ہزارہ نسل افغانستان و پاکستان میں داعش کے نشانے پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسطی افغانستان کی تیسری بڑی نسلی آبادی سے تعلق رکھنے والے ہزارہ برداری کی لاکھوں کی تعداد کل آبادی کا قریبا 20 فیصدسے 30 فیصد حصہ بتایاجاتا ہے۔ ہزارہ برداری کی تاریخ کے حوالے سے مختلف روایات ہیں، تاریخ دان ان کا تعلق چنگیز خان کی نسل اور بعض ترک قبیلے سے بھی جوڑتے ہیں۔ ہزارہ برداری افغانستان کے علاوہ، ایران و پاکستان میں بھی لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر افغانستان سے ہجرت کرنے والے ہزارہ برادری کی بڑی تعداد کوئٹہ کے علاقے مری آباد و ہزارہ ٹاؤن میں آباد ہیں۔

پروفیسر ناظر حسین جو ہزارہ قبیلے سے ہیں، ان کے مطابق ہزارہ قبیلے کے افراد زمانہ امن میں بھی سردیوں میں بلوچستان کا رخ کرتے تھے، اس لحاظ سے کوئٹہ ان کے لیے کوئی نئی جگہ نہیں تھی۔ ا نگریزوں نے ہزارہ پائنیر کے نام سے فوج بنائی جس نے کارنامے سرانجام دیے۔ ہزارہ قبیلے کے فوجیوں کو فرانس بھی لڑنے کے لیے بھیجا گیا۔ بعد میں یہ 106 ہزارہ پائنیر کے نام سے یونٹ بن گئی۔ پائنیر کا مطلب وہ فوجی جو جنگ میں آگے آگے رہتے ہیں، رستے نکالتے ہیں اور لڑائی کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ ’

افغانستان میں امیر عبدالرحمن کے دور حکومت سے آج تک ہزارہ برداری کو پہلے ان کی جنگی حکمت عملی (ہزار افراد پر مشتمل گروپ کی حملہ آور ٹولی) کے تحت نشانہ بنایا جاتا تھا، بعد ازاں روسی انخلا کے بعد خانہ جنگی می ہزارہ قبائل کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا، مزار شریف میں ایک حملے میں دو ہزار کے قریب ہزارہ کیمونٹی کے افراد کی ہلاکت فرقہ وارنہ محاذ آرائی کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ افغانستان کی خانہ جنگی میں ہزارہ برادری کی بڑی تعداد بامیا ن، دایکدی جیسے علاقوں سے پاکستان سمیت مختلف ممالک میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہوئے۔

کینیڈا، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، ترکی سمیت امریکا میں بھی ہزاروں کی تعداد میں ہزارہ برداری کے لوگ آباد ہیں۔ ہزارہ برداری کی آبائی اولاد میں ایماق ہزارہ میں سنی مسلمانوں کی لاکھوں کی تعداد بھی رہتی ہے۔ افغانستان کے موجودہ ڈویژن، صوبوں کو بامیان، دایکندی، غزنی، غور، بغلان، اروزگان، پروان، سمنگان، میدان وردک، ہلمند اور مرکزی افغانستان کے دیگر حصوں میں ہزارستان بھی کہلایا جاتا ہے۔ ہزارہ لوگوں کی طرف سے بولی جانے والی فارسی زبان کی ایک شکل ہے۔ یہ سب سے زیادہ وسطی افغانستان کے ہذاراجات نامی علاقے میں بولی جاتی ہے، ہزارہ لوگ اس زبان کو عام طور پر اذرگی (آزرگی) بولتے ہیں۔ ہزارگی بولنے والوں کی تعداد 18 سے 22 لاکھ متوقع کی گئی ہے۔

بلوچستان میں کئی برسوں سے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے ہزارہ کیمونٹی کی نسل کشی کے پیچھے ایک واضح عنصر نمایاں ہے کہ امن دشمن عناصر وطن عزیز میں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے کی سازش کرتے ہیں، معصوم و بے گناہ شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر اشتعال پیدا کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہزارہ کمیونٹی افغانستان میں ایک بہت بڑی تعداد میں آباد ہے، اس لئے ہزارہ برداری کو نشانہ بنانے کے مذموم مقاصد میں ایران، افغانستان سے فرقہ وارنہ بنیادوں پر تعلقات کو کشیدہ کرانا مقصود ہے۔

گزشتہ دنوں مچھ کے علاقے گشتری کی کوئلہ فیلڈ میں 10 محنت کش کان کنوں کو شناخت کے بعد بہیمانہ طریقے سے ہاتھ پیر باندھ کر قتل کیا گیا۔ مزدوروں کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا، جس طرح انہیں بے دردی سے شانہ بنایا گیا، وہ ایک انتہائی قابل افسوس و مذمت سانحہ ہے۔ مبینہ طور پر 10 کان کنوں کی ٹارگٹ کلنگ کی قبول داری داعش (دولت اسلامیہ) نے قبول کی۔ تاہم اس امر سے دنیا آگاہ ہے کہ داعش فرقہ وارنہ بنیادوں پر مسلم اکثر یتی ممالک میں نہتے و مزاحمتی گروپوں کو نشانہ بناتی رہی ہے اور قتل کرنے کے بہیمانہ طریقوں کے نت نئے وحشیانہ انداز سے خوف پھیلانا، ان کا بنیادی مقصد رہا ہے۔

کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعات میں کالعدم تنظیموں نے بھی قبول داریاں کیں، اگست 2020 میں افغانستان کی سرزمین پر کالعدم تنظیموں کے منتشر گروپوں کا اتحاد ہوا تھا، جس کے بعد جہاں افغانستان میں داعش (خراساں شاخ) کی جانب سے حملوں میں بھی تیزی آئی توپرتشدد واقعات میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا، بالخصوص امارات اسلامیہ افغانستان اور امریکا کے درمیان دوحہ معاہدے کے بعد بین الافغان مذاکراتی عمل کے دوران پر تشدد واقعات بڑی تیزی دیکھنے میں آئی۔

افغانستان کی سرزمین میں کالعدم جماعتوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور مبینہ طور پر پاکستان نے کئی بار کابل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے انتہا پسندوں کے ٹھکانے ختم کرانے میں پاکستان کا ساتھ دے، پاکستان نے افغانستان بارڈر پر طویل سرحدی باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہوا، تاہم سیکڑوں کلو میٹر پر مشتمل افغانستان و ایران سے متصل سرحدیں اب بھی دشوار گزار ہیں، جہاں سے دہشت گردوں و اسمگلروں کی نقل و حرکت پر کنٹرول کے لئے پاکستان کو افغانستان و ایران کی تعاون کی ضرورت ہے، جب تک تینوں ممالک بارڈر منجمنٹ پر مربوط منصوبہ بندی نہیں کرتے، انہیں اپنے اپنے ممالک میں دہشت گردوں و انتہا پسندوں کا سامنا رہے گا۔

مسلم اکثریتی ممالک شام، عراق، لبنان، یمن، لیبیا وغیرہ میں فرقہ وارنہ بنیادوں پر خانہ جنگیوں سے مسلم دشمن عناصر نے بھرپور فائدہ اٹھایا، بالخصوص داعش نے اسلام کے پر امن شناخت کو مسخ کرنے کے لئے انتہا پسندی و بربریت کی روایات قائم کی، پاکستان میں مشرف دور حکومت میں فرقہ وارنہ بنیادوں پر ہزارہ کیمونٹی کو زیادہ تر نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جو کچھ عرصے کے لئے ریاست کی جانب سے مختلف آپریشنز کے بعد کم ہوئے، لیکن ختم نہیں ہو سکے۔

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے، تاہم حکومت کے سیاسی حالات کے غیر مستحکم رہنے کے باعث دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد کالعدم تنظیموں و انتہا پسندوں کے خلاف کامیابیاں حاصل ہوئی اور دہشت گردی کے بڑے و ہولناک واقعات میں کم ہونا شروع ہو گئے تھے، تاہم سیکورٹی فورسز کو تسلسل سے دہشت گرد مغربی شمالی سرحدوں و حساس علاقوں میں نشانہ بناتے رہے، جس کی مثال ہزارہ گنجی مارکیٹ دھماکے اور سیکورٹی فورسز پر ایک ہی دن حملے کیے جانا سے لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گردوں کا ٹارگٹ صرف مخصوص لسانی یا مذہبی اکائی ہی نہیں، بلکہ سیکورٹی فورسز بھی ہیں۔

عالمی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے سری واستوا گروپ اور انڈین کرونیکلز کے برسوں سے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے گمراہ کن خبروں کے انڈیا نواز نیٹ ورک کا پردہ چاک ہو چکا کہ کس طرح بھارت، پاکستان کے اندرونی معالات میں مداخلت کرتے ہوئے عالمی سطح پر منفی پروپیگنڈا کر کے نوجوان نسل و عالمی برداری کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، بھارتی وزیراعظم سمیت مودی سرکار کے وزرا ء، آر ایس ایس اور ہندو توا کے انتہا پسند میڈیا و جلسوں میں اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ مذموم سازشوں کے لئے فنڈنگ کرتے ہیں، یہاں تک بعض نام نہاد قوم پرستوں نے بھارت و افغانستان کو بلوچستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی کہ ان کی مسلح مدد کی جائے، انہیں ہتھیار فراہم کیے جائیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج و قائد اعظم ریزیڈنسی حملے کا ماسٹر مائنڈ کا بھارت میں علاج اور قندھار میں موجود ہاؤسنگ سوسائٹی عینو مینہ جہاں اسلم اچھو ایک حملے میں مارا جانا، کئی ثبوتوں میں ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے اور نہتے بے گناہ شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے پیچھے ملک دشمن عناصر کا تعلق ہے۔

کوئی دو رائے نہیں کہ بلوچستا ن سمیت مملکت میں ریاست کو اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا فرض ہے، سیکورٹی اداروں کے فرائض میں ہے کہ وہ انتہا پسندوں و دہشت گردوں کے منظم ہوتے نیٹ ورک کو روکیں، کئی برسوں سے بلو چستان میں پائی جانے والی بے چینی و بے امنی کے خاتمے کے لئے سیکورٹی فورسز و حکومت کا اہم کردار ہے۔ بلوچستان میں نوگو ایریاز کے خاتموں کے علاوہ ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمے داری ہے۔ بلا شبہ سیکورٹی اداروں کے افسران و اہلکاروں نے قیام امن کے لئے ناقابل فراموش قربانیاں دیں ہیں، لیکن سیاسی طور پر مسلسل عدم استحکام و بے امنی کے واقعات کے اضافے کے ساتھ ملک دشمن عناصر کے منفی پروپیگنڈوں سے بلوچستان سمیت ملک بھر کے نوجوانوں میں نفرت پیدا کرنے والوں کا سدباب بھی ضروری ہے، پڑوسی ملک میں داعش کی موجودگی اور بھارت کی جانب سے کالعدم تنظیموں اور داعش کی سر پرستی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ہے۔

دنیا بھر میں دہشت گردی، خصوصاً دہشت گردی تنظیم داعش کی کارروائیوں، کے سلسلے میں اہم انکشاف ہوا اور بھارت کے داعش سے ایشیا سمیت دنیا بھر کے ممالک میں روابط اور حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ امریکی ادارے فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اب داعش کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے شدت پسندوں میں سے اکثریت کا تعلق بھارت اور وسطی ایشیا سے ہے۔ اپریل 2019 کو سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر 8 دھماکوں میں سینکڑوں افراد کو ہلاک و زخمی کرانے میں بھارت کا ملوث ہونا ڈھکا چھپا نہیں۔

پاکستان میں داعش کے حملوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر خانہ جنگی کرانے کے مقاصد بھی عیاں ہیں کہ وطن عزیز میں گمراہ کن پروپیگنڈے کر کے اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش ناکام بنائی جاتی ہے۔ ضروری ہے کہ ریاست ایسے عناصر کے مذموم مقاصد و سازشوں کو سامنے لائے جو بلوچستان کو اس کے حق سے محروم کرنے کے علاوہ سیاسی و داخلی انتشار کا شکار کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بالخصوص ہزارہ برداری سمیت تمام مذہبی و لسانی اکائیوں کے تحفظ کو یقینی بنا کر ان سازشوں کو ناکام بنائے جس سے اس وقت عوام دوچار ہے اور یہ عوام کا اعتماد حاصل کیے بغیر ناممکن ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •