کپتان اور ملنگ کی ملاقات کا احوال۔۔۔!


ہفتے کا دن تھا، سر شام پانچ بجے کا وقت طےہوا، ہم عمومی تاخیر کا شکار تھے، رہی سہی کسر مال روڈ، کیمپس پل، اور برکت مارکیٹ کے اطراف بدترین ٹریفک نے پوری کر دی۔ ساڑھے پانچ کے آس پاس تحریک انصاف چئیرمین سیکرٹریٹ نزد برکت مارکیٹ لاہور پہنچے۔ سوچا تاخیر سے ہیں، ذمہ داری لاہور انتظامیہ پر عائد کریں گے۔ جواب میں پنجاب سرکار کی کارکردگی پر دو چار کرارے جملے سننے کو مل جائیں گے۔ اندر گئے تو معلوم ہوا، ابھی تو وہ بھی نہیں آئے۔۔ تھا جن کا انتطار۔۔! تحریک انصاف میں نووارد صمصام بخاری (سابقہ پپلئے) ہمارے سابقہ یونیورسٹی فیلو حافظ فرحت کے ہمراہ استقبال کے لئے پہلے ہی سے منتظر تھے۔ بخاری صاحب رکھ رکھاؤ کے آدمی ہیں۔ فوراً چائے پانی سے تواضع کی اور روایتی سیاسی گپ شپ سے وقت گزرتا گیا۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما پہلے ہی سے سندھ کی سیاست پر تبصرہ فرما رہے تھے۔ ہم نے پوچھا کہ متحدہ کی تقسیم اور پاک سر زمین کے قیام کے تناظر میں ضرورت تھی کہ آپ وہاں قدم جماتے۔ ایسا کیوں نہ ہوسکا؟ وہ بولے کہ اِکا دُکا افراد کے علاوہ وہاں کی قیادت نے خاطر خواہ نتائج نہیں دئیے۔ فیصل واڈا کا ذکر خیر ہوا تو موصوف کا تبصرہ دلچسپ تھا۔ کہا: واڈا صاحب غلط وقت پر \’چل\’ پڑتے ہیں۔

 کچھ دیر بعد نعیم الحق صاحب بھی آن پدھارے۔ شہر لاہور کی چند \’اینکریاں\’ اور \’اینکریت\’ میں ملوث کچھ صحافی حضرات بشمول خاکسار، عزیزم اسد اللہ خان اور جناب سہیل وڑائچ کپتان کے ملاقاتی تھے۔ ساڑھے چھے بجے کپتان تشریف لائے۔ آتے ہی کوٹ اتارا جسے عون چوہدری نے فورا اُچک لیا۔ عبدالعلیم خان صاحب اور ہمارے دوست فواد چوہدری صاحب بھی ساتھ ہی تھے۔ چوہدری صاحب نے تو جہاں کرسی خالی ملی وہیں بیٹھنے پر اکتفا کیا البتہ علیم خان صاحب کپتان کے دائیں جانب کرسی کھینچ کر براجمان ہوئے۔ دعا سلام کے بعد خاکسار نے ملاقات کا شرف بخشنے پر شکریہ ادا کیا اور انہیں نمائندہ نسل کے پترکاروں سے میل ملاقات مزید بڑھانے کا مشورہ دیتے ہوئے ہاؤس اوپن کر دیا۔

سر دست خان صاحب نے قومی اسمبلی میں واپسی جیسے \’دقیق\’ نکتے کی وضاحت فرمانے کی کوشش کی اور ساتھ ہی \’یو۔ٹرن\’ کا عمومی مفہوم اور لغوی معنے بیان کر دئیے۔ جس سے وہاں موجود طالبعلموں کی علمی پیاس قدرے بجھ سی گئی۔ فرمایا: یو۔ٹرن یہ ہوتا ہے کہ آپ کل جماعتی الائنس کے پلیٹ فارم پر الیکشن کا بائیکاٹ کریں اور پھر خود انتخاب لڑیں۔ (ان کا اشارہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات اور مسلم لیگ ن کی جانب تھا)۔ قصہ مختصر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ مقصد سے پیچھے ہٹنا یو۔ٹرن کہلاتا ہے۔ مقصد کے لئے راستہ تبدیل کرنا یو۔ٹرن کی کیٹیگری میں ہرگز نہیں آتا۔

\"\"

تیاری آنے والے انتخاب کی ہے، انہیں یقین تو نہیں البتہ ایک مہیب سی امید ہے کہ شاید دو ہزار سترہ میں ہی الیکشن کا بگل بجانا حکومت کی مجبوری بن جائے گا۔ پارٹی قیادت کی باڈی لینگوئج سے تو یہی پیغام ملا کہ تیاری ابتدائی مراحل میں ہے۔ وقت کم اور مسائل کا انبار ہے۔ انتخابی پلاننگ کی بات کرتے ہوئے کپتان نے \’سائیڈ پوسچر\’ تبدیل کیا، ٹانگ سے ٹانگ ہٹائی، سیدھے ہو کر بیٹھنے کی بجائے ٹیبل پر جھکے، دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ملا کر بات میں وزن ڈالنے کے لئے بلند آواز میں قطعیت کیساتھ گویا ہوئے :

\”پنجاب میں تو \’ون آن ون\’ تحریک انصاف اور ن لیگ کا مقابلہ ہوگا، رہی بات خیبر پختونخواہ کی تو وہاں تمام جماعتیں ایک طرف ہوں گی اور پی ٹی آئی تن تنہا مقابلہ کر ے گی۔\”

انتخابی منظرنامے کی شکل ابھی پوری طرح واضح نہیں ہو پائی تھی کہ خاکسار کو بیچ میں لقمہ دینا پڑا:

کیا مطلب خان صاحب؟ یعنی آپ کی اتحادی جماعت اسلامی بھی انتخابات میں \’داغ مفارقت\’ دے جائے گی؟

گہری سانس لیتے ہوئے کپتان نے تعجب کا اظہار کیا اور پھر مخصوص انداز میں تبسم فرماتے ہوئے ہماری بغل میں تشریف فرما جناب نعیم الحق سے مخاطب ہوئے۔۔: نعیم۔۔!یہ شعر کیا تھا؟ عشق قاتل سے بھی۔۔۔؟

نعیم الحق صاحب نے شعر کی صورت میں خان صاحب کا جواب مکمل کر دیا۔۔:

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟

جماعت اسلامی کی طرز سیاست سے خان صاحب نالاں جب کہ پرویز خٹک کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ سندھ اور بلوچستان پر سیر حاصل بات نہ ہوسکی۔ بضد تھے کہ 2013 کے انتخابات سے بہت کچھ سیکھا اور آنے والے معرکے میں ہر حلقے کے کارکنوں کی باقاعدہ انتخابی تربیت کریں گے۔ نوجوانوں کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر ان کا جواب زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھا۔ پوچھا:

آپ کی باتوں سے تاثر ابھرا ہے کہ شاید آپ \’الیکٹبلز\’ کی سیاست کرنے جا رہے ہیں؟

\"\"

فرمایا: ہاں ایسا ہے بھی اور نہیں بھی۔ ہر حلقے سے تین تین چار چار امیدوار ہیں، ٹکٹ اسی کو دیں گے جو سیٹ جیت سکے۔ نوجوانوں کو انہی حلقوں میں ٹکٹ دیں گے جہاں انہوں نے ماضی میں بہتر پرفارم کیا۔ مثال دیتے ہوئے کہنے لگے جیسے حماد اظہر ہیں۔۔ سامنے بیٹھے ہیں۔ ان کا خاندان انتخابی سیاست کا ماہر ہے، انہیں ٹریننگ نہیں دینا پڑے گی۔ یہ الیکشن ڈے خود سنبھال لیں گے۔ اسی طرح صمصام بخاری ہیں، انہیں بھی اوکاڑہ کی سیاست کا علم ہے۔ ووٹ نکال لیں گے۔

موضوع بدلا تو پوچھا: خان صاحب \’روڈ\’ اور \’کوٹ\’ سے کچھ نہ ملا تو کیا اسمبلیوں سے استعفے دینے کی آپشن پر غور کر لیا؟

کہنے لگے۔ روڈ اور کوٹ سے بہت کچھ ملا اور مزید ملنے کو ہے۔ غالباً کپتان استعفوں کا آپشن مکمل طور پر \’رائٹ آف\’ کر چکے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا کہ پارٹی کے اراکین اسمبلی انہیں اس آپشن سے کوسوں دور لے گئے ہیں۔ حالیہ لاک ڈاون پلان کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر یکم نومبر کو پرویز خٹک اور ان کے ساتھی واپس نہ جاتے تو خون خرابہ یقینی تھا، گولی چلتی اور پھر حالات سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ پانامہ پیپزر پر خان صاحب اینڈ کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اب اداروں کے لئے اتنا آسان نہیں ہو گا کہ وہ نواز شریف کو کلین چِٹ دے۔ تاثر یہی ملا کہ اس مدعے پر اب بھی تحریک انصاف سڑکوں پر آنے کی آپشن محفوظ رکھے ہوئے ہے تا کہ بوقت ضرورت کام آوے۔ بات مزید آگے بڑھی تو کپتان نے وضاحت کی کہ یکم نومبر کو انہیں کوئی \’اہم\’ کال موصول نہیں ہوئی تھی۔ انتخابی دھاندلی ہو یا پانامہ پیپرز، سڑکوں پر آئیں تو کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں ہے۔ پوچھا: خان صاحب! ذرا اس بات کی مزید وضاحت تو بیان فرمائیں۔۔!

فرمایا: دیکھئے اب تو اداروں کے سربراہان بھی بدل گئے۔ اب تو نہیں کہیں گے کہ ہم کسی اور کو حکومت کا بستر گول کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو سب سے زیادہ نقصان تو ہمیں ہو گا کیونکہ ہماری بیس سالہ جدوجہد پس منظر میں چلی جائے گی۔

کپتان کی چھوٹی انگلی میں نئے پتھر کے اضافے، سیاسی کزن سے دوری، خیبر پختونخواہ حکومت کی کارگردگی، پارٹی انتخابات اور ایسے ان گنت سوالات ابھی باقی تھے کہ محفل برخواست کرنا پڑی۔ خان صاحب کو نمل کالج کے سالانہ اعشائیے کے لئے رخصت ہونا تھا۔ جاتے ہوئے ہم نے وہی شکایت دہرائی جس کا اظہار تین برس قبل کیا تھا کہ، حضور آپ کی نیک نیتی پر شک نہیں، جذبہ جوان ہے، ہمت ہے، لگن ہے۔ لیکن کیا کیجئے کہ دائیں بائیں پائے جانے والے اکثرحضرات رہنما کم اور گمراہ کن زیادہ ہیں، احتیاط کیجئے۔ پارٹی میں نظم کا شدید فقدان ہے۔ ہر چھوٹا بڑا خود ساختہ ترجمان ہے۔ ضابطہ درکار ہے۔ نوجوانوں کی تربیت پر زیادہ توجہ دیجئے۔ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کپتان انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے نوجوانوں کے فلک شگاف نعروں کے بیچ اگلی منزل کے لئےروانہ ہوگئے۔

میں واپسی پر کوریڈور سے گزرتے ہوئے عون چوہدری کو فقط استقامت کی دعا ہی دے سکا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 60 posts and counting.See all posts by ajmal-jami

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments