پریم چند کی افسانوی خصوصیات ‘کفن’ کی روشنی میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منشی پریم چند کا شمار اردو کے اہم ترین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ، اور بھی افسانہ نگار ہیں لیکن افسانہ نگاری کے فن میں جو کمال انہیں حاصل ہے کسی اور کو نہیں۔ پریم چند نے معاشرے کے تلخ حقائق کو بے نقاب کیا۔ ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ ان کے مشہور افسانے بڑے بھائی صاحب، حج اکبر،  زیور کا ڈبہ، دودھ کی قیمت،  دو بہنیں اور کفن ہیں۔ کفن کو عالمی معیار معیار کا افسانہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے کردار زیادہ تر دیہاتی ہوتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ خود دیہات کے رہنے والے تھے۔ آپ نے ان کرداروں کے درمیان زندگی گزاری تھی۔ یہ کوئی کتابی کردار نہ تھے بلکہ زندہ کردار تھے۔

ان کا افسانہ کفن بھی دیہاتی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ پریم صاحب نے دیہاتی کرداروں کہ حرکات سکنات رہنے سہنے اور بولنے کے انداز کا بڑا باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور اس پس منظر میں کردار تخلیق کیے۔

زیر بحث افسانہ کفن دو مرکزی کرداروں گھسیو اور مادھو کے گھومتا ہے۔ کہانی میں یہ کردار کسی خاص طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کردار فنی لحاظ سے مکمل اور سبک ہیں۔ آپ نے یہ کردار بڑی مہارت اور فنی چابکدستی سے پیش کیے ہیں۔ اس لیے یہ کردار جاندار اور متحرک ہیں اور کہانی پہ اپنی مضبوط گرفت رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کہانی میں دلچسپی کاعنصر برقرار رہتا ہے۔ انہیں ایک نفسیات دان کی حیثیت حاصل ہے۔

آپ نے اس کہانی میں انسانی نفسیات کی بڑی بھیانک عکاسی کی ہے۔ گوپی چند نارنگ کہتے ہیں پریم چند کے ذہن پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کا اتنا گہرا اور حقیقت پسند مشاہدہ ہے۔ معلوم نہیں پریم چند کے اندر بیٹھے ہوئے انسان پہ کیا گزری ہو گی۔ موت میں زندگی کی تلخ حقیقت کو بڑی بے رحمی اورسفاکی سے پیش کیا۔

افسانے میں انسانوں میں پائی جانے والی برائیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کی بے حسی کو دیکھیے کہ اندر بدھیا موت اور زندگی کی لڑائی لڑ رہی ہے اور یہ آلو بھوننے کی فکر میں ہیں۔ یہ دونوں کردار اتنے لالچی اور خود غرض ہیں جو پیسے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ معاشرے کے ان دونوں کرداروں پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کردار نگاری کے ذیل میں ایک اور چیز اہمیت کی حامل ہے اور وہ ہے مکالمہ نگاری، جو کہانی کو آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کے مکالمے زیادہ تر  پُرمعنی ہوتے ہیں۔

یہ کہانی پڑھ کہ یوں لگتا ہے جیسے دو افراد کی گفتگو ہم اپنے کانوں سے سن رہے ہوں۔اس سے کردار بھی واضح ہو جاتے ہیں اور جذبات کی بھی عکاسی ہو جاتی ہے۔ کہانی کا پلاٹ مربوط و مضبوط ہے۔ کرداروں اور واقعات کی بھرمار نہیں ہے۔

کہانی مختصر ہونے کے ساتھ دلچسپ بھی ہے۔ اس کا اسلوب نہایت سادہ پرکشش اور دلکش ہے۔ اسلوب میں مقامی رنگ جھلکتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے ضرور کو جرور زمانے کو جمانے غلام کو گلام جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کہانی میں انھوں نے عربی ، فارسی اور سنسکرت کے الفاظ استعمال کیے ہیں جو کہ اردو زبان میں عجیب سا لطف دیتے ہیں۔

ڈاکٹر انور صدیقی کہتے ہیں انہوں نے زبان کا بھی نیا تصور اور مقامی رنگ پیدا کر کے نیا انداز بھی پیدا کیا۔ پریم چند نے جن تشبیہات اور استعارات کا استعمال کیا،  ان میں معنویت اور گہرائی ہے۔ اس میں انہوں  نے بیانیہ طریقہ اختیار کیا اور کفایت لفظی کا استعمال بڑی خوبصورتی سے کیا۔

منظر کشی بہت فطری ہے۔ اس ذیل میں ایک اور چیز جو اہمیت کی حامل ہے۔ وہ ہے جزئیات نگاری جیسے جھنپڑے کا ہونا ، چلم پینا،  آلو بھوننا اس کی اہم مثالیں ہیں۔ بدھیا کی موت کا منظر قاری کو انتہائی درد اور صدمے سے دو چار کرتا ہے۔

مختلف ناقدین نے اس کہانی کو بہترین قرار دیا ہے۔ اس میں ان کی حقیقت نگاری عروج پر ہے۔

ڈاکٹر فردوس انور قاضی کہتے ہیں پریم چند کا قلم نہ صرف سفاک ہے بلکہ اس میں سے کبھی کبھی زہر ٹپکنے لگتا ہے۔ ان کے اسلوب کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ کہیں سرشار کا رنگ نظر آتا ہے تو کہیں بشن نرائن اور رابندر ناتھ ٹیگور کا۔

آپ مارکسزم سے بہت متاثر تھے۔ کفن اس کی واضح مثال ہے۔ دونوں کردار غریب ہیں اور چماروں سے ان کا تعلق ہے۔ جب عام انسان کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں۔تو گھسیو اور مادھو جیسے کردار ہمارے سامنے آتے ہیں۔ بدھیا کی لاش لیے اتنے پیسے آنا کسی واقعے سے کم نہیں۔ ان کے اندر کی لالچ اور خود غرضی میخانے میں لے جاتی ہے۔

اس کہانی کو اکثر نقاد جو پریم چند کی مثالیت پسندی کو پسند نہیں کرتے بہترین قرار دیتے ہیں۔ ان میں پروفیسر وقار عظیم احتشام اور شمیم حنفی شامل ہیں۔

پریم چند کی یہ کہانی سب کہانیوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ انہوں نے متحرک آئینے کے ذریعے معاشرے کے تلخ حقائق کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کیا۔ انسان کی نفسی برائیوں کو پیش کیا۔ اس ذیل میں پریم چند کے نام کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •