چین کی دوراندیش اعلیٰ قیادت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین کے صدر شی جن پھنگ نے ابھی حال ہی میں اپنے نئے سال کے خطاب میں ایک مرتبہ پھر عوام کی مرکزی اہمیت پر زور دیتے ہوئے 2021 کے لئے اہم قومی ترقیاتی اور معاشی اہداف کا تعین کیا۔ انہوں نے چینی عوام کی استقامت اور ہمت اور گزشتہ برس وبا سے نمٹنے کے لئے چینی عوام کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے نئے سال کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے 2020 کے ”غیر معمولی“ سال میں کووڈ۔ 19 کے خلاف ردعمل، معاشی بحالی اور غربت کے خاتمے میں قومی سطح پر حاصل کردہ کامیابیوں کی تعریف کی۔

صدر شی نے ان عام ہیروز کو سلام پیش کیا جو وبا کی فرنٹ لائن پر مصروف عمل رہے۔ ایسے عام لوگوں نے انسداد وبا کے لیے غیرمتزلزل طور پر اپنے فرائض ادا کیے اور دفاع کے لیے ایک ایسی فولادی دیوار تعمیر کی جو آج بھی چینی قوم کا تحفظ کر رہی ہے۔ چینی صدر کے خطاب میں انسداد وبا اور اقتصادی بحالی کے عمل میں بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو کووڈ۔ 19 دنیا کی اقتصادی سماجی ترقی کے لیے ایک شدیددھچکا ہے۔ ایسے میں دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی جانب سے باہمی تجارت، کھلی منڈیوں اور سرحد پار انسانی سرمائے اور ہنر کے تبادلے کی حقیقی خواہش ایک اعلیٰ معیار کی عالمی معیشت کی تخلیق میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ سال 2020 میں بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی اہمیت بھی واضح طور پر عیاں ہوئی ہے جبکہ چینی صدر نے تمام عالمی فورمز پر بارہا اس نظریے کا ہمیشہ پرچار کیا۔ دنیا نے شدت سے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ کوئی بھی ملک تمام تر وسائل کے باوجود تنہا وبا سے نہیں نمٹ سکتا ہے۔

چینی صدر نے اپنے خطاب میں اہم اقتصادی امور پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہم نے وبائی اثرات پر قابو پاتے ہوئے وبا کی روک تھام و کنٹرول اور اقتصادی سماجی ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ”13 واں پنج سالہ منصوبہ“ کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ ”14 ویں پنج سالہ“ منصوبے پر عمل درآمد کی جامع تیاری جاری ہے۔ ترقی کے نئے ڈھانچے کے قیام کو تیزتر کیا جا رہا ہے اوراعلیٰ معیاری ترقیاتی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ چین نے اہم عالمی معیشتوں میں سب سے پہلے مثبت شرح نمو کے ہدف کی تکمیل کی ہے۔ دو ہزار بیس میں چین کی جی ڈی پی ایک سو ٹریلین یوان تک جا پہنچنے کا امکان ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

چینی صدر نے مزید کہا کہ سال 2020 کے دوران خوشحال معاشرے کی جامع تشکیل میں عظیم تاریخی کامیابیاں حاصل ہوئی ہے۔ غربت کے خاتمے میں کلیدی کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ چین نے انسداد غربت کی کٹھن جنگ میں بھرپور اقدامات اپنائے اور اس مشکل ترین ہدف کی تکمیل کی گئی ہے۔ آٹھ برسوں کے دوران دیہی علاقے کے تقریباً دس کروڑ غریب افراد غربت سے نجات پا چکے ہیں، 832 غربت زدہ کاونٹیاں غربت سے باہر نکل چکی ہیں۔ انہوں نے یہ عزم ظاہر کیا کہ ہم ثابت قدمی سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہوئے محنت سے کام کریں گے، دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے انتھک کوششیں کی جائیں گی اور مشترکہ خوشحالی کے ہدف کی جانب مستحکم طور پر آگے بڑھا جائے گا۔

اصلاحات اور کھلے پن سے ترقی کا ایک معجزہ تخلیق کیا گیا ہے۔ مستقبل میں ہمیں مزید پختہ عزم سے اصلاحات اورکھلے پن کو وسعت دینی چاہیے۔ شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ درست اقدار اور اخلاقیات کو دنیا بھر میں مقبولیت ملتی ہے۔ گزشتہ سال کے تجربات کی روشنی میں ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کی اہمیت بہتر طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران انسداد وبا میں اتحاد بات چیت کا مرکزی موضوع رہا ہے۔ وبا کی روک تھام اور کنٹرول ایک طویل اور مشکل کام ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کو ایک ساتھ مل کر وبائی اثرات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایک مزید خوشحال گھر کی تعمیر کرنی چاہیے۔

چینی صدر نے مزید کہا کہ چین نے شدید سیلاب پر بھی کامیابی سے قابو پایا ہے۔ چینی فوج اور عوام نے مشکلات سے نمٹتے ہوئے ایک ساتھ مل کر سیلاب کا مقابلہ کیا اور ممکنہ حد تک نقصانات میں کمی کے لیے کوشش کی ہے۔ شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ تیرہ صوبوں کے دوروں کے دوران انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ چینی عوام انسداد وبا کے اقدامات پر بخوبی عمل پیرا ہیں اور پیداواری سرگرمیوں کی بحالی میں وقت کو قیمتی نگاہ سے دیکھتے ہوئے مثبت طور پر شریک ہو رہے ہیں، تخلیقی سرگرمیوں کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین نے انسداد وبا کے لیے ترقی پذیر معیشتوں کو، خاص طور پر ایشیائی اور افریقی ممالک میں وینٹیلیٹرز، ماسک، حفاظتی لباس اور ادویات سمیت دیگر ضروری اشیا کے عطیات فراہم کیے ہیں جس سے عالمی برادری کو درپیش بڑے چیلنجز کے تناظر میں چین کے ایک بڑے اور اہم ملک کی ذمہ داری کی عکاسی ہوتی ہے۔ نئے سال کے موقع پر چینی صدر کا خطاب چینی عوام کے لیے جدوجہد اور ہمت کا سبق ہے، اس سے مسائل سے نمٹنے کے لیے دیگر دنیا کی اقوام کو بھی آگے بڑھنے کی ترغیب اور تحریک ملتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •