وزیر اعظم کا منشور: کیا ہٹ کے ہو رہا ہے؟
ہمارے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے گزشتہ دنوں اینکر کامران شاہد کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں بڑا دلچسپ سوال کیا اور کہا کہ ”اگر میں کٹھ پتلی ہوں تو بتاؤ کہ میں کون سا کام اپنے منشور سے الگ کر رہا ہوں“ وزیراعظم صاحب یہ تو آپ بہتر جانتے ہیں کہ آپ کٹھ پتلی ہیں یا نہیں اور آپ کس کے مہرے کے طور پر استعمال ہوں رہے ہیں۔ لیکن آپ کی اس سوال ”میں اپنے منشور سے کون سا کام الگ کر رہا ہوں“ کا جواب میرے پاس ہے تو سنیے وزیراعظم صاحب!
آپ کے منشور کا حصہ تھا کہ پاکستانیوں کی لوٹی ہوئی دولت جو باہر پڑی ہے تقریباً 200 ارب ڈالر واپس لانے ہیں اس رقم سے ملک کا قرضہ اتارنا ہے اور بقایا رقم عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنی ہے لیکن افسوس وہ رقم تو واپس نہ آ سکیں ہاں مگر جس فرم کی خدمات حاصل کی گئی تھیں برطانیہ میں اس رقم کا سراغ لگانے کے لیے اس کو فیس کی عدم ادائیگی پر اب جرمانہ بھی بھرنا پڑا ہے حکومت پاکستان کو اور یہ بھی ہم غریب پاکستانیوں کی خون پسینے کی کمائی سے ادا ہوا۔
آپ کے منشور کا حصہ تھا کہ کوئی نا اہل اور نالائق شخص میری حکومت کا حصہ نہیں ہوگا وہ جس نے کرپشن کی ہوگی میری حکومت کا حصہ نہیں ہوگا لیکن افسوس یہ کام بھی آپ نے اپنے منشور سے الگ کیا۔ جہانگیر ترین صاحب جن کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی نا اہل قرار دے دیا تھا وہ آپ کی پارٹی کا حصہ رہے اور حکومت بنانے میں بھی آپ نے ان کو خوب استعمال کیا اور آپ ان سے کابینہ میٹنگ بھی اٹینڈ کرواتے رہے اور آخر میں بھی چینی سکینڈل میں ملوث ہونے پر ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے آپ نے ان کو ملک سے باہر بھیج دیا۔
وزیراعظم صاحب آپ کے منشور کا حصہ تھا کہ اہلیت کی بنیاد پر بنا پر عہدے دیے جائیں گے لیکن اس بات پر بھی آپ پورا نہ اترے اور ریلوے کو تباہ کر کے اپنی نااہلی کا ثبوت دینے والے محترم شیخ رشید صاحب کو آپ نے وزیر داخلہ بنا دیا۔
آپ کے منشور کا حصہ تھا کہ ایسا شخص جو عوام سے دھوکہ کرے گا ایسا شخص جو فراڈیا ہو گا وہ ہماری پارٹی کا حصہ نہیں ہوگا لیکن افسوس اعظم سواتی صاحب جنہوں نے مصیبت زدہ عوام کو بھی ایک ملین ڈالر کا جعلی نوٹ تھما دیا تھا وہ بھی آپ کی حکومتوں میں مختلف وزارتوں کے مزے لے رہا ہے اور آج بھی وزیر ریلوے ہے۔
وزیراعظم صاحب آپ کے منشور کا حصہ تھا کہ آپ کبھی آئی ایم ایف کے پاس قرضہ لینے نہیں جائیں گے لیکن افسوس کہ آپ آئی ایم ایف کے پاس قرضہ لینے بھی گئے اور قرضہ لینے میں تاخیر کرنے پر آپ نے اپنے ہی وزیر خزانہ اسد عمر کو بھی وزارت سے فارغ کر دیا تھا۔
وزیراعظم صاحب آپ کے منشور کا حصہ تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا جائے گا لیکن یہ بھی ابھی تک نہیں ہو سکا اور آپ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ہمارے گورنرز کبھی بھی گورنر ہاؤس میں نہیں رہیں گے لیکن وزیراعظم صاحب ایسا بھی نہیں ہو سکا آج بھی آپ کے گورنرز اسی شان و شوکت کے ساتھ انہی گورنرز ہاؤسز میں براجمان ہیں۔
وزیراعظم صاحب آپ کے منشور میں پنجاب پولیس کا کلچر تبدیل کرنا بھی شامل تھا لیکن اب بھی پنجاب پولیس سڑکوں پر فیملیز کو اسی طرح ذلیل و خوار کرتی ہے جس طرح پچھلی حکومتوں کے ادوار میں کرتی تھی۔ ہو سکتا ہے آپ کے کسی وزیر یا پھر کسی مشیر نے آپ کو سوشل میڈیا پر وائرل وہ کلپ دکھایا ہو جس میں پنجاب پولیس ایک بہن بھائی کو سرعام روڈ پر ذلیل کر رہی ہے اور ممکن ہے کہ آپ کو احساس ہو کہ آپ کس طرح اپنے منشور سے الگ کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم صاحب مہنگائی کم کرنا آپ کے منشور کا حصہ تھا کیونکہ آپ کے مطابق مہنگائی تب ہوتی ہے جب حکمران کرپشن کرتے ہیں لیکن وزیر اعظم صاحب آپ کے ایماندار اور صادق امین ہونے کے باوجود مہنگائی اب دگنا ہو چکی ہے اور اشیائے ضروریات عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں بقایا اس کا فیصلہ تو آپ نے خود کرنا ہے کہ کرپشن اب ہو رہی ہے یا نہیں۔
وزیراعظم صاحب آپ کے منشور کا حصہ تھا کہ آپ اپنے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں دیں گے لیکن وزیراعظم صاحب آپ کی مدت حکومت کا آدھا عرصہ جو گزرا ہے اس میں نوکری ملنا تو دور کی بات ہے بلکہ پہلے سے ملازمتوں پر موجود لوگوں کو بھی نکال دیا گیا ہے اور وزیراعظم صاحب آپ یہ جو راگ الاپتے ہیں کہ فیصل آباد کے چوکوں پر اب ڈھونڈنے سے بھی مزدور نہیں ملتا تو وزیراعظم صاحب فیصل آباد صرف ایک شہر ہے پورا ملک نہیں ہے اور اس کی بھی آپ کو غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے آپ کو چاہیے کہ کبھی بھیس بدل کر جائیں اور چوکوں پر جا کر دیکھیے کہ دن کے اوقات میں کہ کس طرح مزدور واپس چلے جاتے ہیں انتظار کر کر کے کہ شاید کوئی آئے اور انہیں مزدوری کے لئے لے جائے اور وہ اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کما سکیں۔
آخر میں وزیراعظم صاحب آپ کے منشور کا حصہ تھا کہ پاکستان سے غریبوں کو ختم کرنا؛ ہاں اس کا کریڈٹ میں آپ کو ضرور دوں گا کیونکہ جس تیزی سے پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے تو وزیر اعظم صاحب آپ صحیح کہتے ہیں کہ غریب ختم ہو جائے گا کیونکہ وہ اپنی موت آپ ہی مر جائے گا۔


