تھر کے شمسی توانائی کے واٹر پلانٹس پر خواتین کی حکمرانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سورج کی توانائی سے چلنے والے ان پلانٹس سے بلا تعطل چھ گھنٹے یومیہ 5 سے 6 ہزار گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
سندھ کے صحرائی علاقے تھر پارکر میں واقع گاؤں مان سنگھ بھیل کی ساتویں جماعت کی طالبہ آسیہ ان دنوں کرونا وبا کے سبب اسکول تو نہیں جا رہیں۔ لیکن روزانہ صبح گھر سے پانی بھرنے ضرور جاتی ہے۔

آسیہ کا یہ سفر اس لیے دشوار نہیں ہے کیوں کہ ان کے گھر سے آر او پلانٹ کا فاصلہ چند قدم کا ہے۔ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ گیت گاتی یہ لڑکی پانی کے بڑے بڑے گیلن بھرتی ہے اور پھر گھر لے آتی ہے۔

آسیہ کا کہنا ہے کہ پہلے ہم پانی کنویں سے نکالنے جاتے تھے۔ آسیہ کے بقول ایک گھنٹہ تو وہاں جانے میں لگتا تھا اور پانی بھی بہت کڑوا ہوتا تھا۔ وہی پانی ہم پیتے بھی تھے اور دوسرے کاموں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ تاہم اب یہ آر او پلانٹ آ گیا ہے۔ یہ مشین ہمیں پانی دیتی ہے، بس نل کھولا اور پانی آنا شروع۔ اب ہم پانچ منٹ میں پانی بھر لیتے ہیں۔

سندھ کے ضلع تھر پارکر کا رقبہ تقریباً 20 ہزار اسکوئر کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کی آبادی مسلمان اور ہندؤں پر مشتمل ہے، لیکن پورے سندھ کی نسبت یہاں سب سے زیادہ ہندو آباد ہیں۔

صاف پانی کی فراہمی تھر کی خواتین کے ہاتھ میں

یہاں کے لوگوں کا ذریعۂ معاش کھیتی باڑی یا مویشی پالنا ہے۔ لیکن اس علاقے میں اگر بارشیں نہ ہوں تو قحط سالی کا مسئلہ سب سے زیادہ سر اٹھاتا ہے۔

حد نگاہ تک پھیلے صحرا اور اس میں قائم بستیوں کے درمیانی فاصلے بہت زیادہ ہیں۔ اسی کی وجہ سے پانی کے کنویں بھی دور دور ہیں۔

یہاں کنوؤں سے پانی نکالنے کا کام آج بھی روایتی انداز میں جاری ہے۔ کچھ کنوؤں پر بڑا سا گھونگھٹ ڈالے خواتین طویل رسیوں کی مدد سے ڈول کنویں میں ڈال کر پانی نکالتی ہیں۔ جنہیں سر پر اٹھا کر یا پھر خچروں پر لاد کر گاؤں لے جایا جاتا ہے۔

دوسرا طریقہ پانی نکالنے کا یہ ہے کہ جن کنوؤں میں پانی بہت نیچے ہو وہاں یہ کام اونٹوں کی مدد سے لیا جاتا ہے۔ اونٹ کے ساتھ رسی باندھی جاتی ہے جو ایک ڈول سے بندھی ہوتی ہے۔

اونٹ کنویں سے دور جاتا ہے تو پانی ڈول میں بھر کر اوپر آتا ہے۔ پھر اس پانی کو حوض میں بھر کر وہاں سے خواتین اپنے برتنوں کو بھرتی ہیں۔

سندھ بھر میں صوبائی حکومت نے 2009 میں مختلف کمپنیوں کی مدد سے ساڑھے چار ارب روپے کی لاگت سے 1277 آر او (ریورس اوسموسس) پلانٹس لگانے کا آغاز کیا تھا۔

سب سے زیادہ آر او پلانٹ ضلع تھر پارکر میں لگائے گئے۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ بہت سے آر او پلانٹ توجہ کی کمی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب غیر فعال ہوتے گئے۔

چالیس سالہ پٹھانی آٹھ بچوں کی ماں ہیں اور مان سنگھ بھیل گاؤں کے آر او پلانٹ کو چلارہی ہیں۔
چالیس سالہ پٹھانی آٹھ بچوں کی ماں ہیں اور مان سنگھ بھیل گاؤں کے آر او پلانٹ کو چلارہی ہیں۔

یوں یہاں کے رہائشیوں کو اپنے اپنے گاؤں میں آر او پلانٹ ہونے کے بعد بھی دور دراز کنوؤں تک جانے کا سفر پھر سے شروع کرنا پڑا۔

تھر میں جب کوئلے کے ذخائر دریافت ہوئے تو اسلام کوٹ، جسے ‘تھر بلاک ٹو’ بھی کہا جاتا ہے، وہاں کے رہائشیوں کو متبادل جگہیں فراہم کی گئیں۔ اربوں ڈالر کی اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں یہاں کے رہائشیوں کو گھروں کے ساتھ ساتھ اسکول اور ڈسپنسری کی سہولت بھی مہیا کی گئی۔ ساتھ ہی مقامی افراد کو تھر کول منصوبے میں نوکریاں بھی دی گئی۔ لیکن اس جگہ پر صوبائی حکومت کے لگائے گئے آر او پلانٹ جو گزشتہ اڑھائی برس سے غیر فعال تھے، وہ مقامی لوگوں کو صاف پانی فراہم نہ کرسکے۔

ایسے میں ‘اینگرو تھر کول’ نے اسلام کوٹ کے 9 آر او پلانٹس کو حکومت سندھ سے اپنی تحویل میں لے کر ان کو فعال کیا اور وہاں تھر کی ہی عورتوں کو تربیت دے کر آر او پلانٹ چلانے کے لیے ان کے حوالے کر دیا۔

‘عورت اگر پانی نہ بھرے تو نہ کھانا پکے گا نہ کوئی کام چلے گا’

چالیس سالہ پٹھانی آٹھ بچوں کی ماں ہیں اور مان سنگھ بھیل گاؤں کے آر او پلانٹ کو چلا رہی ہیں۔

پٹھانی نے اس آر او پلانٹ کو چلانے کے لیے چھ ماہ کی تربیت حاصل کی۔ اب وہ روزانہ صبح آٹھ بجے یہاں آ جاتی ہیں اور پھر مختلف مشینوں کو چیک کرنے اور پانی کو صاف کرنے کے عمل کے بعد واٹر ٹینک بھر لیتی ہیں۔ جس سے اس گاؤں سمیت آس پاس کے گاؤں کی عورتیں آ کر پانی بھرتی ہیں۔

پٹھانی کا کہنا ہے کہ اس کام سے ان کا بہت اچھا گزر بسر ہو رہا ہے اور ہر ماہ تنخواہ ملتی ہے۔ ان کے بقول گاؤں کے لوگوں کو صاف پانی مل جاتا ہے، پہلے جو پانی وہ بھرتے اور پیتے تھے۔ اس سے بچوں کو دست اور پیٹ کی بیماریاں ہو جاتی تھی۔

پٹھانی کا مزید کہنا تھا کہ کئی بچے تو اس کی وجہ سے مر بھی گئے اب ایسا نہیں ہے۔

جن کنوؤں میں پانی بہت نیچے ہو وہاں یہ کام اونٹوں کی مدد سے لیا جاتا ہے۔
جن کنوؤں میں پانی بہت نیچے ہو وہاں یہ کام اونٹوں کی مدد سے لیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تو عورتیں ہی پانی بھرنے کا کام کرتی ہیں، مرد مزدوری کرتے ہیں۔

ان کے بقول عورت اگر پانی نہ بھرے تو نہ کھانا پکے گا نہ کوئی کام چلے گا، بچے کہاں سے روٹی کھائیں گے؟

مان سنگ بھیل کے آر او پلانٹ دوسرے گاؤں کا آر او پلانٹ حنا کوہلی اور سنگیتا چلا رہی ہیں۔

اس گاؤں کا نام ‘ابن جو تڑ’ ہے۔ یہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ کئی دہائیوں پہلے جب یہاں پانی کی قلت ہوئی تو ابن نامی ایک شخص نے یہاں ایک کنواں بنوایا۔ جس سے یہاں کے لوگوں کی پیاس بجھی۔

اس وقت سے اس گاؤں کا نام ابن جوتڑ یعنی ‘ابن کا کنواں’ پڑ گیا۔

ابن نے تو ایک اچھا کام کیا جسے یہاں کے لوگ یاد رکھتے ہیں۔ اب اس گاؤں کی پیاس بجھانے کا کام میٹرک پاس حنا کوہلی کر رہی ہیں۔

انہیں جب معلوم ہوا کہ برسوں سے بند رہنے والے آر او پلانٹ دوبارہ سے بحال ہونے والے ہیں۔ تو ان کی خوشی کا ٹھکا نہ رہا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ ان پلانٹس کو چلانے کا اختیار اب تھر کی عورتوں کے پاس ہو گا۔

گزرتے وقت کے ساتھ بہت سے آر او پلانٹ توجہ کی کمی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب غیر فعال ہوتے گئے۔
گزرتے وقت کے ساتھ بہت سے آر او پلانٹ توجہ کی کمی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب غیر فعال ہوتے گئے۔

حنا کے مطابق پہلے یہاں جب آر او پلانٹ چل رہا تھا تو اس کے آپریٹر مرد تھے۔ اس وجہ سے یہاں عورتوں کا آنا بڑا مسئلہ بن گیا۔

حنا کا کہنا تھا کہ شادی شدہ عورتیں تو جیسے تیسے آ جاتی تھیں۔ لیکن کنواری لڑکیاں نہیں آتی تھیں۔ ان کے بقول وہ کہتی تھیں کہ وہاں مرد بیٹھا ہے، کیسے جائیں؟ کیسے پانی بھریں؟ کیوں کہ یہاں کی عورتیں غیر مردوں کے سامنے نہیں جاتیں۔

ان کے بقول اب جب سے یہاں لڑکیاں آپریٹر بنی ہیں تو اس گاؤں کی عورتیں بلا جھجھک یہاں آتی ہیں اور پانی بھرتی ہیں۔

‘سندھ اینگرو تھر کول مائننگ’ کے سی ای او سید عبدالفضل رضوی کے مطابق تھر میں تقریباً 750 آر او پلانٹ ہیں۔ جب کہ اسلام کوٹ میں 9 آر او پلانٹ ہیں۔ جو صوبائی حکومت سے اینگرو نے لے کر فعال بنائے ہیں۔

سید عبدالفضل کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے یہاں کے لوگوں سے بات کی کہ وہ آپ کے گھر کی عورتوں کو پلانٹ آپریٹر اس لیے بنانا چاہتے ہیں کہ جب وہ وہاں پانی کی فراہمی کی ضامن بنے گی تو آپ کی عورتوں کو کسی غیر مرد کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ان کے بقول یہ بات ان کے لیے نہ صرف قابل قبول تھی بلکہ خوشی کی بھی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں پانی لانے کی ساری ذمہ داری عورتوں کی ہی ہے تو انہوں نے اسی وجہ سے یہاں کی مقامی عورتوں کو اس کی تربیت فراہم کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت نو آر او پلانٹ پر 12 خواتین ہیں۔ جو اسے چلا رہی ہیں۔ ان کا یہ خیال ہے کہ تھر کے 750 آر او پلانٹس یہاں پانی کی فراہمی کو پورا کر سکتے ہیں بشرط کہ انہیں درست انداز سے چلایا جائے۔ فعال حالت میں رکھا جائے اور آپریٹ کیا جائے۔

ان کے بقول اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی کمپنیوں اور اداروں کو لایا جائے جو مخلصانہ طور پر انہیں چلا سکیں۔

سورج کی توانائی سے چلنے والے ان پلانٹس سے بلا تعطل چھ گھنٹے یومیہ 5 سے 6 ہزار گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

‘اس بات پر بڑا فخر ہے کہ میں تھر کی بیٹی ہوں’

حنا کے مطابق وہ سب سے پہلے اپنے پلانٹ کا لاک کھول کر پلانٹ کی صفائی کرتی ہیں۔ اس کے بعد ضرورت کے مطابق واٹر ٹینک بھرتی ہیں۔

حنا کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت ہو تو بور موٹر چلا دیتے ہیں، پلانٹ کے اندر بہت سے کام ہیں۔ جیسے بریک واش کرنی ہیں، میٹرز ہیں۔ جو ریڈ کرنے ہوتے ہیں، پلانٹ آن کرنا ہے تاکہ صاف پانی بن سکے۔ یہ چونکہ منرل واٹر ہے تو وہ یہاں عورتوں کو سمجھاتی ہیں کہ اسے پینے کے لیے استعمال کرنا ہے، دیگر کاموں کے لیے دوسرا پانی (کھارا اور کڑوا) استعمال کریں۔

یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی یا مویشی پالنا ہے۔ لیکن اس علاقے میں اگر بارشیں نہ ہوں تو قحط سالی کا مسئلہ سب سے زیادہ سر اٹھاتا ہے۔
یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی یا مویشی پالنا ہے۔ لیکن اس علاقے میں اگر بارشیں نہ ہوں تو قحط سالی کا مسئلہ سب سے زیادہ سر اٹھاتا ہے۔

حنا کو پلانٹ چلاتے ہوئے 15 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ شروع میں ان کے لیے یہ کام مشکل تھا لیکن اب وہ نہ صرف اس کی ماہر ہیں بلکہ وہ دیگر خواتین کو بھی اس پلانٹ کو چلانے کی تربیت دیتی ہیں۔

حنا کو ہر ماہ اس کام کی تنخواہ 17 ہزار روپے ملتی ہے۔

حنا کے مطابق جب وہ پہلی بار تربیت لینے آئی تو یہ ٓسے بڑا مشکل لگا۔ یہاں تک کہ اس کے گھر والے بھی کہنے لگے کہ یہ کام تو مردوں کا ہے۔ لیکن انہوں نے انہیں سمجھایا کہ ایسا کون سا کام ہے جو عورتیں نہیں کر سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ پانی کنوؤں سے نکال سکتی ہیں اور اتنا وزن اٹھا کر میلوں پیدل چل سکتی ہیں تو یہ کام کیسے نہیں کر سکتیں۔

ان کے بقول آج جب ان کے گھر والے انہیں یہ کام کرتا دیکھتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات پر بڑا فخر ہے کہ میں تھر کی بیٹی ہوں اور اس زمین کے لیے کچھ ایسا کر رہی ہوں جس سے یہاں کے لوگوں کا فائدہ ہو رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 980 posts and counting.See all posts by voa