سماجی دُوریوں کے دَور میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سماجی دوری“ آپ نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی شاید ہی یہ لفظ سنا ہو لیکن 2019 کے بعد اس لفظ سے آپ بخوبی واقف ہو گئے ہوں گے۔ مجھے بھی پہلے اس لفظ  کا مطلب معلوم نہیں تھا لیکن اب میں بھی جانتی ہوں۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ اس لفظ کے معنوں میں بہت کچھ چھپا ہے ۔ بظاہر تو اس کا مطلب سماج کے لوگوں یا اپنے اردگرد کے لوگوں سے فاصلہ اختیار کرنا ہے لیکن کبھی آپ غور کریں اور سوچیں کہ سماجی دوری ہم صرف کورونا کی وبا کے آنے سے ہی اختیار کر رہے ہیں؟

نہیں بلکہ بہت پہلے سے ہی پم یہ پریکٹس کر رہے ہیں۔ چاہے وہ گھر ہو یا دفتر ہر جگہ انسان ایک دوسرے سے گریز چاہتا ہے ، ہر چیز سے دوری اختیار کرنا تو جیسے ایک ٹرینڈ بن گیا ہو اکیسویں صدی کے لوگوں کے لیے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر انسان اتنا مصروف ہو گیا ہے کہ اسے اپنے ہمسائے تو کیا کمرے میں موجود اپنے ساتھ بیٹھے شخص کی بھی خبر نہیں ہوتی۔ آج سے پہلے میں نے کبھی یہ لفظ نہیں سنا تھا اور اب تک اس لفظ کے معنوں پر دھیان بھی نہیں دیا تھا۔ مجھے اس کا احساس چند روز قبل رات کے پچھلے پہر اکیلے بیٹھے ہوئے ہوا۔ رات کی سیاہی نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کے ہم کس راہ پر چلے جا رہے ہیں۔ ہم نے خود کو اپنے دائروں میں جیسے بند کر رکھا ہو۔ کیا زمانہ تھا جب سب گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کے ہنسی مذاق کرتے تھے ، شام کی چائے اکٹھے پی جاتی تھی۔

اب تو جیسے یہ سب سب چیزیں کہیں کھو گئی ہیں  اور اگر کبھی مل جائیں تو غنیمت سمجھیں ،مجھے رات کے  وقت بیٹھے اپنی تنہائی کا بڑا احساس ہوا، دوست تو جیسے میری زندگی میں بس برائے نام ہی ہوں  اور پھر کسی سے بات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا کہ کوئی کیا میری باتوں کو سنے گا تو سوچا اپنے قلم سے اپنی کیفیت بیان کردیتی ہوں ۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں سوشل ڈسٹنس تو ہم نے بہت پہلے سے اختیار کر لیا ہے۔ ہر کوئی تو جیسے اپنی ہی مستی میں گم ہے، کوئی کیا کر رہا ہے، کس حال میں ہے،  ہمیں فرق ہی نہیں پڑتا۔  بے حسی تو جیسے رگوں میں دوڑ رہی ہو۔ سماجی دوری کا یہ عالم ہے کہ ماں اپنے بچے سے جان چھڑانے کے لیے اسے موبائل فون تھما دیتی ہے تاکہ وہ سکون سے اپنے پسندیدہ ڈرامے دیکھ سکے۔ اور اب کورونا وائرس نے تو لوگوں میں مزید دوری پیدا کر دی ہے۔

ہر چیز تبدیل ہوتی جاری ہے، ایک وقت ایسا بھی تھا جب گھروں میں کتابوں کی بھرمار ہوا کرتی تھی۔ گھروں میں رسالوں اور اردو ڈئجسٹ آنا تو جیسے معمول کی بات تھی۔ پھر جو کچھ رسالوں میں پڑھا ہوتا تھا وہ سب دوستوں اور بہن بھائیوں سے ڈسکس کیا جاتا تھا۔ کتابوں تک کو ڈیجیٹل لائبریری نے ری پلیس کر دیا ہے۔

شام کو گلی کے بچے جو کھیل کھیلا کر تھے کبھی گلی ڈنڈا، چھپن چھپائی ان کو بھی آن لائن گیمز نے رپلیس کر دیا ہے۔ آج کل کے بچے موبائل فونز میں اس قدر مگن ہو گئے ہیں کہ انہیں کھانے پینے کا ہوش بھی ہوتا۔

ہر چیز کو اس نئے دور نے بدل کر رکھ دیا ہے ، خواہ وہ انسان ہو یا روز مرہ کی ضروریات زندگی کی اشیاء۔ دفتر کے کاموں کو ورک فرام ہوم سے بدل دیا ہے ، تعلیم ہو یا شاپنگ سب کی جگہ ڈیجیٹل ورلڈ نے لے لی ہے۔ اور اب تو کورونا کی ایک اور نئی شکل نے جنم لے لیا ہے ، بیرونی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں کوویڈ ٹو بہت تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔ شعبہ صحت سندھ کے مطابق کورونا ویرینٹ ٹو کے شکار چند لوگ برطانیہ سے پاکستان آنے والی کراچی کی فلائٹ میں بھی تھے۔

نہ جانے کب کورونا کا عذاب ختم ہوگا اور لوگوں سے مزید کتنا فاصلہ اختیار کرنا پڑے گا۔ خیر جب تک رکھ سکتے ہیں ، رکھیں آپ بھی اور میں بھی سب کی بھلائی اسی میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وفا بشیر کی دیگر تحریریں