غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور مسلمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ظلم کو ظلم سے انصاف اور غلط کو غلط سے صحیح نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کی یہ دین ہے کہ مسلمانان عالم از خود یا انتقامی کارروائی کے تحت غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی نہیں کرتے ان پر حملہ نہیں کرتے غیروں کے مذہبی شعائر اور عمارتوں کی تور پھوڑ نہیں کرتے اس لئے کہ ہمارے نبی رحمة للعالمین ﷺ نے امن تو امن جنگ کے دوران بھی غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کرنے سے، ان کے مذہبی پیشواؤں پر حملہ کرنے سے (الا یہ کہ وہ ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائیں ) ، شیرخوار اور چھوٹے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں، بیماروں اور جانوروں کو مارنے سے منع کیا ہے۔

فتح سے سرشار عموماً فاتح قومیں جو کرتی تھیں اس سے بھی روکا ہے یعنی عمارتوں کو منہدم کرنے سے، درختوں کو اجاڑنے سے، فصلوں کو برباد کرنے سے اور مقتولین کے جسموں کے اعضاء کو کاٹنے اور مسخ کرنے سے منع کیا ہے۔ ان کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام قبول کرنے کے لئے جبر کرنے سے روکا ہے اور قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک اور درگزر کرنے کی ہدایت دی ہے۔

پچھلے دنوں 31 دسمبر 2020 کی شام پاکستان کے باندہ داؤد شاہ کرک تحصیل میں ایک مندر کی توڑ پھوڑ کی گئی جسے مختلف ذرائع ابلاغ نے نشر کرتے ہوئے عدم رواداری کا واقعہ بتایا ہے۔

اس طرح کے شاذ و نادر ہی سہی بعض واقعات مصر میں بھی قبطیوں کے کلیساؤں کے خلاف سرزد ہونے کی خبریں آتی تھیں لیکن مصریوں کی غالب اکثریت نے ایسے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے تھے اور جنونیوں کے حوصلے یہ کہتے ہوئے پست کر دیا کرتے ہیں کہ اس طرح کی حرکتوں کے لئے ہمارے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔

پاکستان میں وقوع پذیر مندر بے حرمتی کے اس واقعے کو ہم استثنیٰ پر محمول کرتے ہوئے کچھ جاہل مذہبی جنونیوں کی احمقانہ حرکت بھی کہہ سکتے تھے مگر اس کی گنجائش اس لئے نہیں کہ ایک سیاسی جماعت کے زیر انتظام جلسہ منعقد ہوا اور اس جلسے کے ہجوم نے کدال اور پھاوڑے سے توڑ پھوڑ کی۔ بالفاظ دیگر توڑ پھوڑ پر حاضرین جلسہ کو مشتعل کیا گیا۔

یہ توڑ پھوڑ اقلیتوں کی طرف سے کسی قسم کی اشتعال انگیزی کے ردعمل کے طور پر نہیں تھی۔ جس سیاسی جماعت کے زیر اہتمام یہ جلسہ منعقد ہوا اس کے صدر مولانا فضل الرحمان صاحب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ ہیں۔ مولانا یعنی علم دین کی حامل شخصیت اور ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ یعنی جمہوری اقدار کے حامی شخص۔ دونوں کے مجموعہ شخصیت کے منتسبین سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے والی حرکت کو چند سر پھرے گنواروں کا عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہی بات پاکستان کے بارے میں بھی کہی جائے گی کہ اگر یہ ملک اسلامی ریاست پاکستان ہے تو مذکورہ بالا اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی کیوں؟ اور اگر یہ ماڈرن ریپبلک ہے تو پچھلے 73 سال میں اپنے شہریوں بالخصوص ان چھوٹے بڑے رہنماؤں کے ذہنوں میں مذہبی رواداری راسخ کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہے۔ کسی بھی مہذب ملک بالخصوص مختلف ادیان اور متنوع ثقافت والے ممالک میں انسانی ترقی اور قوموں کی ذہنی بالیدگی کا اندازہ کرنے کا پیمانہ

مذہبی رواداری ہے۔ اس بابت پاکستان کے چیف جسٹس محترم گلزار احمد صاحب کا از خود نوٹس لینا بلا شبہ قابل ستائش ہے بھارت میں کئی لوگوں نے ان کے اقدام کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تعریف کی ہے اور بطور مثال اپنی پیش کیا ہے۔ تاہم پاکستان میں مندر پر حملے یا اقلیتی طبقے کے ساتھ ناروا سلوک سے نہ صرف بھارت کے مسلمان بلکہ مسلمانان عالم کو شرمندگی کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ دلیل کہ بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر غیر مسلم حملہ کرتے ہیں اگر وہاں کی اکثریت اس کی مذمت نہیں کرتی تو پاکستانی حکومت، سیاسی جماعتوں اور عام شہریوں سے اس کے برعکس توقع کرنا مبنی بر انصاف نہیں ہے درست نہیں ہے اس لئے کہ دوسروں کی غلطی آپ بطور جواز پیش نہیں کر سکتے غلط غلط ہے خواہ اکثریت کی جانب سے ہو یا اقلیت کی جانب سے۔

دوسری بات یہ کہ ہمیں دعویٰ ہے کہ اللہ نے ہمیں دنیا کے لئے خیر امت بنا کر بھیجا ہے۔ کنتم خیر امة اخرجت للناس (قرآن) ہم یہ تمغہ بھی اپنے پاس رکھنا چاہیں اور عام لوگوں سے الگ اپنی امتیازی شناخت بھی مٹاتے رہیں یہ کیسے ممکن ہوگا۔ اصلاح معاشرہ کا عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا پنڈال میں مائیک اور لائٹ کا عمدہ انتظام کیا گیا تھا۔ مولانا نے اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے روشنی اور آواز کے بہتر نظم کی تعریف کرتے ہوئے منتظمین کو بلایا اور پوچھا کہ بجلی کا کنکشن کس کے گھر کی میٹر سے ہے؟

منتظمین نے بتایا کہ قریب کے بجلی کے کھمبے سے ہے۔ مولانا نے کہا یہ تو ناجائز ہے میں تقریر نہیں کروں گا لوگوں نے کہا حضرت غیر مسلم بھی اپنے ہر تہوار میں ایسا ہی کرتے ہیں۔ مولانا نے کہا اللہ نے آپ کو خیر امت کا خطاب دیا ہے دوسروں کے لیے نمونہ بنا کر بھیجا ہے آپ ان جیسا کیوں بننا چاہتے ہیں آپ کیوں ان کی اقتدا کر کے جہنم رسید ہونا چاہتے ہیں؟ اس واقعے کا شاہد میں خود ہوں اور اس کے ذکر سے مقصد ان لوگوں کو جواب دینا ہے جو کہتے ہیں کہ بھارت میں بھی مسجدوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ 90 کی دہائی سے قبل ایسا کوئی واقعہ شاذ و نادر ہوتا تھا۔ دوسری بات یہ 90 سے ایک مخصوص متشدد جماعت کے عناصر ایسی حرکتیں کرنے میں ملوث ہوتے ہیں اور عام ہندو ایسی حرکتوں کو ناپسند کرتا ہے۔ اور تیسری مگر سب سے اہم بات یہ کہ آپ ایک اسلامی ریاست کے شہری ہیں اور آپ کے ماڈرن ملک کا آئین ”ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے اسی طرح ہر مذہبی فرقہ کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے اور اس کے نظم و نسق کا اختیار دیا ہے“ تو پھر آپ اپنی اسلامی تعلیمات اور دستوری حقوق و فرائض کی پابندی کرنے کی بجائے کسی ملک میں مسجد کی بے حرمتی کا انتقام کی سوچ کر اپنے وطن، اپنے دین اسلام اور مسلمانان عالم کی خدمت نہیں نقصان پہنچا رہے ہیں۔

مذہبی رواداری مسلمانوں کی امتیازی شناخت ہے اسے مدارس اور اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ لیکن افسوس ہمارے علما مذہب کی صحیح تعلیم و تربیت دینے کی بجائے مسلک کے تحفظ و فروغ میں اپنی توانائی صرف کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •