ایسی اپوزیشن سے کسی کو کیا پریشانی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران حکومت سے نالاں ہوئے چند سیاسی مبصرین ان دنوں بہت پریشان ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کا بنایا PDM نامی اتحاد ان کی دانست میں عوام کو متحرک کرنے کے بجائے باہمی نفاق میں مبتلا ہوچکا ہے۔اسلام آباد پر لانگ مارچ کی تاریخ طے نہیں ہوپارہی۔دریں اثناء ضمنی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے حکومتی مخالفین ’’سسٹم‘‘ کو بچانے کے نام پر موجودہ حکومت کو مزید توانائی اور استحکام فراہم کرتے نظر آئیں گے۔پریشان ہوئے مبصرین کو اصل فکر یہ بھی لاحق ہے کہ مارچ 2021 میں سینٹ کی جو 48 نشستیں خالی ہوں گی ان کی اکثریت پر تحریک انصاف کے نامزد کردہ لوگ براجمان ہوجائیں گے۔سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد عمران حکومت اپنی ترجیح کے مطابق بنائے قوانین کو تیزی سے منظور کرواتے ہوئے اپوزیشن کو 2023کے انتخابات کا انتظار کرنے کو مجبور کردے گی۔

سینٹ میں عمران حکومت کی برتری کو یقینی دکھاتے منظر کی بابت جن خدشات کا اظہار ہورہا ہے میں تنہائی میں بیٹھا اس پر غور کرتا ہوں تو پنجابی محاورے والا ’’ہاسا‘‘ چھوٹ جاتا ہے۔یہ سوال اٹھانے کو مجبور ہوجاتا ہوں کہ اپوزیشن جماعتوں کو ایوانِ بالا میں 2018 سے جو بے پناہ اکثریت میسرتھی اسے عمران حکومت کو دیوار سے لگانے کے لئے کب استعمال کیا گیا۔بہت غور کے باوجود میں ایسا ایک واقعہ بھی ذہن میں نہ لاسکا۔فقط ایک بار ’’انہونی‘‘‘ البتہ ہوئی تھی جس کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے ازالہ کردیا گیا تھا۔وقتی ابال والا واقعہ گزشتہ برس ان دنوں ہوا جب حکومت ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کی گرے لسٹ سے باہر نکالنے کے لئے تاریخی عجلت میں چند قوانین متعارف کروانا چاہ رہی تھی۔

سیاست کو اگر سنجیدگی اور ایمان داری سے زیر غور لائیں تو سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی ’’بھاری بھرکم اکثریت‘‘ کا ہوا اسی دن ہی ہوگیا تھا جب صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی۔یہ قرارداد جب ایوان میں باقاعدہ پیش ہوئی تو 62 کے قریب اراکین سینٹ اس کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔بیلٹ پیپر پر تنہائی میں مہر لگاتے ہوئے لیکن ان میں سے 15کے قریب اراکین کے ’’ضمیر‘‘ جاگ اُٹھے۔ صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ کے منصب پر اس کی بدولت برقرار رہے۔اپوزیشن جماعتیں آج تک اپنی صفوں میں موجود ’’باضمیر‘‘ افراد کا سراغ نہیں لاپائی ہیں۔نشاندہی کے بعد ان کا حقہ پانی بند کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

قانون سازی کے حوالے سے عمران حکومت کے لئے مشکل ترین مرحلہ اس وقت آیا جب آصف سعید کھوسہ نے چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہونے سے چند ہفتے قبل یہ حکم صادر کیا کہ آرمی چیف کی میعادِ ملازمت میں توسیع کو ’’باقاعدہ‘‘بنانے کے لئے متعلقہ قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔نظر آتے حقائق پر نگاہ رکھنے والے اصرار کرتے رہے کہ عمران حکومت مطلوبہ قانون کم از کم سینٹ سے منظور نہیں کرواپائے گی۔اس ضمن میں واضح نظر آتی مشکلات کے ازالے کے لئے وزیر اعظم نے ایک باربھی اپوزیشن کے پارلیمانی رہ نمائوں سے رابطے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ان سے رابطے ’’کسی اور ‘‘ نے کئے۔

مطلوبہ قانون کا مسودہ ابھی تیار بھی نہیں ہوا تھا کہ نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے اس کی ’’غیر مشروط‘‘ حمایت کا اعلان کردیا۔ان کے اعلان نے عیاں کیا کہ نواز شریف کو علاج کے لئے جیل سے ہسپتال اور بعدازاں لندن جانے والی سہولت کے تناظر میں شکر گزاری کا اظہار ہوا ہے۔پیپلز پارٹی ان کے اعلان کے بعد ہکا بکا ہوتے ہوئے تنہا رہ گئی۔قومی اسمبلی میں توسیع والا قانون بناکسی مخالفت کے 12منٹ کی ریکارڈ ساز عجلت میں پاس ہوگیا۔

بھاری بھر کم اکثریت کے باوجود اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے مذکورہ قانون کو ایوان بالاسے منظور کرنے میں بھی 12ہی منٹ لئے۔عمران حکومت کو دن رات Selected کے طعنے دینے اور ’’جمہوریت‘‘ کے مامے بنے اپوزیشن رہ نمائوں نے میرے اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کو یہ سمجھانے کی کبھی زحمت ہی گوارہ نہیں کی کہ وہ کونسی مجبوریاں تھیں جنہوں نے انہیں بقول ان کے “Selected” حکومت کو ایک مشکل ترین مرحلے میں بچانے کو مائل کیا۔

پاکستان کو FATFکی گرے لسٹ سے نکلوانے کے نام پر جو قوانین تیار ہوئے انہیں منظور کرنے میں بھی اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے حیران کن کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا جی حضوری رویہ بھی عمران حکومت کے نمائندوںکو یہ کہانی پھیلانے سے روک نہیں پایا کہ پاکستان درحقیقت آصف علی زرداری اور شریف خاندان کے ’’جعلی اکائونٹس‘‘ اور ’’منی لانڈرنگ‘‘ کے ذریعے بیرون ملک خریدی جائیدادوں کی وجہ سے FATF کی گرے لسٹ میں دھکیلا گیا تھا۔بالآخر قعطاََ غلط بنیادوں پر پھیلائی اس کہانی کو ایک روز پیپلز پارٹی کی پچھلی صفوں سے مصطفیٰ نواز کھوکھر تابڑتوڑ سوالات کی زد میں لائے۔نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے چند ’’انتہا پسند‘‘ بھی ان کی ہم نوائی کو مجبور ہوگئے۔اپوزیشن نے FATFکے حوالے سے بقیہ قوانین منظور کرنے سے انکار کردیا۔ یہ انکار پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا باعث ہوا۔

دریں اثناء عمران حکومت کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج نے تواتر سے یہ کہانی پھیلائی کہ مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی میں موجود زرداری اور شریف خاندان کے ’’ذہنی غلام‘‘ درحقیقت اپنے ’’آقائوں‘‘کو نیب سے بچانے کے لئے NRO کے طلب گار تھے۔وزیر اعظم تاہم ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو معاف کرنے کو تیار نہیں ہوئے۔ پاکستان کے ’’وسیع تر مفاد‘‘ میں تیار ہوئے قوانین کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروالیا۔پارلیمان میں اپنی عددی قوت کی بنیاد پر عمران حکومت کو ’’بلیک میل‘‘‘ کرنے میں ناکام ہوجانے کے بعد اپوزیشن جماعتیں بعد ازاں PDM میں یکجا ہوگئیں۔عوام کی اکثریت مگر ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ 13دسمبر کے لاہور والے جلسے کی ’’ناکامی‘‘ عوامی عدم دلچسپی کا بین ثبوت ہے۔

پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اپنی ’’قوت‘‘ دکھانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمان میں اپنی ’’طاقت‘‘ دکھانے کا بھی فیصلہ کیا۔ایوانِ بالا میں موجود اس کے اراکین نے یکجا ہو کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینٹ کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔نیب کی کارکردگی کو زیر بحث لانا اس اجلاس کا یک نکاتی ایجنڈا ہو۔

مذکورہ اجلاس طلب کرنے سے قبل پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا نے جو سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین بھی ہیں دھواں دھار بیانات دئیے۔ان بیانات کے ذریعے ہمیں باور کروانے کی کوشش کی کہ نیب کے افسران فقط عمران حکومت کے سیاسی مخالفین ہی کو احتساب کے نام پر جیلوں میں نہیں بھیج رہے۔اس کے چند افسران جن کی ڈگریاں بھی مبینہ طورپر ’’جعلی‘‘ ہیں اعلیٰ سرکاری افسروں اور کاروباری افراد کو مسلسل ’’بلیک میل‘‘ کررہے ہیں۔ جو شخص ان سے ’’تعاون‘‘ نہیں کرتا گرفتاری کے بعد جیل بھیج دیا جاتا ہے۔نیب کو طاقتور بناتے قوانین کی وجہ سے انہیں ضمانت پر رہائی کے لئے کئی مہینے گزرجاتے ہیں۔

اعلیٰ عدالتوں نے کئی افراد کو ضمانت دیتے ہوئے سخت الفاظ میں نیب کی ’’زیادتیوں کا ذکر کیا ہے۔وقت آگیا ہے کہ پاکستان کا ’’مقتدر ترین ادارہ‘‘یعنی پارلیمان نیب کے چیئرمین اور دیگر افسران کو اپنے روبرو بلوائے اور وضاحتیں دینے کو مجبور کرے۔

نیب کی کارکردگی سینٹ کے گزشتہ دو ا جلاسوں میں زیر بحث رہی ہے۔وہاں مگر بقول حبیب جالب اپوزیشن والے ’’فقط تقریر‘‘ہی کرتے رہے۔عمران حکومت کے نمائندوں نے ان کے جواب میں کہیں زیادہ تندوتیز تقاریر کیں۔اپوزیشن جماعتیں سینٹ میں بھاری بھر کم اکثریت کے باوجود نیب چیئرمین کو طلب کرنے میں قطعاََ ناکام رہیں۔ایسی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے عمران حکومت کو اپنا ’’استحکام‘ یقینی بنانے کے لئے مارچ 2021 کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ ’’اسی تنخواہ‘‘ پر کام کرنے کو ہمہ وقت رضا مند اپوزیشن سے کوئی ’’سیاسی نابالغ‘‘ ہی گھبرائے گا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •