذاتی مفاد کے پیش نظر میگا پراجیکٹس پرلگا دیے گئے تھے۔ بچاری عوام صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کے لیے ترستی رہی مگر ”ظل الہی اور امیر المومنینٰ“ اپنے ”ٹی ٹی سسٹم“ کی کامیابی اور اپنے ذاتی کاروبار میں اضافہ کے لیے سوچتے رہے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی نے سندھ کو بے یارومددگار چھوڑ رکھا ہے۔ آصف زرداری نے عوامی خدمت کے نام پر قومی خزانے سے اپنی آل اولاد اور دوست احباب کے بینک اکاؤنٹس میں بے تحاشا اضافہ کیا۔ جب عمران خان نے ان کرپٹ عناصر کی گردنوں پر پھندا ڈالا تو سب کی چیخیں نکل گئیں تب انہوں نے ملکی اداروں کی کریڈیبلٹی خراب کرنے کی مہم شروع کی۔ کبھی فوج، کبھی عدلیہ، کبھی الیکشن کمیشن اور کبھی نیب کو ہدف تنقید بنایا۔ ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف مافیاز کو اپنے ساتھ ملا لیا۔

کورونا جیسے موذی مرض کے پھیلاؤ کے دنوں میں عوامی جلسوں کی صورت میں عوام کی جانوں سے کھیلنے کا پلان بنایا۔ وزیراعظم صاحب! ہم آپ کی مشکلات سمجھتے ہیں مگر آپ بھی سمجھیں کہ یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے، اب آپ کو عوام کے لیے اعلانات سے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہیں۔ یاد رکھیں! اب حالات اور سوچیں بدل گئی ہیں۔ عوام کو روٹی چاہیے، روزگار چاہیے اور تحفظ چاہیے۔ اگرچہ یہ نعرے ماضی میں بھی سب سیاسی مداریوں اور شوبازوں نے لگائے ہیں مگر سترسالوں میں عملی طور پر عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔

یاد رہے کہ عوام میں موجود اضطراب اور بے چینی کسی بھی وقت سڑکوں پرایک خطرناک احتجاج کی صورت اختیار کر سکتا ہے جو یقیناً اپوزیشن اور دشمن قوتوں کی خواہش ہو گی۔ اب اقتدار کی مسند پر آپ بیٹھے ہیں۔ راستے کا تعین اور فیصلے کا اختیار، آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اب آپ کا فرض ہے کہ خلوص اور اچھائی اپنے الفاظ میں نہیں بلکہ اپنی نیت اور فطرت میں پیدا کریں۔ تاکہ آپ لوگوں کے عیب نہیں، ان کی خوبیاں دیکھ پائیں۔ یہ عمل آپ کی عزت اور بخشش کا وسیلہ بنے گا ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •