گاؤں نہیں، چادر پکڑنے والوں کو گزاریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم پاکستان جب بھی مہنگائی کے خلاف نوٹس لیتے ہیں، عوام کے دھڑکتے دل کچھ دیر کے لئے دھڑکنا بھول جاتے ہیں۔ ان کے ہر نوٹس کے بعد گرانی کی شدید گولہ باری ہوتی ہے اور لوگ زمین پر اوندھے لیٹ کر بچنے کی کوشش کے باوجود اس کی زد میں آ کر ایک مرتبہ پھر شدید کھائل ہو جاتے ہیں۔ کل سنہ 2020 کے اختتامی چند گنٹوں قبل انھوں نے آنے والے 2021 کے استقبال کے طور پر مہنگائی کی توپوں سے مزید چند گولے غریبوں کی بستی کی جانب داغ دیے جس سے اس بات کا اظہار ہوا کہ وہ عوام کا صبر 2021 کے آغاز سے ہی آزمانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔

جب میں سیکنڈری جماعت کا طالب علم تھا تو میری عقل شاید اتنی بختہ نہیں تھی کہ اپنی کلاس ٹیچر کی بات کو سمجھ سکوں۔ اس وقت تو میں کلاس میں موجود دیگر طالبعلموں کو ہنستا دیکھتے مصنوعی ہنسی کے ساتھ ان کا شریک بن گیا تھا لیکن اب عالم یہ ہے کہ نہایت بے بسی کے ساتھ نہ صرف میری ہنسی نکل جاتی ہے بلکہ میں اکثر اپنا ہی منہ پیٹ لیا کرتا ہوں۔ ان کا فرمانا تھا کہ اگر قرض دینے والا نہایت بد شکل بھی ہو تو وہ بہت ہی خوش شکل لگتا ہے جبکہ ہم (پاکستان) جن سے قرض لیتے ہیں وہ سب کے سب ہی نہایت حسین و جمیل ہیں۔

ان کی یہ بات ممکن ہے کہ کلاس کے سارے بچے خوب اچھی طرح سمجھ کر ہی ہنسے ہوں لیکن میں تو محض اس لئے ہنسا تھا کہ سب ہنس رہے تھے۔ آپ خود ہی سوچیں کہ اگر کوئی نہایت حسین و جمیل بھی ہو، آپ پر اس درجے مہربان ہو کہ آپ کا خرچہ کرانے کی بجائے آپ کی مٹھیاں بھرنے پر تلا ہو تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اپنی بے حد مہربانی کے عوض وہ آپ کے سامنے کوئی فرمائش رکھے اور آپ اسے رد کر سکیں۔

قوم کے علم میں یہ بات خوب اچھے طریقے سے ہوگی کہ کچھ ماہ پہلے حکومتی ترجمانوں کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ عوام پر مہنگائی کا جتنا بوجھ ڈال چکے ہیں اس سے زیادہ بوجھ اب نہیں ڈالیں گے۔ ابھی یہ بات سامنے آئے چند ماہ ہی گزرے تھے کہ آئی ایم کے حسین چہرے کی کشش ان کے اتقا کو لرزہ بر اندام کر گئی اور وارفتگی کے عالم میں آنے والے سال 2021 کے آغاز ہی میں انھوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گراں قدر اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرا کر آئی ایم ایف کو پیغام دیا کہ بندہ آپ کے چرنوں میں بیٹھنے کے لئے تیار ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی گولہ باری میں بھی غنیم نے اس بات کا پورا پورا خیال رکھا کہ بسمل گھائل ہونے کے باوجود بھی گھائل کرنے والے کا ممنون و مشکور رہے۔ چانچہ ان کی جانب سے یہ کہلوایا گیا کہ غالباً ”اوگرا“ جو حکومت سے بھی کہیں زیادہ طاقتور ادارہ ہے اور جس کی بات کو ٹالنے کا مطلب تخت و تاج سے محرومی کی شکل میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے، اس نے قیمتوں میں جس ظالمانہ اضافے کا حکم صادر کیا تھا، غنیم نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے مارٹر گولے برسانے کی بجائے لائٹ مشین گن کا بھرسٹ ہی چلایا ہے۔ جب مہنگائی کے ہاتھوں بسملوں کو غنیم کی اس مہربانی کا علم ہوا تو وہ اپنے سارے زخموں اور ان کی اذیتوں کو فراموش کر کے اپنے معمول کے کاموں میں مشغول ہو گئے۔

پاکستان کے وزیر اعظم ویسے ہیں بہت ہی غریبوں کے ہمدرد۔ ان کی غریب دوستی کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کو گزشتہ ایک برس سے روز اپنی کابینہ کے ارکان کا اجلاس محض اس لئے طلب کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف اشیائے ضروریہ میں تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے اضافے کے سبب کا کھوج لگائیں بلکہ اس بات کی حتی الامکان کوشش کریں کہ بازار میں کسی بھی شے کی قیمت میں اضافہ نہ ہو سکے۔ روز سارے وزرا سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے کو منہ کو تکتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے اضافے کا سبب پوچھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک وزیر بھی یہ نہیں بتا پاتا کہ آخر مہنگائی کے اصل اسباب ہیں تو وہ ہیں کیا۔

کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں چوری ہو گئی تو چوہدری نے سارے گاؤں کو اکٹھا کر لیا۔ درجن پھر افراد نے ایک بڑی ساری چادر پر قرآن کے نسخے رکھ کر چادر کو اپنے ہاتھوں سے بلند کرنے کے بعد پورے گاؤں سے اس کے نیچے سے گزنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی چور ہوگا وہ اس کے نیچے سے گزرتے ہوئے مر جائے گا۔ سارا گاؤں گزر کیا لیکن کوئی بھی نہیں مرا۔ چوہدری نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ سارے چور تو چادر پکڑے ہوئے تھے۔

وزیر اعظم صاحب! اگر آپ کئی ماہ سے مسلسل اپنے وزیروں اور مشیروں کا اجلاس محض مہنگائی کے اسباب معلوم کرنے اور اسے قابو میں کرنے کے لئے طلب کرتے کرتے تھک چکے ہیں لیکن پھر بھی مہنگائی کا جن قابو میں آ کر نہیں دے رہا تو پھر چادر پکڑنے والے سارے خوشامدیوں کو ایک بار چادر کے نیچے سے گزار کر دیکھیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی زندہ گزر جانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر شیر شاہ سوری کی طرح ڈھاٹا کس کر خود ہی درخت کاٹنے نکل کھڑے ہوں۔ چور سارے نمبر دار ہی ہیں، گاؤں والے بے چارے تو مسلسل لٹ جانے والوں میں شامل رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •