سخت گیر ہندو تنظیموں کے دباؤ پر بھارتی فوڈ ایکسپورٹ اتھارٹی نے مینوئل سے’حلال‘کا لفظ ہٹا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق بھارت میں زرعی اجناس اور پراسسڈ فوڈ ز کی برآمد کی نگرانی کرنے والی اتھارٹی(APEDA) کو دائیں بازو کے ہندو اور سکھ گروپوں کے دباؤ پر اپنے ریڈ میٹ مینوئل میں سے ’حلال‘ کا لفظ ہٹانا پڑ گیا۔

اے پی ای ڈی اے نے اپنے مینول میں لکھا تھا کہ بھارت سے برآمد کیا جانے والاگوشت اسلامی ماہرین کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے تحت تیار ہوتا ہے اور جانور اسلامی اصول کے مطابق ’حلال‘ ہوتے ہیں۔ بعد ازاں جب سخت گیر مذہبی گروپوں نے سوشل میڈیا پر اتھارٹی کے خلاف مہم چلائی تو اتھارٹی نے اپنا موقف بدلتے ہوئے کہا کہ ”حلال سرٹیفیکیشن کی ذمہ دار کمپنیوں کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان کمپنیوں کو گوشت درآمد کرنے والے ملک ہی لائسنس جاری کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ ”حلال گوشت“ انہی ممالک کی ڈیمانڈ ہے۔

اتھارٹی کی جانب سے مینوئل سے حلال کا لفظ ہٹانے کو اس کے خلاف مہم چلانے والے ہریندر سکا نے اسے ’درست سمت میں پہلا قدم ‘ قرار دیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ ’حلال گوشت دراصل حرام ہے‘، ادھر سکھ تنظیموں نے بھی سول ایوی ایشن کے وزیر ہردیپ پوری سے ہوائی جہازوں میں مسافروں کو ’حلال گوشت‘ مہیا نہ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سکھ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ’حلال‘ کی شرط کی وجہ سے وہ بے شمار لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں جو ان’شرعی ذبح خانوں‘ میں کام کے لیے تیار نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •