قادیانی کافر ہیں
آئے روز اپنی فیس بک ٹائم لائن پر یہ الفاظ لکھے ہوئے دیکھتا ہوں جو ایمان سے لبریز مسلمان بھائی جوش و خروش سے لکھتے ہیں۔ ہاں بھائی کافر ہیں تو کیا کریں پھر? اب ان کا اچار ڈالیں، ان کو دفن کر دیں، ان کو جلا دیں، چاہتے کیا ہو آخر؟
جبکہ یہ سارے کام تم ماضی میں کرچکے ہو اور آج تک کر رہے ہو. آئین میں لکھ دی گئی ہے یہ بات لیکن پھر بھی تمھیں اپنے آئین پر یقین آ رہا ہے اور نہ ہی اپنی آنکھوں پر۔ اب کیا چاہتے ہو، اب یہ تکرار کیسی؟ نہ ان کی جائییدادیں چھوڑیں، نہ ان کی عزتیں چھوڑیں اور نہ ان کے گھر چھوڑے۔ ان کی اکثریت آپ کے خوف سے ملک چھوڑ چکی ہے۔ ذہنی طور پر ایک نارمل انسان کو ایسی تکرار کرنے کی بظاہر سمجھ نہیں آتی۔
ایسی تکرار کرنے والے کی ذہنی حالت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کیا ایسا تو نہیں کہ اس کو اپنی ہی آواز پر یقین نہیں ہوتا؟ جس کی وجہ سے وہ اونچی اونچی آواز میں، اور چیخ چیخ کر بار بار کہتا ہو کہ قادیانی کافر ہیں، اس کو غشی کے دورے پڑتے ہوں، اس کی دماغ کی رگیں پھٹتی ہوں۔ اچانک اس کو اندر سے آواز آتی ہو ”نہیں وہ کافر نہیں ہیں“ اس اندر کی آواز کو دبانے کے لیے وہ ایک بار پھر چیخ چیخ کر اس بات کا اعادہ اور تکرار کرتا ہو، تنہائی میں، مسجد میں، مجلس میں یا پھر بازار میں کہ ”قادیانی کافر ہیں“۔
بچپن میں مجھے ایسے کچھ مجذوب لوگوں سے چھیڑ خانیاں یاد آجاتی ہیں جب ہم ان کو چڑانے یا چھیڑنے کے لیے کسی مخصوص نام سے پکارتے تھے اور وہ چیخ چیخ کر اس کا الٹ بول کر ہمیں یقین دلاتا تھا۔ یہی کیفیت انہی مسلمان بھائیوں کی ہو گئی ہے جن کے اپنے دل کو اس بات کا بھروسا نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ بار بار خود کو یقین دلاتے ہیں کہ قادیانی کافر ہیں۔
ایسی ہی حالت ہماری یورپ اور امریکہ میں ہے۔ جب وہ ہمیں کہتے ہیں کہ ”مسلمان دہشت گرد ہیں“ اور ہم ان کو چیخ چیخ کر، بار بار اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ ”مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں۔ کیا کریں اس نفرت کے کھیل میں ملاووں نے ہمیں ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اس تکرار نے یورپ اور امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے جبکہ پاکستان میں چند لاکھ قادیانوں نے پکے سچے مسلمانوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔
اس نفرت میں ہمیں نہ تو پاکستانی آئین میں لکھی ہوئی بات کا یقین ہے اور نہ ہی اپنی آنکھوں، دل اور دماغ پر بھروسا رہا ہے۔


