ایک لقمے کی خاطر حکمران کیا کر گزرتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرصے بعد اسلام آباد کا سفر اختیار کیا مگر دل بہت ملول ہوا اول تو میرے مہربان جنرل اسلم بیگ کی اہلیہ کی تعزیت کی غرض سے حاضر ہوا بیگم صاحبہ بہت نفیس خاتون تھی۔ خدا مغفرت فرمائے آمین اور یہ یہ جان کر کے برادر بزرگ سینیٹر مشاہداللہ خان ہسپتال میں داخل ہے دل بوجھل ہو گیا اور بوجھل ہی رہا جو ابھی تک ہے کہ ٹیلی ویژن کی سکرین اس خبر کے ساتھ شور مچانے لگی کہ خواجہ آصف کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب

غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پر ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے

کی کیفیت ایوانوں میں موجود ہو تو اپنے خوف کو لوگوں کے سامنے جھٹلانے کی غرض سے کبھی چھٹی کے دن کی تصاویر جاری کی جاتی ہے اور کبھی حزب اختلاف کے رہنماؤں کی گرفتاریاں کی جاتی ہے مگر یہ سب کچھ صرف خوف کو دیوار پر لکھی تحریر کی مانند اجاگر ہی کر رہا ہوتا ہے۔ موبائل کی گھنٹی بجی ایک دوست کی آواز سنائی دی خواجہ آصف کو گرفتار کر لیا گیا ہے اب خواجہ آصف کے ساتھ کیا ہوگا؟ میں نے کہا کہ خواجہ آصف کے پاس دو راستے تھے یا تو نواز شریف سے کنارہ کش ہو جاتے تو ان کو گنگا نہایا ثابت کیا جا رہا ہوتا یا نواز شریف کی پیروی میں ان کے ساتھ رہتے اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوتے۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اب ان الزامات کا کیا نتیجہ نکلے گا اس کا جواب بھی آفتاب آمد، دلیل آفتاب کی مانند بالکل واضح ہے۔

وہ کیا نتیجہ ظاہر ہو گا دوست نے سوال کیا۔ مشرف دور میں جاوید ہاشمی پرویز رشید اور مشاہد اللہ خان گرفتاریاں جھیلتے رہیں مگر ایک دھیلے کی بدعنوانی سامنے نہ لائی جا سکی حالانکہ یہ سب حکومت کا حصہ رہے تھے۔ شہباز شریف شاہد خاقان عباسی حمزہ شہباز خواجہ سعد رفیق ماضی میں بھی سلاخوں کے پیچھے دھکیلے گئے مگر اگر ان پر لگائے گئے اس وقت سے لے کر آج تک کے الزامات پر نظر دوڑائی جائے تو صاف محسوس ہوتا کہ ماسوائے سیاسی انتقام کے اور کچھ بھی نہیں ہے، احسن اقبال تو گرفتاری کے ساتھ ساتھ قاتلانہ حملہ بھی جھیل گئے، کچھ سرکاری افسران بھی گرفتار کیے گئے مگر نتیجہ شرمندگی اور صرف شرمندگی اور یہ سب کچھ اس لئے کے نواز شریف کی سیاسی حمایت کو قصہ پارینہ بنایا جاسکے مگر وہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مریم نواز شریف جس طرف کا بھی سفر اختیار کر رہی ہے زبردست عوامی پذیرائی دیکھنے کو مل رہی ہے ایسے میں بوکھلاہٹ کا ثبوت دیتے ہوئے کبھی گرفتاریاں ہوں گی اور کبھی نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔

میرا دوست بولا یار یہ سب تو ٹھیک ہے مگر صرف نواز شریف کو ماضی بنانے کی خواہش نے ملک کے معاشی حالات کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ ادرک لہسن تک سونے کے بھاؤ ہو گئے ہیں۔ آخر یہ سب کچھ کر کے کرنے والوں کے حصے میں کیا آئے گا؟ میرا جواب تھا ایک لقمہ بس۔ مطلب؟ دوسری طرف حیرانی لہجے میں صاف موجود تھی۔ بات یہ ہے کہ یہ بس ایک شاہی خواہش تھی اور کچھ نہیں خواہش کرتے ہوئے اس کے نتائج پر غور ہی نہیں کیا گیا۔

عباسی خلیفہ ہارون رشید نے ایک دن شاہی باورچی خانے کے اپنے خاص باورچی کو طلب کیا اور اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس جزدر جو ایک نایاب جانور تھا اور اس کا گوشت بازار میں دستیاب نہ ہوتا تھا کا گوشت ہے؟ باورچی نے جواب دیا کہ جی مختلف قسم کا موجود ہے۔ ہارون رشید نے کہا کہ آج دسترخوان پر اس کو پیش کرو چنانچہ جب کھانا اس کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے جزدر کے گوشت کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور منہ میں رکھ لیا۔

اس کا خاص مقرب جعفر برمکی بھی اس وقت اس کے پاس موجود تھا۔ وہ خلیفہ ہارون رشید کا بہت منہ چڑھا تھا یک دم ہنس پڑا ہارون رشید نے لقمہ چبانا چھوڑ دیا اور پوچھا تمہیں کس بات پر ہنسی آئی ہے؟ جعفر برمکی نے بات بناتے ہوئے کہا کہ کچھ نہیں آج گھر میں میری بیوی اور کنیز کے درمیان ایک بات ہوئی وہ یاد آئی تو ہنس دیا۔ ہارون رشید سمجھ گیا کے بات کچھ اور ہے اس نے جعفر برمکی سے اصرار کیا کہ سچ سچ بتاؤ؟ جعفر برمکی نے کہا کہ آپ یہ لقمہ نوش فرمائے میں پھر بتاتا ہوں۔

ہارون رشید نے لقمے کو تھوک دیا اور بولا سچ سچ بتاؤ؟ جعفر برمکی نے ہارون رشید سے سوال کیا کہ آپ جو گوشت تناول فرما رہے ہیں اس کی قیمت کیا ہوگی؟ ہارون رشید بولا تین درہم کے قریب۔ جعفر برمکی نے جواب دیا نہیں اس کی قیمت 4 لاکھ درہم ہے۔ ہارون رشید حیرت سے جعفر برمکی کا منہ تکنے لگا اور بولا جعفر وہ کس طرح؟ جعفر برمکی نے جواب دیا بہت عرصہ گزرا آپ نے اپنے باورچی سے اس گوشت کی فرمائش کی تھی مگر فراہم نہ ہوسکا تو آپ نے اس کو کہا باورچی خانے کو اس گوشت سے کبھی خالی نہ رہنا چاہیے۔

اس روز سے ہم ہر روز ایک جانور ذبح کرنے لگے اور اس دن سے آج کے دن تک اس مد میں چار لاکھ درہم خرچ ہو چکے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ فرمائش کرنے کے بعد پھر کبھی آپ نے اس کو طلب نہیں فرمایا آج نہ جانے کیسے خیال آ گیا اور طلب فرما لیا مجھے ہنسی اس بات پر آئی کہ اتنی بڑی رقم خرچ ہو گئی اور آپ کے حصے میں کیا آیا؟ ایک لقمہ اور اس ایک لقمے کی خاطر چار لاکھ درہم آپ کی ذات پر صرف ہو گئے۔ واقعہ طویل ہے کہ پھر ہارون رشید کیسے مطمئن ہوا مگر ایک بات واضح ہے کہ وطن عزیز کو موجودہ غیر یقینی حالات میں دھکیلنے والوں کے لئے اس معاشی تباہی میں سے کیا حاصل ہوا ماسوائے وقتی انا کی تسکین کے اور کیا ملا؟ اور حالات پر نظر دوڑائیے انا کی تسکین تباہی کے مقابلے میں ایک لقمے کے برابر بھی نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •