صرف سیاست میں ہی غیر سنجیدگی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ٹاس ہارنے کے باوجود بھی بہت شاندار کھیلے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک مایہ ناز کھلاڑی اظہر علی کے جب یہ الفاظ میرے کانوں میں پڑے تو میں نے گھبرا کر اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ یہ غیر سنجیدہ بات میرے علاوہ اور کوئی تو نہیں سن رہا۔ بے شک میرے دائیں بائیں تو کوئی نہیں تھا لیکن میں یہ بات کرائس چرچ کے کرکٹ گراؤنڈ میں اظہر علی کے ساتھ کولھے سے کولھا ملا کر بیٹھا ہوا تو نہیں سن رہا تھا کہ ایسی نا سمجھی کی بات فقط مجھے ہی سنائی دے رہی ہوتی۔

یہ جملے تو الیکٹرانک چینلوں سے ہواؤں میں نشر ہو رہے تھے جو یقیناً دنیا میں لاکھوں لوگ سن رہے ہوں گے ۔ اظہر علی پاکستان اور نیوزی لینڈ میں کھیلے جانے والے پاکستان کی اس ٹسٹ اننگ کے متعلق کہہ رہے تھے جو صرف 297 رنز بنانے کے بعد اختتام پذیر ہو گئی تھی۔ جب میں نے اپنے پاس کسی کو نہیں پایا تو حسن ظن سے کام لیتے ہوئے خیال کیا کہ شاید 297 رنز کسی ٹسٹ میچ کی ایک اننگ کا اسکور ہونے کی بجائے ون ڈے انٹر نیشنل میچ کا اسکور ہو۔

ویسے تو میری آنکھیں اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اب تک 6 بائی 6 ہی ہیں لیکن پھر بھی کچھ دیر کے لئے مجھے یوں لگا کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں نے اپنے اپنے ملک کی ون ڈے میچوں والی ”کٹیں“ زیب تن کی ہوئی ہیں لیکن میرا یہ حسن ظن، زن کر کے گزر گیا اور مجھے دونوں ٹیموں کی زیب تن کٹوں کا رنگ دودھ کی طرح سفید نظر آنے لگا۔ مجھے تو بہر کیف وہ ٹسٹ ٹیم ہی کا ڈریس نظر آ رہا تھا مگر ممکن ہے کہ جس وقت اظہر علی اپنی ٹیم کی پہلی اننگ کے کھیل کی کار کردگی کو بہت ہی عمدہ قرار دے رہے ہوں اس وقت انھیں یہ ٹسٹ ٹیم کا نہیں کسی ون ڈے انٹر نیشنل میچ کا اسکور نظر آ رہا ہو۔

کرکٹ کو بائی چانس ایسے ہی نہیں کہا جاتا۔ دیکھا گیا ہے کہ کبھی کبھی آخری وکٹ پارٹنر شپ بھی ایسی کارکردگی دکھا جاتی ہے کہ مخالف ٹیم ہر بال کے بعد اپنی ہی بوٹیاں نوچنے لگتی ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دنیائے کرکٹ کی نہایت مضبوط ٹیم بھی صرف 36 رنز بنا کر تھکے ہوئے گھوڑوں کی طرح گردن لٹکائے پویلین کی جانب لوٹ جانے پر مجبور ہوتی ہے۔ شاید اسی موہوم سی امید پر اظہر علی نے 297 رنز جوڑنے کو شاندار کہہ دیا ہو کہ اگر انڈیا کی ٹیم 36 رنز بنا کر آؤٹ ہو سکتی ہے تو نیوزی لینڈ کی ٹیم جو انڈیا کے مقابلے میں چہ پدی چہ پدی کا شوربہ بھی نہیں، اسے 97 رنز کے اندر اندر آؤٹ کر کے فالوآن پر کیونکر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

ایک وجہ اس خوش فہمی کی اور بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے سارے چوٹی کے بیٹس مین، علاوہ اظہر علی، سب کے سب سگریٹ کا ”ٹوٹا“ بعد آنے والے کھلاڑی کو پکڑا کر یہ کہتے ہوئے میدان میں داخل ہوئے کہ یار اسے بجھانا نہیں، میں ابھی واپس آیا۔ پہلی اننگ کے یہ 297 رنز بھی یا تو آل راؤنڈروں نے بنائے یا جن کا انتخاب صرف اور صرف بالروں کی حیثیت سے کیا گیا تھا۔ اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بلا شبہ ٹیم کی کار کردگی (چوٹی کے کھلاڑیوں کو چھوڑ کر) نہایت شاندار تھی جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ شاید اظہر علی کا خیال یہ ہو کہ مخالف ٹیم کے سارے مرد میدان ہماری ٹیم کی طرح نامراد و ناکام لوٹ جائیں اسی لئے انھوں نے ایک ہی جملے میں دو باتیں کچھ اس طرح ارشاد فرمائیں کہ ”موجودہ پچ ایک ایسی پچ ہے جس پر رنز بھی بن سکتے ہیں اور وکٹیں بھی گرائی جا سکتی ہیں۔

اظہر علی کا گمان بہت غلط بھی نہیں تھا لیکن ان کے اس خواب کو خواب و خیال بنانے میں خود پاکستانی ٹیم کے اپنے کھلاڑیوں کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ جب ٹیم نیوزی لینڈ کے دو ٹاپ کے بیٹس مینوں کے چار چار پانچ پانچ ہاتھوں میں آئے کیچوں کو چھوڑے گی اور مس فیلثنگ کی مدد فراہم کر کے گیند کو باؤنڈری لائن کے باہر جانے یا ایک کی بجائے دو دو رنز بنانے کے مواقع فراہم کرے گی تو پھر انجام بد سامنے آ تا ہوا دکھائی دینا کوئی انہونی کیسے ہو سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے آج کی اپنی پہلی اننگ کا پہاڑ جیسا اسکور یقیناً ایسا ہے جو پاکستانی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے دل کو لرزا دینے کے قابل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے ٹیم اننگ کی شکست سے اپنے آپ کو کیسے بجا پاتی ہے۔

اظہر علی کی وہ خوش فہمی کہ ہم نے ٹاس ہار جانے کے باوجود بھی 297 رنز کی اننگ نہایت شاندار کھیلی ہے وہ نہ صرف دور ہو گئی ہو گی بلکہ اب ان کی جاگتی آنکھوں کے سامنے سب سے پہلا مرحلہ اننگ کی شکست سے پاکستانی ٹیم کو بچانا ہو گا تو دوسرا مرحلہ کریس پر اتنا وقت گزارنا کہ وقت گزر ہی جائے اور میچ کا فیصلہ نہ ہو سکے۔ بظاہر یہ دونوں خواب بے شک خواب و خیال ہی لگتے ہیں لیکن کرکٹ کو بائی چانس بھی تو کہا جاتا ہے۔ کیا معلوم کوئی غیبی مدد دنیائے آسمان سے برس پڑے، کوویڈ 19 غلغلہ مچاتا عین میدان میں آ کودے، خدا نہ خواستہ نیوزی لینڈ میں کان کنوں پر حملے کے نتیجے میں وہاں کی وزیر اعظم کھیلوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردے یا پھر آسمان اتنی زور سے برس پڑے کہ بقایا دنوں میں کھیل جاری ہی نہ رکھا جا سکے۔ اب یہی چند معجزات ہی پاکستانی ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی اظہر علی کو ناسمجھ اور ناہنجار نقادوں سے محفوظ رکھ سکے تو رکھ سکے ورنہ ان کی یہ جلدبازی کی بیان بازی ہدف تنقید بننے سے کسی طور محفوظ نہیں رہ سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •