راجہ گدھ کا فکری پہلو

بانو قدسیہ کو اردو ادب میں خاص مقام حاصل ہے۔ وہ ناول نگار ہونے کے علاوہ افسانہ نگار بھی تھیں۔ ناولوں میں بازگشت، موم کی گڑیا اور راجہ گدھ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ادبی زندگی کا آغاز ناولٹ سے کیا۔ راجہ گدھ بطور خاص آپ کی پہچان بنا۔ آپ مشہور افسانہ نویس اشفاق احمد کی زوجہ بھی ہیں۔ ناول کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ زندگی کی روشن کتاب ہے۔ ایک ایسا ارتعاش ہے۔ جو انسان کے اندر

Read more

اردو غزل ابتدا سے بہمنی سلطنت تک

شمس قیس رازی لکھتے ہیں ”غزل اس درد ناک چیخ کا نام ہے جو ہرن کے منہ سے اس وقت نکلتی ہے جب اسے شکاری کتوں سے بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی“ جب کہ علامہ شبلی کہتے ہیں ”غزل کی تحریک عشق و محبت سے ہوتی ہے“ ۔ ہیiت کے اعتبار سے غزل ایک خاص صنف سخن کا نام ہے۔ جس میں مطلع، مقطع، قافیہ، ردیف کا ہونا ضروری ہے۔ غزل کے اشعار زیادہ سے زیادہ سترہ اور کم

Read more

سفید ساڑی

لکشمی ایک خوب صورت عورت تھی۔ وہ دن اس کے لئے قوس قزح کی مانند تھے جب نندن اس کی زندگی میں آیا تھا اس کی زندگی خوشیوں کے رنگ میں رنگنے لگی تھی۔ نندن لکشمی سے بہت پیار کرتا تھا اور لکشمی بھی اس کے پیار کا سندور لگائے بہت خوش تھی۔ کچھ ہی عرصے کے بعد ان کے آنگن میں پیارا سا پھول کھلا جس کا نام انھوں نے مدھو رکھا۔ نندن کو اپنی قسمت پررشک تھا۔ اسے

Read more

میرے والد کی برسی

2 آج صبح میں عجیب کشمکش میں تھی۔ سرد ہوا میرے بدن سے ٹکراتی تو عجیب طرح کی سنسناہٹ پیدا کرتی آج چھٹی حس بیدار تھی ، وہ کسی حادثے کے ہونے کا پتا دے رہی تھی ، فون کی گھنٹی بجی۔ وہ فون نہیں موت کا پیغام تھا۔ آج میرے والد کو گزرے پچیس برس بیت چکے ہیں ، ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ وہ دن قیامت سا تھا ، ایسا لگا میرے پاؤں کے نیچے

Read more

کوئی تصنیف کلاسیک درجہ کیسے حاصل کر سکتی ہے؟

کلاسیکی نقاد شیکسپیئر کو اس لیے تسلیم نہیں کرتے کہ اس نے ڈرامے کے فنی اصولوں کی پاسداری نہیں کی جو انھوں نے متعین کیے تھے۔ کلاسکی تنقید کا بانی ارسطو کو کہا جاتا ہے۔ کلاسیکی تنقید کا تصور مغرب سے آیا ہے۔ اردو ادب میں میر،  اثر لکھنوی، کلیم الدین احمد، نیاز فتح پوری کو کلاسیکی نقاد مانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر  نے اس تنقید کو مختلف ناموں سے پکارا ہے۔ ہیتئی تنقید یا تشریحی تنقید کو جوزف۔ ٹی شیلے  نے  اخلاقی تنقید کے مترادف قرار دیا۔

Read more

پریم چند کی افسانوی خصوصیات ‘کفن’ کی روشنی میں

منشی پریم چند کا شمار اردو کے اہم ترین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ، اور بھی افسانہ نگار ہیں لیکن افسانہ نگاری کے فن میں جو کمال انہیں حاصل ہے کسی اور کو نہیں۔ پریم چند نے معاشرے کے تلخ حقائق کو بے نقاب کیا۔ ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ ان کے مشہور افسانے بڑے بھائی صاحب، حج اکبر،  زیور کا ڈبہ، دودھ کی قیمت،  دو بہنیں اور کفن ہیں۔ کفن کو عالمی معیار معیار کا افسانہ

Read more