گھسی پٹی محبت: ڈرامہ ریویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشرے کی پست سوچ کے منہ پر طمانچہ ہے یہ ڈرامہ کہ اتنے مشکل مسائل اس میں ہلکے پھلکے انداز میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، اکثر ایسے مسائل پہ ہنسی چھوٹ جاتی ہے جہاں عام طور پہ حقیقت میں ہر کوئی اپنا یا کسی دوسرے کا سر پیٹ رہا ہوتا ہے۔ مگر فصیح باری جنھوں نے ’قدوسی صاحب کی بیوہ‘ لکھا جو کہ اپنی نوعیت کا ایک شدید طنز تھا بحیثیت معاشرہ انفرادی اور اجتماعی سوچ پر۔

ڈرامہ رائٹر اس وقت واقعی کمال ہی کر دیتا ہے جب کرداروں میں پلنے والی سوچ چیر پھاڑ کے باہر نکال دی جاتی ہے۔ قدوسی صاحب کی بیوہ میں ہمیں ہر مقام پر ذہن میں پلنے والی سیاہ سوچ کی چیر پھاڑ نظر آئی مگر چونکہ کامیڈی زیادہ رہی سو کبھی کبھی انٹرسٹ ختم بھی ہوا جبکہ ’گھسی پٹی محبت‘ میں کامیڈی سے زیادہ حقیقت کی تھکن دکھ رہی ہے جہاں پہ گرنے کا مطلب رکنا نہیں آگے چلنا ہے مگر کوئی ایک قدم تک اٹھانے نہیں دیتا اور بیچاری لڑکی جو گھر بسانا چاہتی ہے، کسی نہ کسی طرح اس کا گھر بار بار ٹوٹتا جا رہا ہے۔ اب کی بار تو لگتا ہے پیمرا ڈرامے پہ بین ہی لگا دے گا۔ ایک عورت کی چوتھی شادی وہ بھی بنا کسی وقفے کے ہضم کرنا سب کے لیے اتنا بھی آسان نہ ہو شاید۔

ڈرامہ ایک خوبصورت لڑکی کے گرد گھومتا ہے، ویسے یہ بھی شکر ہے لڑکی اچھی خاصی خوبصورت دکھائی ہے ورنہ مشرقی معاشرے میں جہاں آج کل کے دور میں لڑکیوں کی ایک شادی کرنا ماں باپ کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے وہاں پہ متعدد شادیوں کا سوال محض ایک سوال ہی ہے اور اسلامی معاشرے کی تربیت پہ خاصا بڑا سوالیہ نشان بھی جہاں نبی پاک نے پہلی ہی شادی اپنے سے پندرہ سال بڑی عمر کی خاتون سے کی جس میں شادی کا پیغام خاتون کی طرف سے تھا، آج لڑکی تو کجا بے چارے ماں باپ کسی لڑکے کو یہ پیغام بھیج کے دنیا جہاں کی شرمندگی مول لینے کے متحمل نہیں ہو پاتے کہ ہر معاملے میں فوقیت صرف لڑکے والوں کو ہی دی جاتی ہے۔

یوٹیوبر زید علی کی ایک رشتے سے متعلق ویڈیو ہے جس میں وہ رشتہ بیورو والوں کے آفس جاتا ہے اور وہاں جا کر لڑکی کے بارے میں اپنی ہزار ڈیمانڈز بتاتا ہے۔ سارا کچھ سن کے رشتہ والے انکل اس سے پوچھتے ہیں کہ تم لڑکی کو کیا دو گے تو وہ کہتا ہے کہ اسے میں جو مل جاؤں گا اور اسے کیا چاہیے۔ اس کے بعد رشتے والے انکل لڑکے کو ایک دو شدید مغلظات سنا کے وہاں سے بھگا دیتے ہیں۔ اگر ہر کوئی یہ قدم اٹھانے کے قابل ہو جائے تو اتنی قابل اور پیاری لڑکیاں نکمے لڑکوں کے حوالے نہ ہوں، صرف اس شرط پہ کہ انھیں ایک گھر مل رہا ہے اور کوئی ان کا خرچہ پانی اٹھائے گا۔

ڈرامے میں ایک اوسط درجے کی نوکری کرنے والی لڑکی جو گھر میں کماؤ کی حیثیت رکھتی ہے تھوڑی سی تیز دکھائی گئی ہے مگر بالکل کھری۔ اتنے کھرے لوگوں کے ساتھ زمانہ یہی سلوک کر سکتا ہے جو ہر شادی میں اس کے ساتھ ہوا۔ اس نے گھر بسانے کی کوشش کی مگر مقابل ہر بار ایک عورت سازشوں کا جال لے کر کھڑی ہو گئی۔ اب زندگی پہ غور کرتی ہوں تو سمجھ آتا ہے کہ ہمارے سماج میں تقریباً ہر لڑکی، عورت کسی دوسری عورت کے پھیلائے ہوئے سازشوں کے جال میں پھنسی پڑی ہے۔

اس پہ پہلے بھی لکھا کہ ہمارے زمانۂ جاہلیت میں ہر عورت دوسری کسی بھی عورت (یہاں پر دوسری عورت سے مراد مرد کی دوسری شادی ہر گز نہیں ) کی سازشوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ عورت بعض اوقات تو لڑکیوں کی اپنی ماں، بہن بھی ہوتی ہیں جو ان کے گھر نہیں بسنے دیتیں۔ مرد تو زیادہ تر لائی لگ ہی ہوتے ہیں جس نے جدھر ہوشیاری سے جس طرف لگا لیا۔ کاٹھ کے الو بن جاتے ہیں اور وہ اس میں بھی خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور عورت کو ناقص العقل۔

ڈرامے کی ساری سچائیاں، معاشرتی رویوں پہ طنز ہر ہر سین میں عروج پہ رہا مگر ایک سین پہ دل بے تحاشا خراب ہوا کہ ایک لڑکی/ عورت جب اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ اسے زندگی گزارنے کے لئے صرف ایک مرد کا مکمل ساتھ چاہیے اور کچھ بھی نہیں۔ کتنی سچائی تھی ان الفاظ میں۔ ڈرامے کی ہیروئن بہت بولڈ دکھائی گئی لیکن اس کی خواہش انتہائی معصوم ہے، صرف ایک مرد کا مکمل ساتھ اور بیچارہ بدنصیب مرد اسے وہ بھی نہیں دے پاتا۔

مرد کا یہ بے حس رویہ اور اپنی بنیادی ذمہ داری سے دست برداری ایک اچھی لڑکی/عورت کا گھر نہ بسنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہیں۔ ایک ایسی لڑکی جو نوکری بھی کر رہی ہے اور بغیر کسی ہائی ڈیمانڈ کے بے پروا شوہر کو مکمل توجہ بھی دے رہی ہے، وہی شوہر جس کے لاکھ اصرار پر شادی ہوتی ہے، اسے ہی بیوی کی کوئی فکر نہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی کوتاہیوں کو ٹھیک کر کے اپنے گھر پہ توجہ دیتا، اس نے لڑکی کو ہی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ ہیں وہ خاموش مسائل جن سے ہمارا معاشرہ کبھی آگاہ نہیں ہوتا۔ اکثر تو چار/پانچ بچے بھی ہو جاتے ہیں اور پھر عورتیں یا تو سٹریس /ڈپریشن میں چلی جاتی ہیں یا پھر دوسری بیماریوں میں۔ یہ صورت حال اکثر مردوں کو بھی پیش آتی ہے مگر بات ادھر بھی ساری وہی رہتی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ مذہب اور قانون نے جو ذمہ داریاں اور حقوق مذہبی اور قانونی رشتوں پر لاگو کیے ہیں جہاں کہیں بھی ان سے روگردانی ہوگی مسائل کا انبار کھڑا ہوگا۔ اگر کوئی پورے خلوص اور سچی نیت سے زندگی نبھانا چاہتا ہے تو بیچ میں کبھی زمانہ کود پڑتا ہے تو کبھی عزیز از جاں رشتے۔ ہمیں ان اصولوں کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہم ان بنیادی رشتوں میں کس حد تک پورے خلوص، محبت اور سچائی سے شامل ہوتے ہیں اور جب تک یہ اقدار دونوں طرف سے پریکٹس نہیں کی جائیں گی، کبھی رشتے ٹوٹیں گے تو کبھی انسان۔ ایسی زندگیوں میں اگر سب نارمل لگ بھی رہا ہو تو ہوتا نہیں۔

مرد اگر چار شادیاں بھی کر لیں تو کوئی نہیں پوچھتا اور لڑکی اگر لڑکے کا کریکٹر خراب ہونے پر بھی طلاق لے لے تو کریکٹر لڑکی کا ہی داؤ پہ لگ جاتا ہے۔ اور ساتھ میں گھر نہ بسا سکنے کا الزام بھی۔ آخر اس طرح کی منفی سوچ کب بدلے گی۔ جب مذہب اور قانون نے عورت کے لیے شادی کے ایک جیسے ہی ضوابط رکھے ہیں تو معاشرے کی عمومی سوچ کیوں نہیں بدلتی۔ کیوں عورت صرف اور صرف عزت کو ڈھونے کا پیمانہ بن کر جیتی رہے؟ آخر اس کا اپنی زندگی پہ ویسا ہی حق کیوں نہیں جیسا کہ ایک مرد کا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •