ایک کرسی اور نو مور ان پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح نماز پڑھ سیر کرتے واپس آ کر لان میں کرسی پر بیٹھے یہ سوچ رہا تھا کہ والدہ کی (جو دو تین روز قبل بڑھاپے اور شوگر سے متعلقہ عوارض کی وجہ سے اچانک چلنے پھرنے سے معذور ہو چکی تھیں ) کی بآسانی نقل و حرکت کی کیا تدبیر کی جائے۔ شام بھائی جان لاہور سے بتا چکے تھے کہ معذوروں والی کرسی آرڈر کر کے ڈلیوری میں تین سے چھ ہفتہ درکار ہیں۔ انیس سو اسی کا اواخر تھا اور پاکستان میں ایسی چیزوں کا رواج نہیں تھا۔ اور کوئی رستہ سمجھانے کی دعا خدا ہی سے تھی۔ اچانک سامنے پڑی دوسری کرسی پر نظر جم گئی اور ذہن میں ایک نقشہ سا ابھرنے لگا۔ اور چند منٹ سب متوقع مسائل کا حل ملتا نظر آیا۔

دو گھنٹہ بعد میں فیصل آباد ریلوے روڈ پر طارق آباد پل سے کچھ پہلے شیل پٹرول پمپ کے مظہر صاحب کے والد صاحب کے پاس بیٹھا تھا جو سامنے ہی سٹیل فرنیچر بنانے کا کام شروع کر چکے تھے۔ اور میرے لان کی انتہائی آرام دہ اور مضبوط کرسیاں انہی سے لی گئی تھیں۔ پرانے مہربان تھے۔ ان کو صورت حال سے آگاہ کرتے مدد مانگی کہ ایسی ہی کرسی میں نشست کے درمیان سے گولائی میں ہسپتال کی ایسی کرسیوں میں استعمال ہونے والا گملا نما برتن فٹ کریں اور اس کٹے ہوئے ٹکڑے کو کلپ لگا دوبارہ اس کے اوپر اس طرح لگا یا جائے کہ آرام میں خلل نہ آئے اور بوقت ضرورت اسے نکالا اور فٹ کیا جائے۔

اور نیچے مضبوط ٹرالی وہیل فٹ کر دیں۔ تو میرے تمام مسائل ایک کرسی میں حل ہو جائیں۔ کیونکہ میرے نئے گھر میں کوئی چوکھٹ نہیں۔ وہ خوشی سے اچھل پڑے کہ تم نے تو میرا بھی مسئلہ حل کر دیا۔ مجھے بھی یہ مسئلہ درپیش ہے اور ادھر سوچ گئی نہیں۔ اس طریق سے تو مریض بستر کے ساتھ ہی فطری ضروریات سے فارغ ہو سکتا ہے۔ غسل خانہ میں لے جا اسی پر بیٹھے منہ ہاتھ دھلایا یا نہلایا جا سکتا ہے۔ آرام بھی کر سکتا اور پورے گھر میں گھمایا جا سکتا ہے۔

صرف بریک کا مسئلہ ہوگا۔ اس کی احتیاط کرنا پڑے گی۔ تم جاؤ مضبوط ٹرالی وہیل اور برتن ایک سیٹ میرے لئے بھی لاؤ۔ اور میں سب کام چھوڑ اپنے کارندوں سے بھی مل کر اس کا انتظام کرتا ہوں۔ اس طرح خدا تعالی نے شام تک ایک کرسی سے تمام سہولت ملنے کا انتظام کر دیا۔ جب محض بیٹھنا گھومنا آنا جانا ہوتا گدیاں رکھ دی جاتیں اس طرح یکم رمضان۔ اور یکم جولائی اکیاسی تک جس روز والدہ خدا کے حضور حاضر ہو گئیں۔ یہ کرسی ان کی خدمت کرتی رہی۔

کچھ عرصہ بعد ایک عزیز کے والد گر پڑے اور معذور ہو گئے تو ان کو پیش کر دی اور ان کی صحتیابی تک ان کے پاس رہی۔ پھر ایک اور گھر میں ایک سال خدمت کرتے واپس میرے پاس آ گئی۔ انیس سو چھیاسی کے اوائل میں میں وہ گھر فروخت کر نئے گھر کی تعمیر کے درمیانی وقفہ کے لئے پیپلز کالونی نمبر دو کے 539۔ اے میں چند ماہ کے لئے کرایہ پر مقیم ہوا تو بیگم کے ایک ہمسایہ فیملی جو چکوال سے تھے۔ دوستانہ بنا۔ خاتون خانہ کی بزرگ والدہ وہیں تھیں جو پھسلیں اور کولہا تڑوا بیٹھیں۔

تب یہ کرسی ان کے حوالہ کر دی گئی۔ چند ماہ بعد انہوں نے مستقل واپس چکوال جانے کا فیصلہ کیا تو کرسی واپس کرنے آئیں۔ عرض کیا کہ یہ خدمت کے لئے بنی ہے۔ ساتھ لے جائیں۔ اور ہمارے لئے دعا کریں کہ ہمیں ضرورت نہ پڑے۔ چنانچہ یہ کرسی چکوال جا پہنچی۔ چند ماہ بعد میں اپنا نیا گھر مکمل ہونے پر 120۔ سی پیپلز کالونی آ گیا۔

یکم مارچ 1997 دوپہر میرے بیٹے کی دبئی ایک آٹو پارٹس شو میں شرکت کے لئے روانگی تھی۔ وہ قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم بی اے کر کے چھ فروری سے کاروبار پر آ بیٹھا تھا اور اب ہم پارٹس کی امپورٹ کی طرف توجہ کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ کہ سولہ فروری کو دکان پر ڈاکا پڑا۔ جس کا بیان مختصراً اپنے مضمون ”چور اور چوکیدار“ میں کر چکا ہوں۔ تو یکم مارچ علی الصبح چھوٹی بیٹی کو گارڈن ٹاؤن ٹیوشن پڑھنے چھوڑ کار وہیں کھڑی کر کے پیدل سیر کرتے شہزاد ٹاؤن کی طرف نکل آیا۔

یونہی دل کیا کہ ادھر چکر لگائے سال سے اوپر ہو گیا۔ کنال کنال کے دو ملحقہ پلاٹ وہاں تھے۔ دیکھیں اب علاقہ کچھ آباد ہوا۔ دور سے آبادی خاصی زیادہ نظر آنے سے کچھ خوشی ہوئی۔ جب اپنے پلاٹس پر دھیان کیا تو۔ دل دھک سے رہ گیا۔ ایک جھٹکا سا لگا۔ بار بار قدموں سے چوڑائی پیمائش کرتا تو وہ ایک کنال کی نکلتی۔ اوہ تو یہ شاندار سا وسیع گھر دو منزلہ تعمیر ہو رہا ہے۔ یہ میرے پلاٹ پر ہے۔ گویا قبضہ ہو چکا ہے یا جعلسازی سے منتقل۔ پہلے ڈاکا کا زخم اور دہشت موجود تھی کہ نئی مصیبت آن کھڑی تھی۔ بے اختیار منہ سے نکلا۔ نو مور ان پاکستان۔ ( اب مزید پاکستان نہیں رہنا ) ۔ یہ دھکا کیسا ہوتا ہے۔ جن پر بیتی ان کو پتہ۔

ائر پورٹ جاتے حاجی اختر صاحب بروکر سے فوری پتہ کرنے کی درخواست کی گھر والوں کو بتایا نہیں۔ ہم کچہری کے معاملات میں اناڑی تھے اپنے دوست چوہدری سلیم اختر مرحوم کو گاؤں فون کیا کہ فوراً آؤ۔ ایک ہفتہ کی تگ و دو کے بعد میرے ہاتھ سول جج فیصل آباد۔ جناب صبح صادق، دوبارہ نام پڑھیں۔ صبح صادق۔ پھر غور کریں۔ صبح صادق۔ کی جاری کردہ ایک ڈگری اور متعلقہ کاغذات کی نقل موجود تھی۔ جس کے ذریعہ چھبیس جون ترانوے کو یہ زمین کا ٹکڑا محترم خواجہ ایوب صاحب آف اتحاد سوپ فیکٹری ( اسی آبادی میں واقع ) کے بیٹے خواجہ صابر ایوب کے نام منتقل ہو چکا تھا۔

جس درخواست پر یہ ڈگری جاری کی گئی تھی اس پر کسی اصلی یا جعلی لئیق احمد کے دستخط موجود ہی نہ تھے۔ نہ کوئی شناختی کارڈ نمبر نہ کاپی۔ ایڈریس جڑانوالہ کا جس کا وجود ہی نہ تھا۔ کسی گواہ کے دستخط نہ تھے۔ صرف نام تھے۔ صبح صادق یا شب دیجور۔ جہاں ہو خوش رہو۔ ہم تو تمہاری نوازش سے کینیڈا آچکے۔ اور بہت سکون کی زندگی میں ہیں۔ صابر آگے فروخت کر چکے تھے۔ وکیل کے ذریعہ مقدمہ دائر ہوا سمن تعمیل کے لئے جو پاپڑ بیلنے پڑے ہمت جواب دے گئی۔

پتہ چلا کہ خواجہ ایوب صاحب کی علالت کے دوران بروکر بشیر دھوتی والے کے نام سے معروف ( جس کے ذریعہ میں نے یہ پلاٹ خریدا تھا ) ہی نے تین اور پلاٹ بھی اسی کالونی میں جعلساز وکیلوں کے گروہ کے ساتھ۔ صاف ظاہر تھا۔ صبح صادق کی روشنی کہہ لیں یا ملی بھگت۔ ایوب صاحب کو جن کو اس پر بہت اعتماد تھا۔ ایسی جعلسازی سے فروخت کیے تھے اور صرف انتقال کی فرد حوالہ کی تھی۔ تین وہ پہلے بھگت چکے تھے۔ ایوب صاحب وفات پا چکے تھے اور ان کے بیٹے خواجہ شاہد ایوب مجھے اپنے لٹنے کی داستان سنا رہے تھے۔ بشیر دھوتی والا بھی دنیا چھوڑ چکا تھا

اگلے دو تین ماہ شدید گرمی میں دھکے کھاتے جب کڑکتی دھوپ میں تحصیلدار صاحب سے ایک دستخط کرانے کے لئے ان کے چپڑاسی کی منت کر رہا ہا تھا تو تقریباً چیختے ہوئے فریاد نکلی۔ کہ اے باری تعالی تو جانتا ہے میں نے بڑے سے بڑے افسر کے سامنے برابری اور عزت سے بات کی ہے۔ جن گناہوں کے نتیجہ میں مجھے یہ ذلت اور مشکل اٹھانا پڑ رہی ہے وہ معاف فرما دے اور احسن حل کے سامان فرما۔

اگلی تاریخ پہ موجودہ مالک جس کے مکان کی تعمیر بند پڑی تھی اسے کہا بھئی دیکھو۔ تم نے دیکھ لیا تمام کاغذات جعلی ہیں۔ بیس سال بھی مقدمہ لڑو سپریم کورٹ تک جاؤ۔ فیصلہ میرے حق میں ہونا ہے بہتر ہے شاہد ایوب صاحب سے ملو۔ وہ بھی انتہائی نفیس خاندان اور دھوکہ میں مارے گئے۔ ان سے مل رستہ نکالو ورنہ تعمیر کھنڈر بھی ہوگی اور ہاتھ بھی دھونے پڑیں گے۔

چند روز بعد حاجی اختر صاحب کا فون آیا کہ اتحاد سوپ فیکٹری کے نزدیکی معصوم پراپرٹی ڈیلر والوں کے پاس اکٹھے ہونا ہے۔ وہاں شاہد صاحب نے پیشکش کی کہ ان کی بیوی کا ایک پلاٹ اسی کالونی میں ہے۔ آپ عوض میں یہ لیں۔ یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ ہم سے بھی دھوکا ہوا ہے۔ یہ پلاٹ محل وقوع کے لحاظ سے میرے پلاٹ سے شاید نصف سے بھی کم قیمت کا ہوگا۔ اسی وقت حامی بھری۔ اگلے چند روز بعد جس دن قانونی کارروائی مکمل ہوئی۔ میں نے سب کا شکریہ ادا کرتے مل کر کھانا کھانے کی دعوت دی۔

اگلی شام ہم کوئی دس افراد ڈی گراؤنڈ کے نزدیک شاید 138 سی۔ میں واقعہ چائنیز ریسٹورنٹ شاید نیم واہ نام تھا۔ کھانا کھاتے گپ شپ کر رہے تھے۔ کہ اچانک شاہد ایوب صاحب کے مینیجر جو ان کے قریبی عزیز تھے، مجھے مخاطب ہوئے۔ اور پوچھا ”کیا آپ کچھ دیر 539۔ اے پیپلز کالونی نمبر دو میں رہے۔ عرض کیا کوئی دس ماہ۔ فرمایا۔ جس روز میں شاہد صاحب کے ساتھ ایک مرتبہ آپ کے گھر گیا تھا تو مجھے اسی دن یقین ہو گیا تھا۔ مگر میں شرمندگی سے پوچھ نہ سکا تھا۔ آپ کی ایک امانت میرے گھر پڑی ہے۔

سب حیران اور متوجہ تھے۔ فرمایا وہاں آپ کے ہمسایہ رہنے والی خاتون میری قریبی عزیز ہے سات آٹھ سال قبل وہ ملنے آئی تو ایک پہیوں والی لان کرسی ساتھ لائیں جو آپ نے دی تھی۔ ان کی والدہ اللہ کے حضور حاضر ہو گئیں تو آپ کو واپس کرنے لے آئیں وہاں کسی نے آپ کا موجودہ پتہ نہ بتایا تو میرے پاس چھوڑ گئیں کہ میں ڈھونڈ کر شکریہ ادا کرتے پہنچا دوں۔ مگر میں بھی ڈھونڈ سکا۔ ویسی ہی کرسی آپ کے لان میں پڑی دیکھی تو نام بھی یاد آ گیا۔ ایک دو روز میں پہنچاؤں گا۔

عرض کیا۔ بھائی۔ ہم تو اب یہ دیس چھوڑ جائیں گے۔ آپ پاس رکھیں۔ اور ثواب کماتے رہیں۔

آج پرانے فوٹو دیکھتے گھر کے لان میں پڑی وہ کرسی نظر آئی جس کے ساتھ کی مناسب تبدیلی کرتے ایک ہی کرسی سے سب مسائل حل ہو گئے۔ تو وہ دن بھی یاد آ گیا جب شہزاد ٹاؤن کے ایک پلاٹ کے سامنے کھڑے ہو۔ نو مور ان پاکستان کے الفاظ نکلے تھے۔ البتہ صبح صادق اور شب دیجور پاکستان میں ہم معنی ہیں یا نہیں۔ یہ آپ بھی سوچیں میں بھی سوچتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •