ہمارے پاس تو اب کوئی جنازہ اٹھانے والا بھی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج دوپہر فیس بک دیکھتے ہوئے میری انگلیاں جامد ہو گئیں اور نظریں ٹھٹھر سی گئیں۔ آٹھ دس سال کی پھولے گالوں والی کالی چادر میں لپٹی ایک بچی چند اور سیاہ چادروں میں لپٹی عورتوں کے آگے بیٹھی ہوئی تھی اس کے سامنے ایدھی کی چادر اوڑھے اس کا باپ، بھائی، چچا، ماموں، نانا یا دادا لیٹا ہوا تھا۔

وہ جو بھی ہوگا یقیناً بہت قریبی ہوگا اس کا دکھ میں لپٹا چہرہ اس کے اندر کی کہانی بیان کر رہا تھا۔ اسی تصویر کے نیچے یہ جملہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ”ہمارے پاس تو اب کوئی جنازہ اٹھانے والا بھی نہیں رہا“ ۔

میرے لئے یہ ایک جملہ نہیں ہے، ایک نوحہ ہے، ایک مرثیہ ہے، ایک آہ ہے، فریاد ہے، دکھ کی ایک ایسی لکیر ہے جو آپ کو بیچوں بیچ سے کاٹ دیتی ہے اور قطرہ قطرہ لہو ٹپکتا رہتا ہے، جمتا رہتا ہے۔

میں نے آئی پیڈ بند کر دیا۔ میرے کانوں میں کل سے آج تک کی تمام خبریں گونجنے لگیں، صبح کا اخبار نظروں کے سامنے ناچنے لگا۔ جس میں اس انسانیت سوز واقعہ کو یہ کہہ کے بیان کیا گیا تھا کہ کوئٹہ کے ہزارہ شیعہ مرنے والوں کی میتوں کے ساتھ سڑک پے بیٹھے ہیں۔

کوئٹہ کی حدود میں میتوں کے ساتھ سڑک پہ بیٹھنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ یہ ہزارہ کے شیعوں ہی کا جگرا تھا جو چند سال پہلے بھی خون جما دینے والی ٹھنڈ میں اپنے مرنے والوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے کئی دن تک بیٹھے رہے تھے اور پھر بہت سارے حکومتی وعدوں کے بعد تدفین کا عمل مکمل کیا گیا تھا۔

اس سانحہ کا تذکرہ کرتے ہوئے میرا ذہن مستقل ایک ہی بات سوچے جا رہا ہے کہ گزرے سالوں میں کس خاموشی سے ایک انسان کا مرنا کوئی سانحہ نہیں رہا پہلے وہ پنجابی مزدور، سرحد کا پٹھان، تربت کا بلوچی، بدین کا سندھی، کراچی کا مہاجر بنا پھر وہ مسلمان، عیسائی، ہندو اور سکھ بنا۔ اس کے بعد شیعہ سنی کا روپ دھارا اس پہ بھی تسلی نہ ہوئی تو بریلوی، بدایونی، اہل سنت، عاشقان رسول، پاسبان نبوت، خادمین رسول اللہ، نورانی کے چاہنے والے، فضل الرحمن کے عاشق، ہزارہ کے شیعہ، گلگت بلتستان کے شیعہ، چترال مانسہرہ کے شیعہ، آغا خانی شیعہ، بوہری شیعہ، یعنی شیعیت بھی تقسیم در تقسیم ہوتی ہو گئی۔ مساجد تو جدا ہوئیں سو ہوئیں جماعت خانے اور امام بارگاہیں بھی نہ بچ سکیں۔

انسان مرتا گیا مرتا گیا اور مر رہا ہے۔ انسانیت پریشان حال بال بکھرائے، چاک گریباں، سینہ کوبی کر رہی ہے۔ اپنے آنسو خود ہی پونچھتی ہے، بالوں میں خاک ڈالتی ہے لیکن منہ سے آواز نہیں نکالتی، اس کے حلق سے آواز نکل بھی نہیں سکتی کہ اس کے حلق میں تہہ در تہہ شیعیت اور سنیت کے ٹکڑے پھنسے ہوئے ہیں۔

یہاں سے وہاں تک، حاکموں محکوموں میں سے ہے کسی کے پاس اس بات کا جواب کہ ”ہمارے پاس تو جنازہ اٹھانے کو کوئی مرد بھی نہیں رہا“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •