ہم کون ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج دل بہت اداس تھا تو سوچا کیوں نہ کچھ لکھا جائے۔ بس پھر کیا تھا کاغذ قلم اٹھایا اور ہو گئے شروع لیکن کوئی موضوع ہاتھ نہ آیا۔ سوچ کے گھوڑے کو ذرا تیز دوڑایا تو دماغ کی سوئی ایک نکتے پر جا کے رک گی کہ ہم کون ہیں؟

ابھی اس پر سوچنا شروع ہی کیا تھا کہ مسٹر ضمیر آن وارد ہوئے اور پوچھنے لگے کہ کیا بات ہے۔ بس پھر کیا تھا اپنا مدعا بیان کیا تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے : اتنے برسوں میں تم لوگ یہ نہیں جان پائے کہ تم لوگ کون ہو۔ چلو میں بتاتا ہوں۔ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک انجانے شہر میں لے گئے۔ وہاں ہم نے دیکھا کہ لوگوں کا جم غفیر ایک میدان میں جمع تھا اور کسی شخص کی باتوں پر خوب واہ واہ کر رہا تھا۔ ذرا غور کیا تو وہ شخص انداز و اطوار سے سیاستدان معلوم ہوا۔

جو اپنی جھوٹی سچی باتوں سے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہم نے سوچا یہ تماشا تو ہمارے ملک میں شب و روز ہوتا ہے سو یہاں کھڑے رہنا فضول ہے۔ تھوڑا آگے چلے تو دیکھا کہ سڑک کے دونوں اطراف کچھ دکانیں ہیں اور دکاندار اپنی چرب زبانی سے مضر صحت اشیا کو فائدہ مند بتا کر منافع کما رہے تھے یہ سب بھی ہمارے لیے نیا نہ تھا۔ سو ہم دونوں چپ چاپ آگے بڑھ گئے۔ آگے کا منظر اس سے بھی عجیب تھا مختلف مذاہب کے پیشوا اپنی اپنی دکان چمکانے میں مصروف تھے اور لوگ ان کی باتوں پر آنکھ بند کر کے یقین کر ریے تھے۔ ایک اور چیز جو ہمیں اس انجانے شہر میں کثرت سے دکھائی دی وہ تھے تعلیمی ادارے اور ہسپتال جو کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔

مسٹر ضمیر کہنے لگے تم لوگوں کا حال بھی ان شہر والوں سے مختلف تو نہیں اور ہم چاہ کر بھی ان کی باتوں سے اختلاف نہیں کر پائے کہ کڑوا ہی سہی مگر ہے تو سچ۔ ہم دونوں اس شہر کے بیچوں بیچ ایک چوراہے پر پہنچ چکے تھے جس کی ایک طرف کے لوگ ضروریات زندگی سے بھی محروم تھے جبکہ دوسری طرف کے مکینوں کی زندگی عیش و آرام سے بھرپور تھی۔

بہت سوچ بچار کے بعد ہم ایک عالیشان عمارت میں داخل ہوئے تو ایک عجیب وغریب منظر ہمارا منتظر تھا۔ وہی سیاستدان اپنے سوٹڈ بوٹڈ آقاؤں کے سامنے اپنی آج کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے، انھیں یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہر الیکشن کی طرح اس بار بھی جیت اسی کی ہو گی اور یہ بیوقوف لوگ سب کچھ جانتے بوجھتے اسی کو ووٹ دیں گے۔ یہ سب دیکھ کر ہمیں شہر والوں کی حالت زار پر افسوس ہونے لگا اور ہم کر بھی کیا سکتے تھے۔

ابھی ہم نے آگے بڑھنے کا سوچا ہی تھا کہ ایک تیز چنگھاڑ سے ہماری آنکھ کھلی۔ ہڑ بڑا کر اردگرد نظر دوڑائی تو میز پر پڑا خالی کاغذ ہماری بے بسی کا مذاق اڑا رہا تھا۔ تو یہ ایک خواب تھا ہم نے بھی ہار مانتے ہوئے مزید لکھنے کا ارادہ موقوف کیا اور اٹھ کھڑے ہوئے کہ کوئی اہل بصیرت ہو گا تو خود ہی جان لے گا کہ ہم کون ہیں؟ اور آپ بھی پریشان مت ہوئیے گا کیونکہ یہ تو بس خواب تھا کھلی آنکھوں سے دیکھا اک خواب اور ایسے خواب بھی بھلا کبھی سچ ہوئے ہیں۔

Latest posts by زریاب فاطمہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زریاب فاطمہ کی دیگر تحریریں