EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جنسیت کی عینک اتارئیے صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

سیکس ازم کی تعریف نصابی کتابوں میں کچھ اس طرح سے درج ہے کہ یہ وہ منفی رویہ ہے جو جنس مخالف کے لئے اپنی سوچوں سے لے کر اپنے عمل تک کے ذریعے اظہار کیا جاتا ہے۔ اب یہ منفی رویہ جنس کی قید سے آزاد ہے۔ مرد عورتوں کے لئے اور عورتیں مردوں کے لئے یا مرد مردوں کے لئے (جس کا مشاہدہ کم نظر آتاہے) یا عورتیں عورتوں کے لئے( جس کا مشاہدہ روزمرہ زندگی میں عام ہے) یہ منفی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ آج اس منفی رویے کو اس نظر سے پرکھتے ہیں کہ جب ایک عورت اس منفی رویے کا شکار ہوتی ہے تو کیا ہوتاہے۔ عورتوں کو پدرانہ نظام میں اپنے ہونے کا احساس اپنے اور آپ کو منوانے کے لئے مردوں کا مقابلہ تو کرنا ہی تھا ستم نظر یعنی یہ ہوئی کہ عورتوں کی اپنی جنس بھی اس منفی رویے میں مردوں کا ساتھ دیتے ہوئے نظر آئی۔ یعنی عورت کو اپنی پہچان منوانے کے لئے دو محاذوں کا سامنا تھا۔

’’عورت کی پہچان‘‘ عورت کی پہچان ہے کیا؟ یا ہم اس کی ذات کو اس کی پہچان کو، اس کے کام کو اس کی صلاحیتوں کو، اس کی آزادی رائے کی خواہش کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں؟ کیا پدرانہ معاشرے میں اس سب کی اہمیت ثانوی ہے؟ ’’ عورت اور کام کے حوالے سے جائزہ لیتے ہیں۔ عورتوں کا کام کرنا اور کام کی جگہوں پر ان کا احترام تو بہت بعد کی بات ہے اس سے پہلے تو ہم یہ جان لیں کہ کوئی عورت اگر گھر سے باہر کام کرناچاہتی ہے یا اپنے اندر کی کسی صلاحیت کو بروئے کار لانا چاہتی ہے تو اس کی کتنی گنجائش ایک معاشرے میں موجود ہے؟ آج یہ کہا جاتاہے کہ اب وقت تبدیل ہوچکا عورتیں گھروں سے باہر کام کرتو رہی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کام کی نوعیت یا اس کو کرنے کی وجوہات آج بھی بہت معمولی نوعیت کی سمجھی جاتی ہیں۔ اچھے اداروں کی اچھی نشستیں اس لیے مردوں کے پاس زیادہ نظر آتی ہیں کہ عورتوں کو معاشروں میں تعلیم کے حصول کے مواقع کم دیے گئے۔ آج بھی یہ فقرہ عام سننے کو ملے گا زیادہ پڑھ کے کیا کروگی، کرنی تو شادی ہی ہے۔ زیادہ مت پڑھو پھر رشتے ملنا مشکل ہوجاتے ہیں یا پڑھ لکھ کے لڑکیاں منہ زور ہوجاتی ہیں۔ نتیجتاً کم پڑھی لکھی لڑکی جب کام کے لئے نکلتی ہے تو زیادہ سے زیادہ ریسپنشنٹ، ٹیلی فون آپریٹر یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ماڈل کے طور پر بٹھادی جاتی ہے۔ معاشرے کی ستم ظریفی کہ ہمیں گھر سے نکل کر کام کرنے والی ہر عورت کے بارے میں لگتاہے کہ اس کا گھر پہ دل نہیں لگتا تھا یا سسرال والوں سے آدھا دن جان چھوڑانے کے لئے نوکری کرر ہی ہے۔

کام کی اہمیت کا تو نہ ہی پوچھیں، عورت کو اکثر سننے کو ملتا ہے تو اپنے شوق سے نوکری کر رہی ہو، کس نے کہا ہے کام کرو، گھر بیٹھو بچے سنبھالو، عورت کی اصلی ذمہ داری یہی ہے۔ کام کرنے والی خواتین پھر جس طرح سے دوہرے کردار گھر اور گھر سے باہر جس دباؤ کا سامنا کرتی ہے وہ ایک الگ کہانی ہے۔ کام کی جگہوں پر جنسیت کی جو عینک ہم نے لگا رکھی ہے وہ ہمیں عورت کو انسان دیکھنے سے اس کی صلاحیتوں سے مرعوب ہونے سے روکتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ یہ نظر آتا ہے کہ ہمارے ساتھ کام کرنے والی خاتون کے کپڑے کتنے چست ہوتے ہیں اس کا دوپٹہ کتنی بار سرکتاہے، وہ اپنے ساتھی کارکنوں سے کتنی فرینک ہے، باس کے پاس کتنے چکر لگاکر آئی وغیرہ وغیرہ۔ Working Relationship جیسے رویے سے ہم قطعی نا آشنا ہیں۔ ایک ساتھی کارکن کو Harrasکرنا اور گرہ وہ اس رویے کا احتجاج کرے تو کہنا آپ تو بہت تنگ نظر ہیں۔ کام کی جگہوں پر عورتوں کو گاڑی میں لفٹ دینے سے لے کر پارٹیوں میں شرکت تک کا اس کی مرضی کے بغیر دعوت نامہ دیا جاتاہے کہ یہ Compromiseتو آپ کو کرنا پڑے گا افسوس ناک عمل ہے عورتوں کے لئے کام کی جگہوں پر سب سے زیادہ حس رویے کی ضرورت ہے وہ احترام ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ عورت کو جنسیت کی عینک اتار کر اپنے جیسے یا اپنے سے بھی بہتر انسان کے طور پر لیں گے ذرا سوچئے کہ عورتوں کی ایسی تعداد جو ہر طرح سے صلاحیتوں سے بھرپور ہو صرف جنس مخلاف کے منفی رویے سے گھبراتی ہو کہاں کا انصاف ہے کہ وہ اپنی ذات کو منوانہ سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی زندگیوں میں شامل عورتوں کے لئے احترام کے رویے کو اپنایئے اور اگر ہم نے احترام کے اس رویے کو نہ اپنایا تو مہذب معاشروں میں اپنا نام بنانے میں ناکام رہیں گے۔ بہت ہوچکا کہ عورتوں کو جنسیت کی نظر سے دیکھ لیا۔ جنس کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو صرف احترام کے رشتے سے ہی مٹایا جاسکتاہے۔ عورتوں کو اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے دیجئے۔ ان کو Compromisesپر مجبور کیے بغیر ان کی مرضی اور خوشی شامل کرتے ہوئے ان کو اپنا ساتھ دینے دیجئے اور یوں مل کر معاشرے کو مضبوط بنانے میں حصہ لیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “جنسیت کی عینک اتارئیے صاحب

  • 19/12/2016 at 9:25 شام
    Permalink

    In my opinion there are two ways of treating women. 1 you are standing in a line and you saw a lady and you tell her that please come madam and offer your place to her the second way is you look at her and keep on standing in your positin. I guess it depends on how they wanted to be treated. With the previliges they demand or get will come some ills. But the choice is still hers.

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے