شب گزیدہ: محبت کرنے والوں کی کہانی



بیس بائیس سالہ نوجوان جو شکل و شباہت سے کسی شریف گھرانے کا فرماں بردار بیٹا اور یونیورسٹی کا طالب علم نظر آتا تھا ایک طرف کھڑا تھا۔ کمرہ عدالت میں بے چین بھنبھناہٹ تھی جو اس کے شل اعصاب کو مزید بوجھل کر رہی تھی۔ لڑکے کا باپ سرجھکائے عدالت میں اور ماں گھر میں دل ہی دل میں خدا سے مخاطب تھے شاید وہ سن لے بندگان خدا نے تو کان اور آنکھیں دونوں بند کر لیے تھے۔

سلیم پھٹی نظروں سے کبھی انصاف کے در و دیوار کو دیکھتا اور کبھی ہلتے ہونٹوں اور سروں کو۔ عدالتی اہلکار اپنی کرسیاں سنبھال چکے تھے۔ جج صاحب کے آتے ہی ہر طرف سناٹے کی چادر تن گئی جسے وکیل استغاثہ کی بے رحم آواز نے تار تار کر دیا جو بتا رہا تھا کہ یہ لڑکا مرتد ہے باغی ہے دشمن اسلام ہے۔ سلیم پر کتاب مقدس کو جلانے کا الزام تھا۔

سلیم کا تعلق جس گھرانے سے تھا وہ اسلامی روایات کا امین تھا۔ اس کا دادا محلے کی مسجد کا امام رہ چکا تھا۔ ان کی شرافت اور پرہیزگاری کا پورا علاقہ گواہ تھا۔ سلیم کا باپ تھوڑی بہت تعلیم حاصل کر کے کسی محکمے میں کلرک بھرتی ہو گیا تھا۔ شادی ہوئی بچے ہوئے اور زندگی کی گاڑی نے رفتار پکڑ لی۔ وقت اور منزلیں طے کرتے یہ گاڑی اپنی منزل مقصود کے قریب تھی کہ اچانک کسی نے کانٹا بدل کر اسے صحرا کی طرف دھکیل دیا۔ اس کا باپ روز آنکھوں میں اپنے بچوں کی کامیابیوں کے خواب لے کر سوتا اور صبح ان کی تکمیل کے لیے مشقت کی چکی پیسنے لگتا۔

جب کبھی تکان اس کی آنکھوں پر آرام وسکون کے گداز ہاتھ رکھتی تو اپنے بچوں کی خوشیاں اور کامیابیاں اس کے پیروں میں گویا پھر سے پہیے باندھ دیتیں۔ جن بچوں کو دانہ دانہ چوگا دیتے اتنے برس بیتے تھے وہ اب اڑان بھرنے کو پر تول رہے تھے۔ ماں کی تو زندگی ہی شوہر اولاد اور گھر تھا۔ محلے داروں اور پاس پڑوس کے لوگوں سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ سب اس گھرانے کی عزت کرتے تھے کہ اچانک اس گھر کا بڑا بیٹا جو گلی سے ہمیشہ سر اور آنکھیں جھکائے گزرتا تھا اور جسے کسی نے بلند آواز میں بات کرتے بھی نہیں سنا تھا اچانک پولیس پکڑ کر لے گئی۔

سلیم کچھ دیر پہلے ہی یونیورسٹی سے گھر آیا تھا کھانا کھاکر ٹی وی پر کرکٹ میچ دیکھ رہا تھا کہ باہر گلی میں شور سنائی دیا ساتھ ہی اطلاعی گھنٹی چلائی۔ سلیم باہر آیا تو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ وہ ہکا بکا رہ گیا مگر کچھ سمجھنے سے پہلے ہی ایک سپاہی نے اسے پولیس وین کی کابک میں دھکیل دیا۔ مجمعے کے بت میں اچانک زندگی لہرائی اور کسی نے اندر اطلاع کی ممتا ننگے پاؤں دروازے سے باہر آئی مگر قانون کی طاقت اس کا لعل ہتھیا کر اسے پیچھے اڑتی دھول تھما گئی تھی۔

سلیم کا باپ دن بھر کا تھکا ہارا فائلیں سمیٹ رہا تھا تاکہ جاکر گھر کی جنت میں سکھ کا سانس لے۔ اس کے ذہن میں بیٹے کی فیس گھوم رہی تھی مگر ایک اطمینان کے ساتھ کہ سلیم کا آخری سمیسٹر شروع ہو رہا ہے اور چھ ماہ بعد وہ گریجویٹ ہو جائے گا۔ اس نے سوچا اس کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا جو خواب غربت کی گھٹڑی میں بند ہو کر گھر کے فالتو سامان کے ساتھ کسی کونے میں دبا تھا اسے اپنے بیٹے کی صورت پورا کرے گا۔ سلیم محنتی لڑکا ہے وہ ضرور کوئی سکالرشپ حاصل کر کے بیرون ملک کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لے سکے گا۔

اسی ادھیڑ بن میں چپراسی نے فون کی اطلاع دی جسے سنتے ہی وہ سن ہو کر رہ گیا اس کے خوابوں کے سمندر بھاپ ہو کر تحلیل ہونے لگے۔ بھاگا دوڑا تھانے پہنچا مگر شنوائی نہ ہو سکی صرف یہ معلوم ہوا کہ اس کے بیٹے نے قرآن کی بے حرمتی کی ہے اور گھر کی چھت پر صفحات مقدسہ جلائے ہیں۔ وہ قسمیں اٹھاتا رہا کہ یا ناممکن ہے مگر تھانے دار کی گھرکیوں اور سپاہیوں کے دھکوں نے اسے تھانے اور رحم کی حدود سے باہر پھینک دیا۔

الزام سنگین تھا ایسے کیس میں تو ضمانت ہونا بھی ناممکن تھا۔ ہفتہ بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد وکیل کا انتظام ہوا۔ آج اس کیس کی پہلی پیشی تھی۔ سلیم ہاتھوں میں ہتھکڑی لگوائے عدالت میں داخل ہوا تو اس کے باپ کی آنکھیں اپنے خوابوں کی کرچیوں سے لہو رنگ ہو گئیں۔ ایک ہفتے میں اس کا خوبصورت صحت مند بیٹا برسوں کا مریض نظر آنے لگا تھا۔

مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔ ملزم پر لگائے الزامات بتائے گئے۔ منصف نے عدالت میں موجود لوگوں سے استفسار کیا کہ کوئی گواہ ہے ہر طرف سناٹا چھایا رہا۔ ہمسایوں اور محلے داروں سے پوچھا گیا آپ کے گھر ساتھ ساتھ ہیں کسی نے کوئی ایسا واقعہ دیکھا ہو تو سامنے آئے۔ کوئی ادھ جلا کاغذ کوئی روشنی کوئی اڑتا کاغذ کسی کے گھر کے آنگن میں گرا ہو۔ سب کا ایک ہی جواب تھا کسی نے کچھ نہیں دیکھا۔ تو پھر اس لڑکے کو کیوں گرفتار کیا ہے جج صاحب نے پولیس سے پوچھا۔

پولیس نے بتایا کہ محلے کے سب سے معزز آدمی نے یہ مقدمہ درج کرایا ہے جس کے شہر میں کئی پلازے اور سینما ہیں۔ وہ خود کمرہ عدالت میں موجود نہیں۔ عدالتی کارروائیوں میں تین ماہ گزر گئے۔ صحت وقت اور پیسہ تیزی سے ختم ہونے لگے۔ سلیم ہر پیشی پر امید بھری نظروں سے باپ کو دیکھتا جس کی کمر تیزی سے جھکنے لگی تھی۔

شہر بھر میں واویلا تھا۔ ہر مسجد کا مولوی اس کیس میں ذاتی دلچسپی لے رہا تھا۔ ہر نماز کے بعد دشمن اسلام کا سر قلم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا اور عہد کیا جاتا کہ ہنود ویہود کی اس سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ایک روز جج صاحب نے بار کونسل کے عہدیداران کو اپنے چیمبر میں بلوایا اور صدر بار سے کہایہ سب کیا سلسلہ ہے آپ مولویوں کے کسی نمائندے سے ملاقات کریں اور سمجھائیں لڑکا بے قصور ہے شریف ہے اس کی زندگی برباد ہو جائے گی۔ صدر بارنے وعدہ کیا کہ وہ کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرے گا۔ اگلی پیشی پر مولویوں کا وفد عدالت میں موجود تھا۔ کارروائی شروع ہونے پر جج صاحب نے نمائندے سے کہا کہ کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود آخر اس نوجوان پر کیوں الزام لگایا گیا ہے۔ اسلام تو کسی پر جھوٹا الزام لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔ معمول کی کارروائی کے بعد عدالت برخاست ہو گئی۔ دس منٹ بعد عدالت کے احاطے میں ایک طوفان برپا تھا۔ جج کافر ہے وہ کافروں سے ملا ہوا ہے۔ جج بے ایمان ہے کیس کسی اور عدالت میں ٹرانسفر کیا جائے۔ جج بھی واجب القتل ہے یہ ظالموں سے مل کر فیصلہ اس لڑکے کے حق میں کرنا چاہتا ہے۔ پیشی پر پیشی پڑتی رہی ہر بار معاملات مزید بگڑ تے جا رہے تھے۔

ہفتے میں دوبار سیٹھ اکرام کا منشی محلے کی مسجد میں جاتا ہے جس کا امام کبھی سلیم کا دادا تھا۔ نیا امام کسی دوردراز علاقے سے آ کر یہاں بس گیا ہے۔ پرانی مسجد کی جگہ اس خوبصورت اور وسیع مسجد نے لے لی ہے جس کی تزئین وآرائش پر سیٹھ صاحب کا خوب پیسہ لگا ہے۔ بجلی کا بل اور دوسری ضروریات بھی وہی پوری کرتے ہیں مگر خداترس اور نیک دل انسان ہیں اس لئے رب کے دیے رزق کو کھلے دل سے تقسیم کرتے ہیں۔ امام صاحب کا تو خاص خیال کرتے ہیں۔

سردیوں میں رات یوں بھی جلدی آتی اور دیر سے جاتی ہے۔ منشی ساڑھے دس بجے حجرے میں داخل ہوا تو امام صاحب کا نورانی چہرہ کھل اٹھا۔ منشی نے ایک لفافہ آگے بڑھاتے ہوئے کہا مولوی صاحب لڑکے کو بچنا نہیں چاہیے۔ بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں سیٹھ صاحب کی بیٹی تو بہت معصوم ہے ایسے چھچھورے کی باتوں میں آ کر شادی کی ضد پکڑ بیٹھی ہے۔ بھلا ان کی سات پشتوں میں کسی نے سیٹھ صاحب جیسے اعلیٰ خاندان میں رشتہ کرنے کا سوچا بھی ہوگا۔ بس اب بازی آپ کے ہاتھ ہے۔ مولوی صاحب نے نہایت عقیدت و احترام سے لفافہ تھاما اور بولا ”سیٹھ صاحب کی خدمت میں سلام عرض کریں اور تسلی دیں اس جنم تو کیا سلیم سات جنم بھی لے لے تو جیل سے باہر نہیں آ سکتا اور اگر رہا ہو بھی جائے تو ایسے مرتد کا سر لینا ہمارا ہر مجاہد اپنا اعزاز سمجھے گا“۔

جنت کی حوروں کے سامنے سیٹھ صاحب کی بیٹی کی حیثیت ہی کیا ہے۔

Facebook Comments HS