بکرے کی آہ اور جہاز کا امام ضامن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

میں ذرا توہم پرست پرانے خیالات کا روایتی نیم مذہبی سا شخص ہوں جس کی تشکیک بھی اس کے لئے اتنی ہی اہم ہے جتنا اس کا اندھا اعتقاد۔ مومنین کو ایمان کا دعوی ہو گا، میں تو اسے اعتقاد ہی کہتا ہوں۔ سو اندھے اعتقاد سے مجبور یہی مانتا ہوں کہ میرے لئے مسخر کی گئی سواری کی ڈور نادیدہ ہاتھوں میں ہے۔ کوئی عقلی جواز نہیں بس دل کہتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ اس لئے اگر تو یہ صدقے کا بکرا تھا اور اپنے تئیں نادیدہ ہاتھوں کو ڈور مضبوطی سے پکڑے رکھنے کی علامتی التجا تھی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں کیوں کہ آخر کئی دفعہ میں خود بھی اس بچگانہ اعتقاد کے سہارے گاڑی کا تیل پانی چیک کیے بغیر نکل پڑنے پر آمادہ ہوتا ہوں کہ دو نفل تو پڑھ ہی لئے ہیں ناں۔

ایک سادہ لوح اور سست الوجود شخص کا اعتقاد ایسا ہی ہوتا ہے۔

لیکن پھر دل کہتا ہے کہ یہ بے چارہ منمناتا سیاہ بکرا صدقے کا نہیں بلکہ قربانی کا تھا۔ ہو نہ ہو اسے میرے جیسے سست الوجود لوگوں نے اپنی نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے قربانی کا بکرا بنایا ہے۔ اگر اس کی آہ لگ گئی تو؟

سو کیوں نہ بے گناہ قربانی کے بکروں کی جگہ سالم جہاز کو ہی امام ضامن باندھ دیا جائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 77 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

Leave a Reply