ایک ایسے امریکی سیاہ فام ہائی جیکر کی کہانی جسے نسل پرستی نے طیارہ ہائی جیک کرنے پر مجبور کیا

کرس بوکمین - بی بی سی نیوز، کین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

Melvin McNair in November 2020

Francois Decaens
میلوِن میک نائیر کی نومبر 2020 میں لی گئی ایک تصویر

یہ تین مردوں، دو خواتین اور دو چھوٹے بچوں کے ہاتھوں طیارے کی ایک غیر معمولی ہائی جیکنگ تھی۔ انھوں نے ڈیلٹا ایئرلائنز کا ایک طیارہ اغوا کیا، اسے اٹلانٹک سمندر کے اوپر سے اڑاتے ہوئے لے گئے۔ بڑوں نے تو کبھی دوبارہ امریکہ میں قدم نہیں رکھا، جبکہ چار نے فرانس کو اپنا مستقل گھر بنا لیا۔

تیراکوں والا زیر جامہ پہنے ہوئے ایک شخص گرمیوں میں امریکہ کے شہر میامی میں ایئرپورٹ پر کھڑے ایک ڈیلٹا ایئرلائنز ڈی سی 8 کے قریب ایئرپورٹ کی گاڑی چلاتے ہوئے پہنچا۔ گاڑی کے مسافر نے بھی ایسا ہی زیر جامہ پہن رکھا تھا۔ وہ باہر نکلا، اس نے اپنی بغل میں ایک بھاری، نیلا سوٹ کیس اٹھا رکھا تھا، اور وہ چلتے چلتے جہاز کے فیوسیلاج کے کھلے ہوئے دروازے تک پہنچ گیا۔

ایک رسی نیچے آئی اور سوٹ کیس کو اوپر کھینچ لیا گیا۔

اس سوٹ کیس میں 10 لاکھ ڈالر تھے۔

زیر جامہ پہنے ہوئے دونوں لوگ ایف بی آئی کے افسران تھے جن کے بارے میں ہائی جیکروں نے اصرار کیا تھا کہ وہ زیر جاموں کے علاوہ اور کچھ نہ پہنیں تاکہ پتا لگے کہ وہ مسلح نہیں ہیں۔ بعد میں ایک افسر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے زیر جامہ میں بھی بندوق چھپا رکھی تھی۔

جیسے ہی پیسے چیک کر لیے گئے تو ڈیٹرائٹ سے آنے والی اس پرواز کے 86 مسافروں کو چھوڑ دیا گیا اور خالی طیارہ ایک مرتبہ پھر پرواز کر گیا، اس مرتبہ اس کی منزل شمالی افریقہ براستہ بوسٹن تھی۔

یہ 31 جولائی 1972 کا دن تھا اور یہ ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں دوسرا واقعہ تھا جب ہائی جیکر بلیک پینتھر پارٹی کے الجزائر میں واقع ہیڈکوارٹر پہنچنا چاہ رہے تھے۔ یہ اس وقت امریکہ میں سیاہ فاموں کی سب سے طاقتور تحریک تھی۔

ہائی جیکروں میں سے دو افراد 24 سالہ میلوِن میک نائیر اور ان کی 26 سالہ اہلیہ جین تھیں۔ جب وہ سات سال قبل شمالی کیرولائنا کی یونیورسٹی میں ملے تھے تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ان پر طیارہ اغوا کا مقدمہ چلے گا جس کی کم سے کم سزا 20 سال قید اور زیادہ سے زیادہ سزا موت ہے۔

میلوِن شمالی کیرولائنا کے شہر گرینزبورو میں پلے بڑھے تھے جہاں انھوں نے بیس بال میں اپنا لوہا منوایا تھا۔ ان کی ٹیم سیاہ فاموں کی لیگ میں ریاستی چیمپیئن بنی تھی۔ سفید فاموں کی ٹیمیں سیاہ فاموں کے ساتھ نہیں کھیلا کرتی تھیں، اور وہ کہتے ہیں کہ بس یہ ایسے ہی تھا۔

اس کے علاوہ انھوں نے امریکی فٹ بال بھی کھیلی اور نارتھ کیرولائنا سٹیٹ کالج میں ان کی پڑھائی کا خرچ ایک سپورٹس سکالرشپ سے پورا ہوتا۔ مگر جب 1968 میں مارٹن لوتھر کنگ کے قتل کے بعد انھوں نے مظاہروں میں حصہ لیا تو میک نائر کو فوری طور پر فٹ بال ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا، ان کا سکالرشپ ختم ہو گیا اور ان کی تعلیم کا سلسلہ رک گیا۔

مگر وہ کہتے ہیں کہ اگلے سال جب انھیں ڈرافٹ کے ذریعے امریکی فوج میں شمولیت کے لیے منتخب کیا گیا تو انھوں نے واقعتاً جانا کہ ادارہ جاتی نسل پرستی کیا ہوتی ہے۔

برلن میں تعیناتی کے دوران انھوں نے امریکی فوج کے کمپاؤنڈز میں سفید فام نسل پرست گروہ ‘کُو کلکس کلین’ کے انداز کے نشانات دیکھے اور بیرکوں میں سفید فام نسل پرست اہلکاروں کی جانب سے ان کے ساتھی سیاہ فام سپاہیوں کو پیٹا جاتا۔

Melvin McNair

Melvin McNair
میلون میک نائیر اپنی فوجی وردی میں

وہ کہتے ہیں: ‘نسل پرستی پوشیدہ نہیں تھی، چنانچہ ہم نے عسکریت پسند اقدامات پر غور کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے اپنے افسران کو سیلوٹ کرنے سے انکار کرکے غصہ نکالنا شروع کیا، ہم نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں، اپنے بال لمبے کر لیے اور قومی ترانے کے لیے کھڑا ہونا بند کر دیا۔’

اسی دوران امریکہ میں بلیک پینتھرز تحریک خود کو بین الاقوامی سطح تک پھیلانا چاہ رہی تھی اور وہ برلن آئے تاکہ ہم سے بات کریں اور ہمیں بھرتی کر سکیں۔ اس وقت میں نے پینتھرز میں شمولیت اختیار کر لی۔’

جین اس دوران برلن میں میک نائر کے پاس آ گئی تھیں اور جب 1970 میں انھیں بتایا گیا کہ انھیں جلد ہی جنگ میں شرکت کے لیے ویتنام بھیج دیا جائے گا تو اس وقت جین ان کے پہلے بچے کو جنم دینے والی تھیں۔ اس سال بعد میں وہ واپس امریکہ چلے گئے، بظاہر کوئی ایسی جگہ تلاش کرنے کے لیے جہاں جین اور ان کے بیٹے کو میلوِن کی عدم موجودگی میں رکھا جا سکے۔

مگر میک نائر واپس ڈیوٹی پر نہیں گئے اور یہ جوڑا ڈیٹرائٹ میں روپوش ہوگیا جو اس وقت سیاہ فام عسکریت پسندی کا گڑھ تھا۔

ڈیٹرائٹ میں وہ دونوں دو دیگر مفرور اشخاص کے ساتھ ایک گھر میں رہنے لگے۔ ان میں سے ایک شخص جارج رائٹ کو ناکام ڈکیتی کے دوران پیٹرول سٹیشن کے مالک کی ہلاکت کا مجرم پایا گیا تھا، مگر میلوِن اور جین اس سے لاعلم تھے۔ ایک دوسرے کے ماضی کے بارے میں ایسے سوالات پوچھنا مناسب تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ جب دوسرے شخص جارج براؤن کو ڈیٹرائٹ کی پولیس نے گولی ماری جس میں وہ معمولی زخمی ہوئے تھے، تو اُن کا امریکہ چھوڑ دینے کا عزم مضبوط ہو گیا۔

اس گروہ کی نظریں الجزائر پر رک گئیں جہاں بلیک پینتھرز کے کرشماتی لیڈر ایلڈرج کلیور کو امریکہ میں قانون کے ساتھ الجھنے کے بعد خوش آمدید کہا گیا تھا اور وہاں انھوں نے پارٹی کی ایک شاخ کھول لی تھی۔ مگر وہ وہاں پہنچتے کیسے؟ دونوں مردوں نے ایک منصوبہ بنایا۔

The sign on the gate of the international section of the Black Panther Party, in Algiers

Getty Images
الجیئرز میں بلیک پینتھر پارٹی کے دفتر کا گیٹ

میک نائر کہتے ہیں کہ ستر کی دہائی کے اوائل میں طیارہ اغوا آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ عام تھا۔ انھوں نے ڈیٹرائٹ ایئرپورٹ پر اپنا وقت گزار کر اور لاتعداد سوالات پوچھ کر اپنی تحقیق کی۔

وہ کہتے ہیں: ‘وہ دور پاگل پن سے بھرپور تھا مگر ہم نے ہائی جیکنگ کو پڑھا، اور اس طرح کے کسی بھی آپریشن کی کمزوریاں اور قوت کو دیکھا۔ ہمیں ایسا طیارہ منتخب کرنا تھا جو پورا روٹ طے کر کے اٹلانٹک سمندر پار کر سکے۔ اس لیے ہم نے اس طیارے کا انتخاب کیا۔’

انھوں نے بھیس بدلے۔ جارج رائٹ نے پادری کا روپ دھارا، میک نائر نے بزنس مین کا، اور جارج براؤن نے طالبِ علم کا۔ ان کے ساتھ جین تھیں اور جارج براؤن کی گرل فرینڈ جوائس ٹلرسن۔ اس مرحلے تک جین اور میلوِن کے دو بچے تھے جبکہ براؤن اور ٹلرسن کا ایک بچہ تھا۔

جین

Melvin McNair
جین میک نائر اپنے ایک بچے کے ساتھ

کسی طرح انھوں نے تین چھوٹی بندوقیں طیارے میں پہنچا دیں۔ ایک کہانی یہ ہے کہ انھیں بائبل کے صفحات کو بندوق کی صورت میں کاٹ کر ان کے اندر چھپایا گیا تھا اور جب میٹل ڈیٹیکٹر بجے تو سکیورٹی گارڈز نے سوچا کہ یہ خواتین کے جیولری پہننے کی وجہ سے ہے۔ مگر میک نائر کی آج تک اس کی تفصیلات بتانے کے بارے میں ہچکچاہٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ اس سے بڑھ کر تھا اور ممکنہ طور پر انھیں کسی ایئرپورٹ اہلکار کی مدد حاصل تھی۔

ایک مرتبہ جب ڈیلٹا ایئرلائنز کی پرواز 841 نے ڈیٹرائٹ سے میامی کے لیے اڑان بھر لی تو ہائی جیکرز نے اپنے منصوبے پر عمل کرنے سے قبل مسافروں کو اپنا کھانا ختم کرنے دیا۔

مگر دس لاکھ ڈالر اور الجزائر تک کی پرواز کا مطالبہ کرنے کے باوجود انھوں نے کوشش کی کہ کوئی بھی خوفزدہ نہ ہو۔

میک نائر کہتے ہیں: ‘ہم کوئی افراتفری نہیں پھیلانا چاہتے تھے، یاد رکھیں کہ ہمارے ساتھ بھی تین بچے سفر کر رہے تھے۔ ہم نے یہ بھی کوشش کی کہ سٹیوی ونڈر، دی ٹیمپٹیشن اور دی فور ٹاپس کی روح پرور موسیقی چلا کر ماحول کو ہلکا رکھا جائے۔’

Short presentational grey line

BBC

جب وہ میامی میں لینڈ کر گئے تو ایف بی آئی کے ساتھ مذاکرات شروع ہوگئے۔ پہلے تو پولیس نے کہا کہ وہ صرف پانچ لاکھ ڈالر ہی دے سکتے ہیں، جس پر اغواکاروں نے کہا کہ وہ بھی پھر نصف مسافروں کو اپنے ساتھ رکھیں گے اور پرواز کر جائیں گے۔ پادری کا روپ اختیار کیے ہوئے جارج رائٹ نے تو مذاکرات کار سے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ایک مسافر کو گولی مار دیں گے۔

جب ایف بی آئی نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے پوری رقم دینے کی حامی بھر لی تو میک نائر کہتے ہیں کہ انھوں نے دروازے پر آ کر تاوان کی رقم وصول کرنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

کچھ مسافروں کو یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ وہ اپنا سامان تب تک وصول نہیں کر سکیں گے جب تک کہ طیارہ الجزائر سے واپس نہیں آ جاتا مگر اس پوری کارروائی میں کوئی گولی نہیں چلی اور کسی کو جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔

بظاہر سب کچھ منصوبے کے مطابق چل رہا تھا مگر اغوا کاروں نے ایک اہم چیز کو مدِ نظر نہیں رکھا تھا۔ طیارے کے پائلٹ کیپٹن ولیم مے نے پہلے کبھی اٹلانٹک کے اوپر پرواز نہیں کی تھی اس لیے انھیں پہلے بوسٹن جانا تھا، جہاں سے ایک تجربہ کار پائلٹ طیارے میں سوار ہوتے، وہ بھی صرف زیر جامے میں۔

باقی کا سفر پرسکون انداز میں گزر گیا۔ مرد اغوا کار سو گئے جبکہ خواتین ہائی جیکروں نے رات بھر کی اس پرواز کے دوران عملے اور چار خاتون فضائی میزبانوں پر نظر رکھی۔

جب وہ الجزائر پہنچے تو طیارے کو سپاہیوں نے گھیر لیا اور ایک افسر طیارے پر چڑھا۔ اس کے پہلے الفاظ تھے، ‘اپنے گھر میں خوش آمدید۔’

میک نائر کہتے ہیں کہ پائلٹ اصل ہیرو تھے۔

‘جب ہم الجزائر پہنچے تو ہم نے پائلٹ کو ان کی خدمات کے عوض ادائیگی کرنے کی پیشکش کی مگر انھوں نے کہا، ‘نہیں، شکریہ۔’ پائلٹ نے ایف بی آئی اور اس کے ماہر نشانہ بازوں کو یقین دلایا تھا کہ طیارے میں سب کچھ پر امن ہے۔ جب ہم طیارے سے نکلے تو ہم نے کہا، ‘ہم نے یہ کام کتنے زبردست انداز میں کیا۔’ مگر بعد میں ہم نے سوچا کہ کتنی چیزیں تھیں جو غلط رخ اختیار کر سکتی تھیں۔

ہائی جیکروں کو فوراً ہی اندازہ ہوگیا کہ الجزائر میں سکونت اختیار کرنا ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ وہاں پر موجود کوئی ایک درجن بلیک پینتھرز میں سے زیادہ تر پہلے ہی اپنا سامان باندھ رہے تھے یا جا چکے تھے، اور الجزائر حکومت اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری آ رہی تھی۔

Eldridge Cleaver (right) in Algiers in c1970

Getty Images
ایلڈرج کلیور (دائیں) دارالحکومت الجیر میں، 1970 کی دہائی میں

ہائی جیکروں سے کہا گیا کہ وہ دس لاکھ ڈالر ان کے حوالے کر دیں، جنھیں واپس امریکہ بھیج دیا گیا۔ اس سے الجزائر میں رہنے والے چند بلیک پینتھر ناراض ہوگئے جنھیں ہائی جیکروں سے زیادہ پیسے سے دلچسپی تھی۔

اگلے 14 ماہ وہ مسلسل خوف کی حالت میں دارالحکومت الجیر کے ایک مضافاتی علاقے میں ایک کمپاؤنڈ میں رہتے رہے جس کا عجیب اور پراسرار ایجنٹ گھیراؤ کیے رکھتے جن میں کچھ الجزائری ہوتے اور کچھ غیر ملکی، جن کے متعلق میلوِن کا خیال ہے کہ وہ امریکی بحریہ کے کمانڈوز تھے۔

میلوِن اور جین کو فوراً ہی احساس ہوگیا تھا کہ انھیں اپنے بچوں کو واپس اپنے رشتے داروں کے پاس امریکہ بھیجنا ہوگا۔

وہ کہتے ہیں: ‘خفیہ زندگی گزارنا کوئی مزیدار کام نہیں ہے۔ آپ مسلسل خطرے کی زد میں رہتے ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ دروازے سے کیا اندر آئے گا، آپ ایک آنکھ کھلی رکھ کر سوتے ہیں۔ آپ پوشیدہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت تناؤ ہوتا ہے۔’

وہ کہتے ہیں: ‘ہم جانتے تھے کہ پینتھرز ملک چھوڑ رہے ہیں اور ہم پیچھے رہ جائیں گے۔ انھوں نے وہاں اپنا قیام مکمل کر لیا تھا۔ الجزائر میں پینتھرز کا وقت ختم ہو چکا تھا۔’

ایک مرتبہ پھر میک نائر اور جین جارج براؤن اور جوائس ٹلرسن کے ساتھ بھاگ نکلے۔ اس مرتبہ ان کی منزل جینیوا کے راستے پیرس تھا۔ یہ کام انھوں نے جعلی پاسپورٹ اور انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم کی حمایت کے ذریعے کیا۔

سنہ 1974 کی خزاں میں وہ پیرس پہنچے اور اپنے فرانسیسی ہمدردوں کے ساتھ رہتے ہوئے چھوٹے موٹے کام کرنے لگے۔ اگر کوئی پوچھتا تو ان کی کہانی یہ تھی کہ وہ ویتنام میں جنگ کے لیے بھیجے جانے سے بچنے کے لیے امریکہ سے فرار ہوگئے تھے۔ سب سے بڑی مشکل جو انھوں نے جھیلی وہ اپنے بچوں سے جدائی تھی۔

Jean with French bread and wine

Melvin McNair
جین فرینچ بریڈ اور وائین پکڑے ہوئے

بالآخر جب انھیں 1976 میں فرانسیسی پولیس نے گرفتار کر لیا تو امریکہ نے ان کی حوالگی کے لیے کوشش کی لیکن فرانسیسی عدالت نے یہ دلیل تسلیم کر لی کہ یہ سیاسی نوعیت کا مقدمہ تھا اور درحقیقت مقدمہ امریکی نسل پرستی پر چلایا جانا چاہیے۔ مگر ان پر ایک فرانسیسی عدالت میں ہائی جیکنگ کا مقدمہ چلایا گیا اور انھیں ٹرائل سے قبل ڈھائی سال تک حراست میں رکھا گیا۔

ٹرائل کے بعد دونوں خواتین کو چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔ میک نائر کو ہائی جیکنگ کے لیے پانچ سال کی سزا سنائی گئی تاہم اس سزا کو ان کے اچھے رویہ اور فرانسیسی زبان سیکھنے پر ان کی آمادگی کی وجہ سے گھٹا دیا گیا۔ میک نائر کہتے ہیں کہ جارج براؤن کو لمبے عرصے کے لیے جیل میں رہنا پڑا کیونکہ انھوں نے زبان سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔

Melvin reunited with the family after his release from jail

Melvin McNair
میلون جیل سے چھوٹنے کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ

بالآخر مئی 1980 میں میک نائر آزاد ہوگئے اور یہ خاندان آٹھ سال طویل جدائی کے بعد دوبارہ اکٹھا ہوگیا۔

Short presentational grey line

BBC

میک نائر نے ایک سماجی کارکن اور سپورٹس کوچ کے طور پر ایک نئی زندگی کا آغاز کیا اور اپنی اہلیہ جین کے ساتھ 1980 کی دہائی کے اوائل میں نارمنڈی کے ساحلی قصبے کین میں منتقل ہوگئے۔ تب سے لے کر اب تک وہ قصبے کے باہر موجود ایک غریب علاقے میں فلاحی کاموں میں اپنا وقت گزارتے ہیں، اور انھوں نے سینکڑوں بچوں کو مقامی کلب میں بیس بال کھیلنی سکھائی ہے۔

کلب کے میدان کا نام بھی ان کے اور جین کے نام پر ہے جنھوں نے سماجی مساوات کے مسائل پر ان کے ساتھ کام کیا۔ بچوں کے لیے ان کا پیغام سادہ ہے: ‘میں جس چیز سے گزرا اور اس تجربے سے میں نے جو سیکھا وہ اچھا ہے، اور میں نے وقت گزار لیا ہے، جو کہ اچھی بات ہے۔ لہٰذا میں بچوں سے سکول میں اس بارے میں بات کرتا ہوں اور کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو میری کہانی نہیں سننا چاہتے، ان کے لیے یہ آنکھیں کھول دینے والی کہانی ہونی چاہیے، کہ انھیں چیزیں مختلف انداز میں کرنی چاہیئں، پڑھنا چاہیے، محنت کرنی چاہیے، اور ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے۔’

Melvin McNair showing a child how to play baseball in 2013

Francois Decaens
سنہ 2013 میں کین میں بچوں کو بیس بال سکھاتے ہوئے

جین کی کچھ عرصہ قبل وفات ہوگئی اور اب 72 برس کے ہو چکے میلوِن مقامی برادری میں ثالث کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کام خاندانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ اگر وہ مالی مشکلات کے شکار ہوں تو وہ کہاں جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ وہ مقامی آبادی کے بچوں اور مقامی پولیس کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

ان کے تین میں سے دو بچے فرانسیسی ہیں۔ سب سے بڑے بیٹے جوہاری امریکہ واپس چلے گئے تھے جہاں 1998 میں انھیں 28 سال کی عمر میں شمالی کیرولائنا میں گولی مار دی گئی تھی۔ میک نائر کہتے ہیں کہ بظاہر وہ غلط وقت پر غلط جگہ موجود تھے، وہاں منشیات کے معاملے پر جنگ جاری تھی اور ان کی ایک گینگ لیڈر سے تکرار ہو گئی تھی۔

سنہ 2012 میں مایا ویکسلر کی ہدایت کاری میں بننے والی دستاویزی فلم ’میلوِن اینڈ جین: این امیریکن سٹوری‘ میں میلوِن میک نائر آنسوؤں بھرے چہرے کے ساتھ کہتے ہیں: ‘میں نے جو کچھ کیا، ان کے لیے کیا، ان کی حفاظت کے لیے کیا، اور پھر میں نے انھیں کھو دیا۔’

ان کا بیٹا اور ان کی اہلیہ دونوں ہی کین میں دفن ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی وہیں دفن ہوں گے۔

دیگر ہائی جیکروں میں سے جوائس ٹلرسن پیرس میں جنوبی افریقی سفارتخانے کے لیے کام کرنے لگیں اور سنہ 2000 میں کینسر کے باعث چل بسیں۔ جارج براؤن بھی پیرس میں رہے اور پانچ سال قبل ان کی وفات ہوگئی۔

پانچویں شخص جارج رائٹ مغربی افریقہ کے ملک گنی بساؤ چلے گئے اور پھر کئی دہائیوں تک روپوش رہے۔ اس کے بعد وہ پرتگال میں بطور پرتگالی شہری دوبارہ سامنے آئے اور حوالگی کی امریکی کوششوں کے باوجود اب تک وہیں مقیم ہیں۔

پائلٹ ولیم مے نے دستاویزی فلم میلوِن اینڈ جین میں میک نائر خاندان سے خوشگوار ملاقات کے لیے فرانس کا دورہ کیا تھا۔ انھوں نے ہاتھ ملائے، ایک دوسرے کو گلے لگایا، اور کسی قسم کے برے احساسات کا اظہار نہیں کیا۔ ہائی جیکنگ کے بعد ولیم مے ڈیلٹا کے لیے اندرونِ ملک پروازیں اڑانے کے بجائے پروموٹ ہو کر بین الاقوامی پروازیں اڑانے لگے۔

میک نائر کہتے ہیں کہ وہ امریکہ میں اپنے خاندان کی کمی بہت محسوس کرتے ہیں مگر وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ واپس گئے تو انھیں شاید گرفتار کر لیا جائے اور وہ کہتے ہیں کہ ان کا جیل واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

Melvin McNair in November 2020

Francois Decaens
میلون مک نائیر

وہ سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے چلائی جانے والی تحریک بلیک لائیو میٹر کی تعریف کرتے ہیں مگر جب وہ سنتے ہیں کہ سیاہ فام ملیشیا گروہ اسلحہ اٹھا کر تربیت حاصل کر رہے ہیں، بھلے ہی دفاعی مقصد کے لیے، تو وہ فکرمند ہوجاتے ہیں۔

وہ بلیک پینتھرز کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے بھی نسل پرستی کے متعلق جائز مطالبات تھے مگر اسلحہ اٹھانے کی وجہ سے امریکی حکام کو انھیں ختم کرنے کی وجہ ہاتھ آ گئی۔

اور جس ہائی جیکنگ نے ان کی زندگی تبدیل کر دی، کیا انھیں اس پر افسوس ہے؟

‘مجھے ہمیشہ افسوس ہوتا ہے۔ اس طرح کہ اگر آپ زیادہ ذہین اور سادہ نہ ہوتے تو آپ وہ غلطیاں نہیں کرتے جو آپ نے کیں۔ مجھے اس نسل پرستی پر افسوس ہے جس نے مجھے اس مایوس کُن صورتحال میں دھکیلا جس کی وجہ سے میں نے وہ کیا، جو میں نے کیا۔ مجھے افسوس ہے کہ اس کی وجہ سے میں امریکہ اور اپنے خاندان سے دور جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں، مگر مجھے اس علاقے میں مثبت تبدیلی لانے کا نیا موقع ملا ہے جہاں میں رہ رہا ہوں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17383 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp