تقسیم ہند کے پانچ ماہ بعد جب کراچی کی سڑکیں ہندوؤں اور سکھوں کے خون سے رنگ گئیں

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

فائل فوٹو

Getty Images
تقسیم برصغیر کے بعد ہونے والے بلوؤں میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی ایک فائل فوٹو

منگھا رام کرم چندانی صبح کے وقت اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑے تھے جب انھوں نے دیکھا کہ گرودوارے پر لوگ حملہ کر رہے ہیں اور سکھ سردار تلواروں سے اپنا بچاؤ میں مصروف ہیں۔

اچانک گرودوارے میں آگ بھڑک اٹھی کچھ سردار خود کو بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے جبکہ کچھ ہلاک ہو کر زمین پر گرے ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد مشتعل ہجوم شہر کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا اور جلاؤ گھیراؤ شروع کر دیا جس سے زیادہ متاثر شہر میں بسنے والے ہندو ہوئے۔

منگھا رام کی عمر اس وقت 15 برس تھی اور وہ کراچی میں رتن تلاؤ کے علاقے میں واقع اکال بھنگا گرودوارے کے قریب رہتے تھے۔ چھ جنوری 1948 کو ہونے والے ان حملوں اور فسادات کے بعد وہ دیگر ہزاروں خاندانوں کی طرح انڈیا نقل مکانی کر گئے۔

منگھارام نے نندیتا بھاوانی کو انٹرویو میں یہ کہانی سنائی تھی۔ نندیتا نے تقیسم ہند اور سندھی ہندوؤں کی مشکلات پر ’The making of exile sindhi Hindus and partion‘ کے نام سے کتاب لکھی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد دارالحکومت کراچی میں چھ سے سات جنوری 1948 کے درمیان ہونے والے فسادات میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ کراچی سے شائع ہونے والے اخبارات میں یہ اعداد و شمار شہ سرخیوں میں نظر نہیں آئے۔

مسلم لیگ سے منسلک سندھی روزنامہ ’الوحید‘ نے ایسوسی ایٹ پریس کے حوالے سے شائع کیا کہ دو روز میں 127 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ ’انقلاب‘ نے 10 جنوری کے شمارے میں ان ہلاکتوں کی تعداد 105 بتائی اور کہا اتنے ہی لوگ زخمی ہوئے۔

شمالی سندھ سے سکھوں کی آمد

نندیتا بھاوانی اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ چھ جنوری کو سکھ شمالی سندھ سے بذریعہ ٹرین کراچی پہنچے تاکہ یہاں سے انڈیا روانہ ہو سکیں۔ اندازہ یہ ہی تھا کہ انھیں ریلوے سٹیشن سے پولیس وین میں اکال بھنگا گرودوارے رتن تلاؤ منتقل کیا جائے گا۔ کانگریس کے رکن صوبائی اسمبلی سوامی کرشنا نند نے جب پولیس وین نہیں دیکھی تو انھوں نے تانگے کرائے پر حاصل کیے اور میکلوروڈ سے رتن تلاؤ گرودوارے کے لیے روانہ ہوئے۔

وہ لکھتی ہیں کہ راستے میں کچھ سکھوں کو تانگوں سے گھسیٹ کر اتارا گیا اور ’مارو مارو‘ کے نعرے لگائے گئے تاہم وہ گرودوارے پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر دو گھنٹوں کے دوران مشتعل لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی اور اندر داخل ہو کر آگ لگا دی اور سکھوں کا قتل عام شروع کیا گیا۔

موجودہ وقت پریڈی تھانے کے سامنے واقعے اس گرودوارے کی زمین پر اب نبی باغ کالج میں بدل چکی ہے اور اس کے عقب میں چند دیواریں اور کچھ جلی ہوئی چوکٹھیں تاریخ کے اس المیے کے ثبوت کے طور پر آج بھی موجود ہیں۔ اس سڑک کا نام آج بھی ٹیمپل روڈ ہے۔

ہندو آبادیاں ہنگامہ آرائی کی لپیٹ میں آگئیں

رتن تلاؤ کے گرودوارے سے شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی پورے شہر میں پھیل گئی۔ سندھی زبان کے شاعر اور شارٹ سٹوری رائٹر ٹھاکر چاولہ اپنی سندھ یاترا کی کتاب ’تم سندھ میں رہے جاؤ‘ میں اس روز کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہنگامہ آرائی جلد ہی پورے شہر میں پھیل گئی بلخصوص ان علاقوں میں جہاں ہندو آبادی تھی۔ گاڑی کھاتہ، فریئر روڈ، برنس روڈ، جمیشد کوارٹرز، عامل کالونی کا گھیراؤ کیا گیا اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔

ہندوؤں کے اکثریتی علاقے آریا سماج رام باغ، رتن تلاؤ میں واقع کانگریس کا دفتر سوراج بھون، لارنس روڈ پر واقع رام کرشنا مینشن پر حملہ کیا گیا۔

سکھ

Getty Images
تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان سے انڈیا پہنچنے والے سکھوں کی ایک فائل فوٹو

گھروں پر حملے اور لوٹ مار

ٹھاکر چاولہ گاڑی کھاتہ (موجودہ پاکستان چوک) کے قریب واقع ’ٹھاکر نواس‘ نامی پانچ منزلہ عمارت میں رہتے تھے وہ لکھتے ہیں کہ پہلی منزل پر دفتر اور تیسری پر رہائش گاہ تھی جبکہ دیگر اپارٹمنٹس کرائے پر دیے ہوئے تھے۔

’چھ جنوری 1948 کی صبح دس بجے گلی میں شور شروع مچ گیا اور ’اللہ اکبر‘ کے نعرے سنائی دینے لگے۔ بالکنی میں گیا تو دیکھا کہ ڈاکٹر پریم چند کے گھر کے نیچے گلی کے کونے پر ٹرک کھڑے تھے، جن میں ہندوؤں کا سامان لادا جا رہا تھا۔ یہ چالیس، پچاس لوگ تھے جن کے ہاتھوں میں تلواریں، چاقو اور لاٹھیاں وغیرہ تھیں۔ کچھ لمحوں میں یہ ہجوم ہماری بلڈنگ میں داخل ہو گیا۔ میں نے آواز لگا کر چوکیدار کو آہنی دروازہ بند کر کے تالا لگانے کا کہا۔‘

’ہمارے رشتہ دار اپنا سامان، جن میں بچیوں کا جہیز وغیرہ بھی شامل تھا، ہمارے پاس رکھ کر گئے تھے کہ بحری جہاز میں سوار ہونے سے ایک روز قبل آ جائیں گے۔ ہم نے پہلے فلور پر اپنے دو فلیٹ یعنی چھ کمرے ان کے سامان کے لیے مختص کر دیے تھے۔ ہر ایک کے پاکٹ یا بکس پر ان کا نام تحریر تھا، بدقسمتی سے اس روز ہمارا سامان بھی اس میں موجود تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ لوگوں کا ہجوم لوہے کے گیٹ کو توڑنے لگا۔ ’ہم نے اوپر سے جو چیز بھی دستیاب تھی ان پر پھینک کر انھیں بھگانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، بالاخر وہ اندر داخل ہو گئے اور سامان لوٹ کر ٹرک بھرنا شروع کر دیے۔ میں نے پولیس کو ٹیلیفون کرنے کی مسلسل کوشش کی لیکن انھوں نے نمبر مصروف کر دیا تھا۔‘

’بلوائی نعرے لگاتے ہوئے کمرے تک آئے اور دروازہ توڑ کر چاقو سے وار کیے۔ مجھے چہرے، ناک اور پیٹھ پر زخم آئے، خواتین اور بچوں کو ہم نے اوپر کے کمرے میں چھپا دیا اور باہر سے تالا لگا دیا تھا، انگریزی روزنامہ سندھ آبزرور نے ہلاک ہونے والوں کی جو فہرست جاری کی تھی اس میں میرا نام بھی شامل تھا کیونکہ میں شدید زخمی ہو چکا تھا۔‘

کیمپوں، فلاحی تنظیموں اور ہسپتالوں پر بھی حملے

کراچی سے ان دنوں بمبئی کے لیے بحری جہاز کی ٹکٹ ملتے تھے اور روانگی کے لیے مسافروں کو دس روز انتظار کرنا پڑتا تھا۔

چیتومل نے نندیتا بھاونی کو اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ سوبھراج ہسپتال کے قریب آریا سماج سکول تھا (اردو بازار میں واقع اس سکول کو بعد میں وفاقی وزیر داخلہ فضل الرحمان کے نام سے منسوب کیا گیا) جہاں 100 سے زائد خاندانوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ یہ خاندان شمالی سندھ کے مختلف علاقوں سے آئے تھے۔

ہجوم دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوا، جو مزاحمت کر رہا تھا اس کو ہلاک یا زخمی کر دیا گیا، مال و اسباب کے علاوہ خواتین کے زیوارت بھی چھینے گئے۔

’ان لوگوں نے تانگوں، ٹرکوں، کاروں میں سامان ڈالا، جن کے پاس کوئی سواری نہیں تھی وہ سروں پر اٹھا کر گئے جبکہ خواتین، بچے اور مرد چیخ چلا رہے تھے اور زخمی کراہ رہے تھے۔ بلوائیوں نے جانے سے قبل انھوں نے مٹی کا تیل اور ٹائر جلا کر سکول میں آگ لگا دی۔‘

سول اینڈ ملٹری گزٹ کراچی کے مدیر ایم ایس ایم شرما اپنی یادداشتوں ’پیپس ان ٹو پاکستان‘ میں لکھتے ہیں کہ وہ اپنے گھر مدراس گئے ہوئے تھے چھ جنوری کو کراچی لوٹے تھے، ایئرپورٹ پر انھیں لینے کار نہیں آ سکی تھی۔ انھوں نے مسٹر کھوڑو کو فون کیا انھوں نے سکارٹ بھیجا۔‘

بلوائیوں نے رام کرشنا مشن کو بھی نہیں بخشا جو فلاحی ادارہ تھا۔ انھوں نے بنگال میں قحط کے دنوں میں مذہبی امتیاز کے بغیر بڑا کام کیا تھا۔

’میں پہلے وہاں گیا جہاں راما کرشنا کی مورتی ٹوٹی ہوئی تھی، کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ دوسرا صدمہ ڈاکٹر ہیمندان وھدوانی کا حملے میں زحمی ہونا تھا۔ وہ انسانیت پر اعتماد رکھتے تھے اور ان کے نرسنگ ہومز میں غریب مستحقین کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔‘

وزیراعلیٰ کھوڑو نے خود بلوائیوں پر فائرنگ کی

ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو اپنے والد ایوب کھوڑو کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’محمد ایوب کھوڑو: جرتمندانہ سیاسی زندگی‘ میں لکھتی ہیں کہ چھ جنوری کو جب ہنگامہ آرائی کی خبر آئی تو وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو اپنے دفتر میں تھے۔ 11 بجے امن بورڈ کے سیکریٹری ٹھل رامانی دوڑتے ہوئے آئے کہ خنجروں سے مسلح افراد نے سکھوں پر حملہ کر دیا ہے۔

کھوڑو بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ڈی آئی جی پولیس کاظم رضا سے رابطے کی کوشش کی لیکن وہ دستیاب نہ تھے، اس لیے آئی ایس پی شریف خان کو ہدایت کی کہ وہ گرودوارے کا گھیراؤ کر کے انسانی جانیں بچائیں، ایک گھنٹے کے بعد رامانی دوبارہ آئے اور کہا کہ لوگوں کو اب بھی مارا جا رہا ہے، پولیس کچھ بھی نہیں کر رہی ہے۔

ایوب کھوڑو کے مطابق ساڑھے بارہ بجے وہ دفتر سے نکل کر ہنگامہ آرائی والے علاقوں کی طرف گئے اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ چاقو اور لاٹھیوں سے مسلح لوگ مندروں پر حملے کر رہے تھے۔ ان میں سے کئی گرودوارے میں داخل ہو چکے تھے، ایس پی اور پولیس اہلکار باہر موجود نظر آئے جنھوں نے بتایا کہ اُن کے پاس ڈنڈوں سے لیس 10 سپاہی ہیں جو ان بلوائیوں کو روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔

یادداشتوں کے مطابق ایوب کھوڑو اس علاقے میں ایک گارڈ، ایک ڈرائیور اور ایک بندوق کے ساتھ گئے تھے، انھوں نے اپنے سکیورٹی گارڈ کو کہا کہ نشانہ لگاؤ انھوں نے خود بھی فائرنگ کی جس کے بعد بلوائی منتشر ہو گئے۔ لیکن اس وقت تک شہر میں ہنگامہ آرائی پھیل چکی تھی، انھوں نے شہر کے کئی علاقوں کا دورہ کیا اور اپنے ذاتی پستول استعمال کیا۔

قیام پاکستان کے بعد پہلا کرفیو

کراچی میں جنوری 1948 کے فسادات پاکستان کے دارالحکومت میں پہلے کرفیو کی وجہ بنے تھے، یہ کرفیو چار روز جاری رہا تھا۔ ایوب کھوڑو کی یادداشتوں کے مطابق انھوں نے ڈیڑھ بجے جی او سی اکبر خان سے رابطہ کیا جس نے بتایا کہ تین بجے فوجی دستے پہنچ رہے ہیں، فوج کے برگیڈیئر کے ایم شیخ کی کمانڈ میں شہر میں آئی، انھوں نے ان سے میٹنگ کی اور کہا کہ اگر ضرورت پیش آئے تو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے۔

مسلم لیگ کے قریبی سندھی روزنامہ الوحید میں چھ جنوری کی اشاعت میں خبر شائع ہوئی کہ پولیس اور ملٹری نے صورتحال کو سنبھالا اور نو فسادیوں کو گولی سے اڑایا گیا۔

مسلمانوں کو سکھوں پر غصہ تھا

حکومت پاکستان اور سندھ کے وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو نے سکھوں پر حملے کو مسلمانوں کو ردعمل قرار دیا اور ان کے یہ بیانات اخبارات میں بھی شائع ہوئے۔

وفاقی وزیر داخلہ فضل رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈیا کے شہر اجمیر میں سات دسمبر 1947 کو جو خطرناک فسادات ہوئے ان میں تقریبا 20 مسلمان ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے جب انڈین سرکار نے وہاں مسلمانوں کو تخفط فراہم نہیں کیا تو وہ مسلمان جو وہاں صدیوں سے رہتے آئے تھے وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر سندھ آ گئے جن کی تعداد ہزاروں میں تھی اور ان کو سکھوں پر بہت غصہ تھا۔

ان کے بیان کے مطابق بدقسمتی سے دلی میں تازہ فسادات ہوئے تھے وہاں کچھ سکھوں نے مسلمانوں کو زبردستی گھروں سے نکالنے کی کوشش کی تھی جب انھوں نے احتجاج کیا تو ان پر مظالم کیے گے، اسی طرح دلی سے مسلمان کراچی آئے تھے انھیں سکھوں پر غصہ تھا۔

وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو کا بھی اسی نوعیت کا بیان تھا کہ ہندوستان میں سکھوں نے جو ظلم کیے ہیں اس پر مسلم پناہ گزین خود پر ضبط نہیں رکھ سکے۔

بقول ان کے کانگریس کے دباؤ پر سکھوں کو ہندوستان پہنچنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ انھیں رات کی تاریکی میں شہر لایا جائے گا اور وہاں سے انھیں روانہ کیا جائے گا، یہ پہلا جتھا نہیں تھا اس سے قبل بھی جو جتھے آئے تھے انھیں روانہ کیا جا چکا ہے پولیس کو ان کی آمد کی خبر نہ تھی۔

دوسری جانب ایوب کھوڑو کی وفات کے بعد ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں وہ کہتے ہیں کہ جس روز ہنگامہ آرائی ہوئی تھی، بعد میں معلوم ہوا کہ ڈی آئی جی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین کے ہمراہ تھا اور یہ بھی انکشاف ہوا کہ پولیس اہلکار سکھوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ریلوے سٹیشن گئے ہی نہیں تھے، شہر میں جو کچھ ہو رہا تھا پولیس اس سے لاتعلق یا پھر خوفزدہ تھی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پولیس نے کوشش ہی نہیں کی۔

برقعہ، ترکی ٹوپی اور مسلمانوں کی پناہ

کراچی میں ان فسادات کے دوران کئی مسلمانوں نے اپنے پڑوسیوں کو پناہ بھی دی تھی۔ روزنامہ الوحید کی ایک خبر کے مطابق اورینٹل ایئر ویز کے ایک مسلمان ملازم نے 20 ہندو خواتین کو اپنے گھر میں پناہ دی، ہجوم ان خواتین سے زیوارت چھیننا چاہتا تھا اس نوجوان نے انھیں للکارا اور دھمکایا۔

نندیتا بھاوانی اپنی کتاب The making of exile sindhi Hindus and partion میں لکھتی ہیں کہ کانگریس کی سرکردہ رہنما کلا شہانی جن کے شوہر شانتی بھی کانگریس سے وابستہ تھے۔ ان کو جب یہ معلوم ہوا کہ رتن تلاؤ میں کانگریس کے دفتر پر حملہ کیا گیا ہے تو انھوں نے مسلم پڑوسی کے پاس پناہ حاصل کی جنھوں نے ان کو بچانے کے لیے برقعہ پہنا دیا۔

موتی لال جوت وانی کے خاندان کو مسلم زمیندار الھ ڈنو نے پناہ دی جب بلوائی پہنچے تو انھیں بتایا کہ ہندو خاندان یہاں سے پہلے جا چکا ہے۔

چیتومل نے نندیتا بھاوانی کو بتایا کہ ان کا بھائی جو ان دنوں جیل میں کام کرتا تھا اس نے سرخ ترکی ٹوپی پہن کر خود کو بچایا جبکہ ان کے خاندان نے مسلم پڑوسی کے گھر میں پناہ حاصل کی جس نے بلوایوں کو بتایا کہ یہاں کوئی ہندو خاندان نہیں ہے۔

سکھ

Getty Images
انڈیا میں ہنگاموں کے بعد لی گئی ایک تصویر

مسلمانوں پر بدنما داغ

ہنگامہ آرائی کے دوسرے روز پاکستان کے گورنر جنرل محمد علی جناح، ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح اور سندھ کے وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو نے متاثرہ علاقو ں کا دورہ کیا، روزنامہ الوحید کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے وکٹوریا روڈ (حالیہ عبداللہ ہارون روڈ) بہار کالونی اور بندر روڈ کا دورہ کیا اور مرکزی بندر روڈ پر لوٹی گئیں دکانوں کا معائنہ کیا۔

الوحید اخبار نے ان کا بیان شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا کہ ’فسادات نے مسلمانوں پر بدنما داغ لگایا ہے، ہندوؤں کو ان کی دکانیں، گھر اور دیگر املاک واپس کرائی جائیں گی۔‘

نوابشاہ میں حملہ ہوچکا تھا

حمیدہ کھوڑو کی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ شمالی سندھ میں حالات سنگین ہو چکے تھے، جس میں نوابشاہ میں سکھوں کا قتل عام خطرے کی گھنٹی بجا چکا تھا۔

وہ لکھتی ہیں کہ یکم ستمبر 1974 کو ریلوے حکام نے رپورٹ دی کہ 55 اپ مکسڈ ٹرین جو 11 بج کر 40 منٹ پر نوابشاہ سے روانہ ہوئی وہ 12 بج کر پانچ منٹ پر نواب شاہ میں شفیع آباد کے درمیان 77 میل پوسٹ پر پٹڑی سے اتر گئی، مسلح افراد کے ہجوم نے ٹرین میں سوار سکھوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 11 مرد اور 4 خواتین موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ 17 افراد زخمی ہو گئے، یکم ستمبر کے اس واقعے نے لوٹ مار کے دیگر واقعات کو جنم دیا اور حکومت سندھ کو کچھ علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے پر مجبور کر دیا۔

کراچی میں ہنگامہ آرائی کیا منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی؟

کراچی میں ان فسادات کے بارے میں اس وقت کی حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت کا یہ ہی موقف تھا کہ ہنگامہ آرائی ردعمل اور اتفاقی تھی تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ منظم اور منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔

کمیونسٹ رہنما اور دانشور سوبھو گیانچندانی نے روزنامہ ’عوامی آواز‘ کے ایک کالم میں لکھا تھا کہ وہ ان دنوں ٹریڈ یونین میں کام کرتے تھے۔ ایک درزی نے انھیں بتایا کہ پانچ جنوری کی شب تقریبا 10 بجے کے قریب بندر روڈ (موجودہ ایم اے جناح روڈ) پر واقع مولیڈنو مسافرخانے میں شدت پسند جمع ہوئے تھے اس اجتماع میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر میں ہنگامہ آرائی کی جائے تاکہ ہندو یہاں سے نقل مکانی کریں اور ان کے گھر خالی ہو جائیں۔

سوبھو گیا نچندانی لکھتے ہیں کہ اگلے ہی روز یعنی چھ جنوری کو اس پر عملدرآمد کا فیصلہ ہوا اور فسادات شروع ہوئے۔

ہندوؤں کے لیے املاک کی فروخت دشوار ہوگئی

پاکستان کے قیام کے فوری بعد ہندوؤں کے زیوارات اور نقدی لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، یہ سختی اس قدر تھی کہ پہننے کے کپڑوں تک کو روکا گیا۔

حمیدہ کھوڑو اپنے والد ایوب خان کی کتاب میں لکھتی ہیں کہ وزیراعظم لیاقت علی خان کو رپورٹس ملیں کہ جو مسلمان پاکستان آ رہے ہیں ان کو دلی اور دیگر مقامات پر روک کر ان کا سامان چھینا جاتا ہے۔ انھوں نے جوائنٹ سیکریٹری کو کھوڑو کے پاس بھیجا اور پیغام دیا کہ کہ اس حوالے سے قانون پاس کریں اور صوبائی سطح پر ایسے اقدامات لیے جائیں کہ جو ہندو سندھ سے نقل مکانی کر رہے ہیں وہ اپنے ساتھ بڑی رقوم نہ لے کر جائیں، انھوں نے یہ تجویز تسلیم کر لی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اسلحہ بارود کے ساتھ سونے وغیرہ کی سمگلنگ کی روک تھام کا آرڈیننس جاری کردیا۔

21 اکتوبر 1974 کی روزنامہ ڈان نے لکھا کہ وزیر اعلیٰ نے ذاتی طور پر حیدرآباد اسٹیشن پر ہندوں کی سامان کی تلاشی لینے کا جائزہ لیا جو سندھ سے جودھپور، بمبئی اور دیگر شہروں کی طرف جا رہے تھے، انھوں نے حکام کو نرمی برتنے اور اپنا ذاتی سامان لے جانے کی اجازت دینے کی ہدایت کی اور ریشمی اور اونی کپڑے لوٹانے کا حکم جاری کیا۔

کراچی کے فسادات نے ہندوؤں کے لیے اور مشکلات پیدا کر دیں اور ان کی جائیدادیں کی فروخت دشوار ہو گئی۔ سندھی شارٹ سٹوری رائٹر ٹھاکر چاولہ لکھتے ہیں کہ ڈی جے سندھ کالج کے عقب میں واقع ان کی 20 فلیٹس والی عمارت کا سودا لوٹ مار سے پہلے چھ لاکھ رپے میں طے ہوا تھا، لیکن حکومت نے اعلامیہ جاری کیا کہ چھ جنوری کے فسادات کے بعد کوئی بھی املاک ہندوؤں سے نہیں لی جا سکتی، اگر اس تاریخ سے پہلے کوئی سودا کیا گیا ہو تو کراچی کے کلیکٹر سے این او سی لینا لازمی تھا۔

ٹھاکر چاولہ کے مطابق حکومت کے حکم آنے کے بعد خریدار منحرف ہو گیا، سمجھانے اور کلیکٹر آفس میں دس ہزار روپے رشوت دے کر این او سی حاصل کرنے کے باوجود خریدار عمارت لینے کو راضی نہیں تھا بالآخر اس عمارت کا چھ لاکھ کے بجائے 68 ہزار میں طے کیا گیا۔

پاکستان کا پرچم لے کر چلنے والے کی بھی ہجرت

گوبند مالھی جو کمیونسٹ پارٹی کے کراچی میں سرکردہ رہنما تھے، تنظیم کے جریدے ’نئی دنیا‘ کا اجارہ کرنے والی ٹیم میں شامل رہے، قیام پاکستان کے اعلان کے بعد انھوں نے شیروانی اور جناح کیپ پہن کر 14 اگست 1947 کو پاکستان کا قومی پرچم ہاتھ میں لے کر ریلی نکالی تھی۔

گوبند مالھی اپنی آٹو بائیو گرافی میں لکھتے ہیں کہ وہ اپنی پرنٹنگ پریس میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک لمبا تڑنگا بندہ آیا اور کہا کہ پچاس ہزار رپے لو اور یہ پریس میرے حوالے کرو، یہاں سے چلتے بنو یہ اب ہمارا ملک ہے۔

گوبند مالھی لکھتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ یہ ان کا بھی وطن ہے جس پر اس شخص نے پیپر ویٹ اٹھایا اور دھمکاتے ہوئے کہا کہ تین روز بعد اپنے بندوں کے ساتھ آؤں گا، قبضہ لے لوں گا اگر تم نہیں دو گے تو سبق سکھاؤں گا، جس کے بعد وہ چلا گیا۔ انھوں نے اسی روز ٹاٹا کمپنی سے پرواز لی اور احمد آباد چلے گئے۔

گوبند مالھی لکھتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد والدین کے منع کرنے کے باوجود وہ کراچی لوٹ آئے لیکن اب یہ شہر بدل چکا تھا، لڑائی جھگڑے اور فسادات نے اس کا حلیہ تبدیل کر دیا تھا، چند روز میں ہی وہ اپنا دیس چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔

گرفتار بلوائی رہا کردیے گئے

وزیر اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو نے اعلان کیا کہ لٹیروں اور ہندوؤں کے گھروں پر زبردستی قبضہ کرنے والے مسلمانوں کو سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الوحید میں شائع ہونے والے ان کے بیان کے مطابق حکومت ہندوؤں کو ان کے گھر اور دکانیں واپس دلائیں گے۔ جن بدمعاشوں نے فسادات میں نمایاں حصہ لے کر صوبہ سندھ اور پاکستان کو بدنام کیا ہے انھیں سندھ سے نکالا جائے گا اور جیلوں میں بند کیا جائے گا۔

کراچی کے مجسٹریٹ کی جانب سے بتایا گیا تھا ایک ہزار سے زائد مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور ڈیڑھ ہزار کو کرفیو کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

سول اینڈ ملٹری گزٹ کراچی کے مدیر ایم ایس ایم شرما اپنی یادداشتوں ’پیپس ان ٹو پاکستان، میں لکھتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد 12 ربیع الاوال تھا پاکستان کے وزرا نے کھوڑو پر دباؤ ڈالا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین کو رہا کیا جائے جن پر ہنگامہ آرائی، لوٹ مار اور خواتین کے ریپ کے الزامات تھے۔ کھوڑو نے انھیں رہا کر دیا، حالانکہ لوٹا گیا سامان سیکریٹریٹ ملازمین کے گھروں سے بھی برآمد کیا گیا تھا۔

حمیدہ کھوڑو لکھتی ہیں کہ ہنگامہ آرائی ختم ہونے کے بعد نو یا دس جنوری کو ایوب کھوڑو کسی کام سے وزیراعظم لیاقت علی خان کے پاس گئے تو انھوں نے انھیں طعنہ دیا کہ تم کس قسم کے مسلمان ہو جب انڈیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے تو تم یہاں ہندوؤں کو تحفط فراہم کر رہے ہو، کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ کھوڑو نے انھیں جواب دیا کہ شہریوں کو بغیر کسی امتیاز تحفظ فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17409 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp