کیا لاہور کراچی بننے والا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج اچھا یہ ہوا ہے حمزہ کے لواحقین  نے میت فیروز پور روڈ پہ رکھ کر نا صرف سڑکیں بلاک کر دیں بلکہ انہوں نے کچھ سالوں سے ہونے والے بھتہ اور طاقت و موت کے شہ سواروں کو بھی منظر عام پہ کر دیا۔

دو روز قبل کی بات ہے جس وقت شام کے وقت اس نوجوان کو گولی ماری گئی تو اس لمحے ہم اس مقام پہ خود موجود تھے۔ اچانک خوف و بھگدڑ کاعالم تھا جس نے ماحول اور انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعہ اچھرہ بازار میں ہوا تھا اور تب بھی مزنگ اور کلمہ چوک تک کا علاقہ قیامت کا منظر پیش کر رہا تھا۔آپ گھر جا سکتے تھے نہ کوئی گھر سے لینے آ سکتا تھا۔ گاڑیوں اور انسانوں دونوں کی ٹریفک بلاک تھی۔

خوف نے مرد و زن کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا کیونکہ یہ کراچی نہیں تھا کہ جہاں کے لوگ بازاروں میں گولی چلنے کے اتنے عادی ہو چکے تھے کہ چند گھنٹے بعد کاروبار زندگی کا آغاز ہو جاتا تھا۔ کراچی طارق روڈ پر بھی ہم ایک ایسے واقعہ سے گزر چکے تھے۔ سو دل اب حادثوں کا عادی ہونے لگا تھا کہ جب کوئی حادثہ پیش آئے تو پہلے خود کو کنٹرول کریں تب ہی آپ دوسروں کی مدد کر کے حالات پہ قابو پا سکتے ہیں۔

بازار اور آس پاس کے سب بازار فوری طور پہ بند کروا دیے گئے ، اس لڑکے کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دو دن وہ وینٹی لیٹر پہ رہا اور کسی کو کم ہی امید زیست تھی کیونکہ گولی جگر سے آرپار ہو گئی تھی۔اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور چند ماہ قبل اسی خاندان کے ایک اور چراغ کو گولی سے ابدی نیند سلا دیا گیا تھا۔

بھتہ خوری کی آڑ میں طاقت ور ظالم تاجر اپنی کرسی بھی نہیں کھونا چاہتا اور مقابلہ بھی نہیں کرنا چاہتا۔ عیار نہ کھل کے سامنے آتا ہے اور چھپ کر رہتا ہے۔یہ پہلا قتل نہیں جو اس تاجر کی وجہ سے ہوا ہو بلکہ یہ مافیا کے طور پہ ایک عرصہ سے سرگرم ہے۔

اب اس کی طاقت کو بلا مزید طاقت ور بنائے ہوئے ہے کیونکہ بلا کاروبار کو نہیں جانتا کیسے چلتا ہے۔ نظام سے نا آشنا ہے۔اس بات کا اظہار ہمارے پی ایم پچھلے سال کے اختتام پہ اپنی زبان سے کر چکے ہیں کہ دو سال تک تو انہیں پتا ہی نہیں تھا کہ معیشت کیسے چلتی ہے۔

سو بلے اور بلے بازوں سے لاکھ محبت اور نفرت کے باوجود معذرت کے ساتھ کہ خدارا انسانیت پہ رحم کریں۔ بات کہاں سے کہاں نہیں چلی گئی،  وہیں کی وہیں ہے کہ بھتہ مافیا نے اچھرہ کے تاجروں کا کاروبار تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ پرسوں یہ گولیاں چلنے سے پندرہ دن قبل بھی اچھرہ میں ایک نوجوان کو کاروباری لین دین کے چکر میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کتنے ہی علاقائی تاجروں نے اپنے کاروبار کسی اور جگہ منتقل کر لیے ہیں کیونکہ جہاں خوف کا عالم ہو، وہاں شاپنگ کرنے کوئی نہیں آتا۔ یوں کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے۔

متعلقہ تھانے  نے ابتدائی قانونی و سرکاری کارروائی کر دی ہے مگر یہ تھانہ مکمل امن کے لیے شاید کوئی اہم کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔حالانکہ یہ وہی تھانہ ہے جہاں ملکی تاریخ  کے اہم ترین کیس کی ایف آئی آر درج ہوئی تھی اور پورے ملک میں اس پھانسی پہ سناٹا چھا گیا تھا۔

پچھلے دو سالوں سے اچھرہ بازار میں تاجروں کے درمیان زندگی اور موت کے اس کھیل کو حمزہ کی میت نے آج سب پہ عیاں کر دیا ہے مگر حکومت سے مجھے بھرپور امید ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح کچھ نہیں کرے گی۔ یقین کیجیے اگر وہ کچھ نہیں کرے گی، یہ مافیا میرے ملک کے نوجوانوں اور تاجروں کو بندوق کی نوک پر کاروبار کرنا سکھا دے گا اور جب خوف و حس ختم ہو تے ہیں تو ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتے ہیں۔

لاہور کی تمام تر انتظامیہ کے لیے، چیمبر آف کامرس سمیت سب کے لیے یہ میت سوالیہ نشان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •