یہ جہاز تمہارے حوالے بکرو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

گزشتہ دنوں پی آئی اے کا چترال سے اسلام آباد جانے والا اے ٹی آر جہاز گرا۔ ساتھ ہی ملتان سے بھی خبر آ گئی کہ ادھر ایک ایسا جہاز اڑنے والا تھا کہ انجن جواب دے گیا۔ سارے اے ٹی آر جہاز گراؤنڈ کر دیے گئے اور پی آئی اے کے سارے بڑے سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اب کیا کیا جائے۔ اس سلسلے میں پی آئی اے کا جو اجلاس ہوا، ہمارے نہایت ہی خفیہ صحافتی ذرائع نے اس کی خبر لیک کی ہے۔ شروع میں تو ہمیں اس خبر پر یقین نہیں آیا مگر جب ہمارے ذرائع نے اپنی بھری ہوئی سگریٹ ہمیں بھی پیش کی تو دوسرے کش پر ہی ہمیں ان کی خبر پر سو فیصد یقین آ گیا۔ میٹنگ کی روداد آپ کو بھی پیش کرتے ہیں۔

چیئرمین پی آئی اے: ایم ڈی صاحب، یہ جہاز کیوں گر رہے ہیں؟
ایم ڈی: چیف انجینئیر صاحب، یہ جہازوں کا کیا معاملہ ہے؟
چیف انجینئر: ہیڈ آف مینٹننس ڈیپارٹمنٹ، چیئرمین صاحب کے سوال کا جواب دیں۔
ہیڈ آف مینٹیننس: سر جہاز سو فیصد چیک کر کے اڑائے جاتے ہیں۔ اس میں ہماری ٹیم کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ہماری ٹیم نے معاملے پر خوب غور کیا ہے۔ تمام جہازوں کے پنکھے چلا کر دیکھے ہیں۔ سب ٹھیک چل رہے ہیں۔ بتیاں جلا بجھا کر بھی دیکھی ہیں۔ سارے بٹن بھی ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ کوئی میکینکل فالٹ نہیں ہے۔ ہماری رائے میں ایچ آر والوں کو پائلٹوں کی صحت کا جائز لینا چاہیے۔ ہمیں یہ انجن کی نہیں، پائلٹوں کی خرابی لگ رہی ہے۔
چیئرمین: آپ درست کہتے ہیں۔
ہیڈ آف ایچ آر: ہمارے پائلٹ سو فیصد تندرست ہیں۔ بلکہ صحیح الدماغ بھی ہیں۔ یہ سو فیصد انجینئرنگ ٹیم کی غلطی ہے۔
چیئرمین: آپ بھی درست کہتے ہیں۔
ایم ڈی: سر دونوں درست کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یا تو جہاز خراب ہے یا پائلٹ کی غلطی ہے۔
چیئرمین: آپ بھی درست کہتے ہیں۔
ایم ڈی: سر پھر معاملہ کیسے حل کیا جائے؟\"\"
چیئرمین: ایم ڈی آپ ہیں۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ بتائیں کہ مسئلہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟
ایم ڈی (گھبرا کر): سر یہ ریلوے کی سازش لگتی ہے۔ اس کی سروس بہتر ہو رہی ہے اور اب ہمارے ایلیٹ مسافر گھیرنے کے چکر میں کوئی کالا سفید عمل کروا رہے ہیں۔
چیئرمین: آپ درست کہتے ہیں۔ یہ معاملہ ہو گا۔ مجھے خود بھی ریل کا سفر بہتر اور آرام دہ لگنے لگا ہے۔ جہاز میں تو دھڑکا سا ہی لگا رہتا ہے۔ چلیں ہم تو ریل میں سفر کر لیں گے، مگر یہ جو ادارے کی بدنامی ہو رہی ہے، اس کا سد باب کرنا بھی ضروری ہے۔
ایم ڈی: سر یہ روحانی معاملہ ہے اور انسانی بس سے باہر ہے۔ میرے پیر صاحب نے بہرحال اس کا حل پیش کیا ہے۔ انہوں نے دم کیا ہوا پانی دیا ہے جو کہ تمام جہازوں پر چھڑکا جا رہا ہے اور ہر پائلٹ کی سیٹ کے نیچے تعویذ بھی رکھ دیے گئے ہیں۔ اب جہاز سو فیصد محفوظ ہیں۔ مگر انہیں دو سو فیصد محفوظ کرنے کے لئے ہر جہاز کو اڑانے سے پہلے ایک کالے بکرے کا صدقہ دیا جائے گا اور پائلٹ خود اس کی گردن پر چھری پھیرے گا۔
چیئرمین: سبحان اللہ۔ یہ بہت اچھا کیا۔ اب واقعی ہمارے جہاز سو فیصد محفوظ ہیں۔ لیکن اس پر خرچہ بہت ہو جائے گا۔ ادارہ پہلے ہی خسارے میں جا رہا ہے۔
ایم ڈی: سر پریشانی کی بات نہیں ہے۔ اسی صدقے کے کالے بکرے کا گوشت مسافروں کو کھلایا جائے گا۔ اس بنیاد پر ٹکٹ کی قیمت بھی دگنی کی جا سکتی ہے کہ کھانے کا معیار دگنا بہتر ہو گیا ہے۔
چیئرمین: ٹھیک ہے۔ اس اجلاس میں ہر فلائٹ سے پہلے کالے بکرے کا صدقہ دینے کی متفقہ منظوری دی جاتی ہے۔ اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ہمارے جہاز سفر کے قابل ہو چکے ہیں۔ سیکرٹری صاحب، کل میری لاہور میں میٹنگ ہے۔ فرسٹ کلاس کی سیٹ تو بک کرا دیں گرین لائن سے۔ سنا ہے بہت اچھی ٹرین ہے اور وہ کھانے میں مٹن کی ڈشیں دے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1380 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply