مولوی محمد علی احمدی، لارڈ ہیڈلے اور اقبال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

\"\" چکوال کے قصبےدوالمیال میں احمدیوں کی جس عمارت پر اس ہفتے حملہ کرکے غازیوں نے (یا فی الوقت سرکار نے) قبضہ کر لیا ہے وہ سو سال پرانی کہی جاتی ہے۔ اب اس عمارت کو دو ناموں سے یاد کیا جاتاہے۔ جو اسے استعمال کرتے آئے ہیں انھوں نے اسکے دروازے پر اسکا نام ’دارالذکر ‘ لکھ رکھا ہے،جبکہ غازی اور اخبار نویس اس کو ’عبادت گاہ ‘ کہتے ہیں۔ جس نام سے اس عمارت کی تعمیر ہوئی تھی وہ اس سے چھینا جا چکا ہے، اوراب اسےلینا ایک جرم قرار دےدیا گیا ہے۔

میں اس ہفتے پرانے رسالے ’تہذیبِ نسواں ‘ کی فائلیں دیکھ رہا تھا۔ مفتوحہ عبادت گاھ کی جتنی پرانی دو خبریں اس رسالے میں نظر سے گذریں انھیں آپ کی اطلاع کے لئے درج کر رہا ہوں۔ یاد رہے کہ یہ رسالہ مولوی ممتاز علی صاحب کی نگرانی میں شائع ہوتا تھا، خاص لاہور سے، اورکسی خاتون کی ادارت میں شائع ہونے والا یہ پہلا اردو جریدہ 1898میں نکلنا شروع ہوا تھا۔\"\"

 1۔ یہ خبر 28 دسمبر 1918 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ تحریر عبدالمجید خاں سالک کی ہے۔ 12 ربیع الاول مطابق 17 دسمبر کو راولپنڈی میں ایک جلسہٴ میلادالنّبی بہت اہتمام سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں شرکت اور تقریر کےلئے مولوی ممتاز علی اور سالک صاحب بطورِ خاص لاہور سے گئے تھے۔ یہ تقریب دو جلسوں پر مشتمل تھی ۔ دن کےجلسے میں ممتاز علی صاحب کی تقریر ہوئی۔ اسی میں پہلے سالک صاحب نے وہ نظم پڑھ کر سنائی جو انھوں نےخاص اس موقعہ کے لئےلکھی تھی۔ یہ نظم انھوں نے سشن کے خاتمے پر بھی لوگوں کی فرمائش پر دوبارہ سنائی۔ وہ آگےلکھتےہیں: ’شام کے وقت اسلامیہ سکول کے بورڈنگ ہوس پر بہت روشنی کی گئی۔ بچوں کو شیرینی بھی تقسیم کی گئی۔ رات کے وقت بھی جب مولوی محمد علی صاحب، ایم اے، امیر جماعت احمدیہ لاہور کا لکچر تھا، بہت سے لوگوں نےمیری نظم سہ بارہ سننے کی فرمائش کی، لیکن میں اس وقت جلسے میں موجود نہ تھا اس لئےکارکنان جلسہ نے حاضرین سے معذرت کر دی۔ ‘

 2۔ دوسری خبر دس برس بعد 21 جنوری 1928 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی؛ تحریرکنندہ خاتون نےاپنا نام محض ’ع۔ا۔ ‘ لکھا ہے۔ خبر کا عنوان ہے ’لارڈ ہیڈلے لاھور میں ‘۔ لارڈ ہیڈلے Lord Headley ایک مشہور آئرش لارڈ تھے جو 1913 میں احمدیہ جماعت کے خواجہ کمال الدین کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوئے تھے۔ آپ نے حج بھی کیا تھا اور برسوں تبلیغ میں بھی مصروف رہے۔ چنانچہ جب تبلیغ اسلام کا ایک بہت بڑا جلسہ جنوری 1928 میں لاہور میں ہوا تو اس میں آپ نے بھی شرکت کی۔ اس موقعہ پر ایک خاص جلسہ آپ کے خیر مقدم کے لئے اسلامیہ کالج میں کیا گیا تھا، اسی کی مفصل روداد ’ تہذیب نسواں ‘ میں شائع ہوئی تھی۔ جستہ جستہ\"\" بیانات آپ بھی پڑھیں:

 ’ جلسے کی کارروائی ماسٹر فقیرالله نےقرآن شریف کا ایک رکن پڑھ کر شروع کی۔ اس کے بعد مولانا محمد علی صاحب صدر جلسہ نے کرسیٴ صدارت حضور لارڈ صاحب کو پیش کرتے ہوئے حاضرین سے آپ کا تعارف کرایا۔ ان کی اعلیٰ تعلیم اور خاندانی وجاہت کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ’ جنگ عظیم کے زمانہ میں آپ کو البانیہ کا تخت پیش کیا گیا تھا، مگر کتنے فخر کی بات ہےکہ ہمارے نومسلم بھائی نے دنیا کی اس عارضی سلطنت پر اسلام کی خدمت گذاری کی روحانی اور دوامی بادشاہت کو ترجیح دےکر انکار کر دیا۔ ‘

مولانا کے بعد میاں محمد شفیع کھڑے ہوئے، جنھوں نےکہا: ’حضور لارڈ صاحب کی اسلامی محبت اور اشاعت اسلام کی سرگرمی اسی سے ثابت ہوتی ہے کہ آپ 73 سال کی عمر میں چھ ہزار میل کا سفر کر کے تبلیغ کانفرنس کی شرکت کے لئے یہاں تشریف لائے ہیں۔ ‘

میاں صاحب کے بعد مولانا ظفر علی خاں کھڑے ہوئے، اور دوران تقریر یہ بھی کہا: ’ہمارے لئے وہ دن بہت قریب ہیں جب کہ ہمارے مقدس پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ فرمانِ والا شان پورا ہو جائے گا کہ “ایک مرتبہ اسلام کا آفتاب مغرب سے طلوع ہو گا۔” مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ1913   میں جس وقت خواجہ کمال الدین صاحب اپنی کوششوں میں کامیاب ہوئے ہیں اور جناب لارڈ صاحب نے اپنےمشرف باسلام ہونے کا اعلان کیا ہے تو میں وہیں موجود تھا، اور میں نے ہی آپ کا الفاروق نام تجویز کیا تھا۔ ‘\"\"

ظفر علی خاں کے بعد ڈاکٹر سر محمد اقبال نے جلسہ کو خطاب کیا اور فرمایا کہ ’مغرب انسانی اخلاق اور تہذیب کی رہنمائی جہالت کی طرف کر رہا ہےاور مغربی تہذیب رفتہ رفتہ تباہی اور بربادی طرف پھسل رہی ہے۔ یہ بات بھی پایہ ٴثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ سائنس کی ترقی بھی ان لوگوں کی روحانیت کی تکمیل کے لئے ناکافی ہے۔ اگرچہ مغربی تہذیب ابھی اسلام کی طرف بخوبی مائل نہیں ہوئی تاہم ان لوگوں کی نجات صرف اسلام اور اسلام ہی کی تعلیمات سے ہو گی۔ ‘ان کی تقریر کے بعد مولانا محمد علی نے لارڈ صاحب کے گلے میں ہار ڈالا اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کی جانب سے ان کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا۔

ان دو خبروں میں جن بزرگوں کے نام درج ہیں وہ اگر آج ہوتے تو پتہ نہیں ان پر کیا گذرتی۔ شاید انھیں بھی دوبارہ کلمہ پڑھنے پر مجبور کیا جاتا۔ واقعی میری دادی سچ کہا کرتی تھیں، رہے نام الله کا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

13 thoughts on “مولوی محمد علی احمدی، لارڈ ہیڈلے اور اقبال

  • 19/12/2016 at 2:47 am
    Permalink

    میں چونکہ فیس بک کا ممبر نہیں ہوں اس لئے اوپر کچھ تحریر نہیں کر سکتا۔ اوپر عرفان صاحب نے اقبال کا خط غالباً محض ایک جملےکی تشہیر کے لئے کیا ہے: “I have no doubt in my mind that the Ahmadis (Qadiani) are traitors both to Islam and India.
    ۱۔ اقبال نے تشریح کر دی ہے کہ وہ ’احمدی ‘ اور ’قادیانی ‘ میں فرق کر رہے ہیں۔ کیا پاکستانی حکومت اور پاکستانی غازی یہ فرق کرتے ہیں؟
    ۲۔ اقبال کے غدار کہہ دینے سےکوئی شخص قانون کی نظر میں غدار نہیں ہوجاتا، نہ اسکے قانونی حقوق چھینے جاسکتے ہیں، چہ جائیکہ اس کا گھر جلادیا جائے، اسکی عبادتگاہ پر قبضہ کرلیا جائے، اسکی عبادتگاھوں پر بم پھینکے جائیں، اور جب بھی مناسب سمجھا جائے اسکی جان لے لی جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اقبال اس طرح کے رویہ کو بھی اسلام اور پاکستان سے غداری قرار دیتے۔
    ۳۔ ہندوستان سے جس غداری کا ذکر اقبال نے کیا ہے تو وہ غداری ممدوٹ اور دولتانہ اور ٹوانہ اور نظام حیدرآباد اور جمیع راجہ اور نواب کے علاوہ بے شمار سول سروس کے نامدار بھی کر رہے تھے۔ خود اقبال نے سر کا خطاب بخوشی قبول کیا اور کبھی اس سے دست بردار نہ ہوئے۔

  • 20/12/2016 at 12:59 am
    Permalink

    سی ایم نعیم صاحب
    اخباری خبروں کے مطابق قادیایوں نے ربیع اول کے جلوس پر فائرنگ کی تھی ۔ جس میں ایک مسمان شہید ہوا تھا۔ قادیانیوں کو جب غیر مسلم قرار دیا گیا تھا تو ربوہ اسٹیشن پر مسلمان طالب علموں پر قادیانیوں نے فا ئرنگ کی تھی۔کسی کی عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچانا چاییے۔ مگر کیا کیا جائے قادیانی ٹھگی کر کے خود کو مسلمان کہتے ہیں اور سارے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ مرزا صاحب نے کہا تھا ، جو کتابوں میں درج ہے جو مجھےنبی نہیں مانتا وہ رنڈی کی اولاد ہے۔ اور بھی بہت کچھ کہا تھا جو ان کی کتابوں میں موجود ہے۔ سیدھے طریقے سے پاکستان میں اقلیت بن کے رہیں جیسے دوسری اقلیتیں رہتی ہیں۔ تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاییے۔
    میری دادی نے کہا تھا بیٹا سیدھا سادہ مسلمان بن کے رہے تو اللہ کے پاس اجر پاو گے۔ سب نے مر جانا ہے ۔ ۔ ۔ باقی نام اللہ کا ہے۔
    میر افسر امان
    کالمسٹ
    کراچی

  • 20/12/2016 at 7:11 pm
    Permalink

    محترم، مسجد سے فائرنگ کی خبر مجھے صرف جنگ میں نظر آئی۔ اسکی تصدیق کسی اخبار نے نہیں کی۔ جبکہ احمدی عمارت پر قبضہ کرنے کی کوششیں پہلے سے ہو رہی تھیں۔ ’سیدھےطریقے سے اقلیت بن کے رہیں‘ والی بات میری سمجھ میں تو نہیں آئی۔

  • 20/12/2016 at 9:59 pm
    Permalink

    کیا جنگ اخبار مکمل اخبار نہیں۔ ۔ ۔ سیدھے طریقے کا مطلب یہ ہے کہ سب کو آزادی ہے جس بھی مذہب پر چلے۔ ۔ ۔ مگر وہ ٹھگی نہ کرے۔ ۔ ۔ مسلمانوں کی مسجد کو آپنی مسجد کہنا۔ ۔ ۔ غیر مسلم ہو کر عام مسلمانوں میں آپنے آپ کو مسلمانوںں کا ایک فرقہ کہنا جبکہ قادیانیوں کا اپنا علیحدہ مذہب ہے۔ ۔ ۔ اسلامی شعار کو استعمال کرنا۔ نہ مزا صاحب کو نبی نہ ماننے والوں کو رنڈی کی اولاد کہا وغیرہ۔ ۔ ۔ کیا کوئی عیسائی ایسا کرتا ہے ان کو اپنے کذہب پر ناز۔ ۔ ۔ بات سمجھ آ گئی جناب۔ ۔ ۔
    میر افسر امان
    کالمسٹ
    کراچی

  • 21/12/2016 at 12:16 am
    Permalink

    محترم، جس عمارت کا قضیہ ہے وہ جب سے بنی تب سے کچھ لوگوں کے استعمال میں ہے۔ اب اس پر دوسرے لوگ قبضہ کرناچاہیں تویہ کسطرح جائز ہوگا؟ جن اسلامی شعائر کو استعمال کرنے کی بنیاد پر وہ لوگ ۱۹۷۴ سے قابل تعزیر بن گئے وہی شعائر وہ برسوں پہلے سے استعمال کرتے آئے تھے، لیکن اس سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہونچا۔ مرزا غلام محمد کو فوت ہوئے عرصہ ہوچکا۔ جو لوگ اب مارے جارہے ہیں کیا وہ بھی کسی کو رنڈی کی اولاد کہتے پائے گئے ہیں؟ پاکستانی عیسائیوں کا جو حال ہے وہ پوشیدہ نہیں۔ رہی بات جنگ اخبار کی، تو وہ ’مکمل ‘ اخبار تو ہوگا، لیکن ذمہ دار اخبار نہیں۔ اس میں چھپنے والی خبر کی تصدیق اگر کوئی اور اخبار نہ کرے تو میں اسے نہیں مانتا۔ آپ مانیں یہ آپ کا حق ہے، لیکن اسکی بنیاد پر کسی دوسرے کا حق تو نہ غصب کریں۔ اس طرح کے معاملات میں سزا اور جزا کا حق الله کو ہی پہنچتا ہے۔

  • 21/12/2016 at 8:20 am
    Permalink

    کیسے الگ مذہب ہےَ۔ ثابت کریں۔ جباللہ ، نبیؐ اور قرآن ایک ہے۔ پانچوں ارکاں اسلام پہ ایمان ہے۔ تو کیسے مذہب دوسرا ہو گیا۔ جو جی میں ا ور منہ میں کہہ دینا مناسب نہیں۔

  • 21/12/2016 at 11:53 pm
    Permalink

    محترم بھائی سی ایم نعیم صاحب آپ کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا ہے۔ ۔ ۔ پھر ایک آرڈینس کے ذریعے اُنہیں اسلامی شعار اسستعمال کرنے سے روک دیا ۔ ۔ ۔ بلکہ اس کی سزا مقرر کی ہے تو پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ ان کا مذہب علیحدہ نہیں۔ ۔ ۔ کیا آپ آئین کی خلاف سورزی تو نہیں کر رہے۔ ۔ ۔ یہ ہے ثبوت علیحدہ مذہب ہونے کا۔ ۔ ۔ ۔ جن ارکان کا آپ کہہ رہے ہیں وہ مسلمانوں کے ارکان ہیں۔ ۔ ۔ قادیانیوں کے نہیں ہیں۔ ۔ ۔
    میر افسر امان

  • 22/12/2016 at 9:02 pm
    Permalink

    محترم، آپ نے درست کہا، پاکستان کی پارلیمنٹ نے احمدیوں کو اقلیت قرار دیا ہے۔ یعنی، پاکستانی پارلیمنٹ اس فیصلے کو کسی دن بدل بھی سکتی ہے۔ یعنی انکو ’غیر مسلم ‘ سمجھنا کسی مسلمان کے لئےنا قابل تردید قانونی ذمہ داری نہیں۔ لیکن میں نے تو عقیدے کے تعلق سے کوئی سوال ہی نہیں اٹھایا۔ میں نے تو صرف یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اب سے ۹۰ برس پہلےلوگ کس طرح سوچتے تھے اور کس طرح ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔ آپ احمدیوں کو قادیانی کہتے ہیں، شوق سے کہیں۔ آپ انھیں مسلمان نہیں سمجھتے، یہ آپکا حق ہے۔ لیکن انکی عبادتگاھیں تو انکی ہیں، اور وہ ان میں اور اپنے گھروں میں جو کچھ کرتے ہیں اس پر تو انکا اختیار رہنے دیں۔ انکو ہر آن اپنی زندگی تو خطرے میں نہ نظر آنی چاہئے۔ اسلام اور پاکستان کو جو واقعی خطرہ ہے وہ اس سوچ میں پنہاں ہے جسکی تحت اب پاکستان میں تین اذانیں سنائی دیتی ہیں، جبکہ برسوں پہلے صرف ایک، اور کہیں کہیں دو، اذانیں ہوتی تھیں۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسی چکوال میں ۲۰۰۹ میں ایک مسجد پر خودکش حملہ بھی ہوا تھا۔ اور اس میں عبادت کرنے والے احمدی نہیں تھے۔ خدا حافظ۔

  • 22/12/2016 at 10:08 pm
    Permalink

    اقبال نے یہ بھی لکھا تھا اور ریکارڈ پہ ہے کہ اگر کسی نے اسلام کو اپنے اصلی اور ٹھیٹھ روپ میں دیکھنا ہے تو قادیان جا کر دیکھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو تعلیم کے لئے قادیان بھیجا۔ خود بھی بیعت کی۔ لیکن بعد میں 1933 کے لگ بھگ احرار کے سیاسی دباؤ میں آ کر پھر گئے۔ نہرو کو جو خط لکھا وہ 1936 کا ہے۔ احمدی یقیناً نہرو کے ہندوستان کے غدار تھے اور ہیں۔ کیونکہ وہ شروع سے ہی قائد اعظم کا ساتھ دے رہے تھے۔ اور مولوی حضرات جو آجکل پاکستان کے بلا شرکت غیرے مالک بن رہے ہیں ہمیشہ قائد اعظم کو ہندوستان اور اسلام کا غدار ہی کہتے تھے۔

  • 22/12/2016 at 10:27 pm
    Permalink

    اقبال کے بڑے بھائی نے بھی احمدیت اختیار کی۔ ان کی اولاد در اولاد اب بھی احمدی ہیں۔ کیونکہ ان میں سے کوئی بھی سیاست میں نہیں گیا۔ سیاست کی بوالعجبیاں اور ستم ظریفیاں کچھ اور طرح کی ہوتی ہیں۔ خصوصاً جب اس میں مذہب بھی شامل ہو جائے۔ پاکستان میں جو کھلواڑ ہو رہا ہے اور یہ ملک جس حال کو پہنچ چکا ہے سب سیاسی مولویوں کا کیا دھرا ہے۔ اگر اس ملک کو بچانا ہے تو اس بندر کے ہاتھ سے بندوق لے لیں۔ احمدیوں ، عیسائیوں اور ہندوؤں کا کیا ہے۔ جائے خدا تنگ نیست ۔ پائے گدا لنگ نیست ۔ لیکن جن لوگوں نے اس ملک کے بنانے کی مخالفت کی ان کے ہاتھوں اس کا برا حال ہوتا دیکھ کر اس ملک کے بنانے والوں کو از حد دکھ اور افسوس ضرور رہے گا۔
    رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔!!!

  • 22/12/2016 at 10:44 pm
    Permalink

    محترم آپ قادیانیوں کی عبادت گاہ پر حملے کی بات بار بار کرتے ہیں مگر جس شخص پر گولی چلا کر شہید کر دیا اس پر بات نہیں کرتے۔یہ بات صحیح ہے کہ کسی بھی عبادت گاہ پر کسی کوحملے کا حق نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کسی کو قتل کرنے بھی کسی کو حق نہیں۔ ۔ ۔ نہ جانے آپ اپنے مذہب پر فخر کیوں نہیں کرتے ۔کیا پھر صحیح ہے کہ وہ غلط مذہب ہے۔ ۔ ۔ آپ کیوں پارلیمنٹ میں قادیانی قانون کو تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ یہ تومسلمانوں نے آپ پر احسان کیا ہے کہ آپ کو غیر مسلم اور اقلیت کہہ دیا۔ آپ کے مرزا صاحب تو شروع سے کہہ چکے ہیں صرف اس کے ماننے والے مسلمان ہیں باقی غیر مسلم ہیں۔ پارلیمنٹ نے تو مرزاصاحب کی بیان کی تائید کر دی ہے۔ آپ اسی پر قائم رہیں۔ ٹھگی چھوڑ دیں اور مسلمانوں کے شعار استعما ل نہ کریں۔ اس پر قانونی سزا بھی ہے
    میر افسر امان

  • 23/12/2016 at 9:41 pm
    Permalink

    کل عبدالله ملک کی آپ بیتی، “پرانی محفلیں یاد آرہی ہیں”، پڑھ رہا تھا۔ ایک بات اچانک نظر پڑی، وہ درج کرتا ہوں۔ ملک صاحب کی پیدائش ۱۹۲۰ میں ہوئی۔ ۱۹۲۹ میں جب غازی علم دین کو پھانسی دی گئی تو ملک صاحب کی عمر ۹ برس کی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ علم دین کے والد، مستری طالع مند، کا انکے والد کے ساتھ اکثر اٹھنا بیٹھنا تھا۔ علم دین کے بڑے بھائی بھی انکے گھر آتے تھے کیونکہ وہ بھی محلہ چابکسواراں میں رہتے تھے جہاں ملک صاحب کا گھر تھا۔ علم دین کو پانسی میانوالی جیل میں دی گئی تھی اور انکی نعش فوراً وہیں دفن کردی گئی تھی۔ جب انکی نعش انکے خاندان والوں کو نہیں دی گئی تو مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔ جلسے ہوئے، جلوس نکالے گئے، گورنر کے پاس ڈیلی گیشن گیا۔ بڑے بڑے لوگوں نے زور لگایا، تب تیرہ دن کے بعد انکی نعش لاہور آئی اور میانی صاحب کے قبرستان میں دفن کی گئی۔ ملک صاحب کے مطابق جو وفد میاں محمد شفیع کی قیادت میں پنجاب کے انگریز گورنر سے ملنے گیا تھا، اس میں “ڈاکٹر محمد اقبال، ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین، میاں عبدالعزیز مالواڈہ، خواجہ دل محمد اور مولانا محمد علی صدر جماعت احمدیہ لاھور شامل تھے۔”

  • 24/12/2016 at 3:15 pm
    Permalink

    نور مبین صاحب نے اسلامی شعار استعمال کرنے اور قادیانیوں کی ٹھگی والی بات چھوڑ کر علامہ اقبال ؒ کی باتیں بیان کر دیں ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے تو قادیانیت کی رد کی ہے۔ ان کی تحریروں میں دیکھا جا سکتا ہے/ اگر کوئی ٹھگی کر کے کسی مسلمان کے ساتھ کوئی نیکی کرے یا مدد کو پیش کر کے اپنے عقیدے کو چھاپانے کی کوشش کرے تو اس سے قبل سر ظفراللہ خان وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے حق بظاہر بڑی زور دار تقریر کی مگر رائے شماری کے وقت کو تقریر لمبی کر کے ختم کر دیا۔ باوئنڈری کیمشن میں قادیانیوں کو اُس وقت غیر مسلم قرار دلا کر گرداس پور کو بھارت میں ملانے کی سازش بھی کی۔ ڈاکٹر عبد لسلام نے پاکستان کی ملازمت کی اور امریکا کو پاکستانی ایٹم بمب کا ماڈل دے کو پاکستان دشمنی بھی کی۔ بہت کچھ بنیان کیا جا سکتاہے۔ ۔ ۔ قادیانیوں کو چایہے پاکستان کے آئین پر عمل کرتے ہوئے اقلیت بن کر رہیں یہ ان کے لیے بہتر ہے
    میر افسر امان
    کراچی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *