زائر حرمین (حصہ چہارم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہاں سے نکلے تو منی ٹرین سٹیشن کے گیٹ نمبر چھ کے پاس ٹھہرے۔ وہاں لوہے کی جالی دار دیواروں کے اندر منٰی کے خیمے نصب تھے۔ کبھی یہ خیمے کپڑے کے اور عارضی ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ خیمے پکے اور مستقبل کھڑے تھے۔ ٹرین سروس بھی چونکہ حج کے دنوں میں ہی چلتی ہے اس لیے وہ سٹیشن اور سٹیشن کے عقب میں واقع خیمے خاموش کھڑے تھے۔ سڑک کے دوسری جانب بھی تاحد نگاہ خیمے ہی خیمے تھے۔ اور ڈرائیور کے بتانے پر سڑک کے دوسری جانب کے خیموں سے اوپر نگاہ اٹھائی تو دور ایک پہاڑی دکھائی دیتی تھی۔

اس پہاڑ پر بہت اوپر ایک چھوٹی سی کھڑکی والا ایک ستون کھڑا تھا۔ اور یہ ستون اس جگہ کی نشاندہی کرتا ہے جہاں حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بجا آوری کے لیے اپنے بیٹے کو قربانی کے لئے لٹایا تھا۔ ستون کی لوکیشن دیکھ کر ایک بار پھر خیال آیا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اس پہاڑ پر چڑھے ہوں گے تو چڑھنے کا یہ عمل بذات خود کتنا کٹھن ہو گا لیکن اس کے باوجود پیغمبر خدا کے عزم کی راہ میں حائل نہ ہو سکا تھا۔

تھوڑا آگے جا کر مسجد خیف تھی۔ مسجد خیف کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس جگہ ستر انبیاء کرام نے نماز پڑھی اور یہی بات اس مسجد کو دیگر مساجد سے ممتاز کرتی ہے۔ حد نظر تک پھیلے سفید رنگ کے خیموں کے بیچ سفید رنگ کی وسیع و عریض مسجد خیف۔ ایک نگاہ میں یہ جانچنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مسجد کی حدود کہاں تک ہے اور خیموں کی حدود کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔ یہ مسجد بھی بند تھی اور اس کو بھی محض سڑک پر کھڑے ہو کر ہی دیکھا جا سکتا تھا اور دیکھا گیا۔

مسجد خیف سے کچھ آگے کو چلے تو جمرات جا پہنچے۔ جمرات ان تین شیاطین (تین ستونوں ) کو کہا جاتا ہے جن کو دوران حج کنکر مارے جاتے ہیں۔ ایک بڑے دروازے سے اندر داخل ہوئے تو نگاہیں ان ستونوں کو تلاش کرنے لگیں۔ ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر دیکھ لیا اور وہ شیاطین نظر نہ آئے۔ یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ یہی مقام ہے تو وہ کدھر گئے؟ اپنی نظر پر شبہ ہونے لگا کہ دفعتاً کسی نے اشارہ کیا وہ رہے وہ تینوں۔ اشارے کی سمت نگاہ کی تو کیا دیکھتی ہوں، تین بڑے بڑے ہیٹ۔

اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہوں تو سمجھ آتا ہے کہ تین ستونوں پر تین ہیٹ دھرے ہیں۔ تو وہ جو ٹی وی پر اور حج کی تصاویر میں بغیر ہیٹ کے ستون دکھائے جاتے تھے، ہم تو اسی کا تصور لیے انہیں تلاش رہے تھے اور وہ ہمارے تصور سے تبدیل ہو چکے تھے۔ دوم یہ کہ زائرین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی توسیع در توسیع کے نتیجے میں ستون اتنے بلند قامت بھی دکھائی نہ دیتے تھے۔ اپنے اپ ٹو ڈیٹ نہ ہونے پر دل ہی دل میں شرمندگی بھی ہوئی۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ شرمندگی کے احساس کو لیے ایک بار پھر کیب میں سوار ہو گئے۔

اب ہم جبل نور کی جانب رواں دواں تھے۔ جبل نور، جہاں غار حراء واقع ہے۔ غار حراء جہاں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔ غار حراء تک پہنچنے کی لیے کئی سو سیڑھیاں طے کرنی تھی جو کہ چھوٹے بچوں کی ہمراہی میں ممکن نہ تھا۔ لہذا غار حراء تک جانے اور دیکھنے کو بھی غار ثور جانے اور دیکھنے کی طرح موقوف کیا گیا اور ڈرائیور سے استدعا کی کہ پہاڑ تک دامن تک لے چلے۔ ڈرائیور نے فاصلے کی زیادتی کا کہہ کر گاڑی اگلی منزل کی طرف ڈال دی۔

اب ایک قبرستان سامنے تھا۔ قبرستان میں بہت سی قبریں تھیں۔ قبرستان کا نام سائیڈ پر لگے بورڈ پر پڑھا تھا لیکن نوٹ کر سکی اور نہ ہی اس بورڈ کی فوٹو لے سکی۔ نتیجتاً نام بھول گیا ہے۔ مٹی کی بنی کچی قبور میں بہت سی محترم ہستیاں مدفون ہیں۔ قبرستان کی سطح ہموار ہے اور قبروں کی نشاندہی کے لیے کچھ کچھ فاصلے پر دو دو اینٹیں دھری ہیں۔ ان اینٹوں کے بیچ لاتعداد کالے کبوتر دانہ چگنے میں مشغول تھے۔ قبرستان کہیں کے بھی ہوں، ایک جیسے ہی لگتے ہیں۔ خالی خالی، خاموش خاموش۔

زیارت کا یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ ہوٹل پہنچ کر وقت دیکھا تو تین گھنٹوں سے کچھ کم وقت ہی لگا تھا تمام مقامات کی زیارت پر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •