قبرستان کا بادشاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بارہ سالہ نحیف عمر جب رات کے گیارہ بجے قبرستان سے گھر پہنچا تو اس کا باپ دروازے پر ایک ڈنڈا ہاتھ میں لیے بیٹھا ہوا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی عمر کی دھنائی شروع ہو گئی اور وہ بھی گالیوں کے ساتھ۔ ماں نے فوراً بیچ میں آ کر عمر کو بچایا پھر بھی عمر کے جسم پر کیٔی جگہ مار کے نشانات پڑ گئے تھے لیکن عمر کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ماں باپ دونوں حیران تھے کہ اسے مار کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ مگر عمر کے لیے یہ سب کچھ غیر اہم تھا۔ ابھی کچھ دیر قبل ہی اس نے تہیہ کیا تھا کہ وہ بڑا ہو کر قبرستان کا بادشاہ بنے گا۔

کیٔی دنوں سے عمر اسکول نہ جانے کے لیے تنگ کر رہا تھا۔ اگر جاتا بھی تو دو تین گھنٹوں کے بعد واپس آ جاتا اور یہ بتاتا کہ اسکول میں کوئی استاد یا استانی نہیں ہے اس کو پڑھانے کے لیے۔ عمر کی ماں شگی جس کی جوانی کو وقت کہیں جلدی جلدی لے اڑا تھا کو بہت غصہ آتا اور اسے شک ہوتا کہ عمر جھوٹ بول رہا تھا۔ آخر ایک دن اس نے تہیہ کیا کہ وہ خود ہی اسکول جائے گی۔ شگی اسکول کے بیرونی دروازے پر پہنچی تو اڑتی ہوئی دھول اور سناٹے  نے اس کا استقبال کیا۔

پہلے تو چوکیدار  نے شگی کا حال حلیہ دیکھ کر اندر جانے سے منع کر دیا۔ پھر جب شگی نے منت سماجت کی اور بتایا کہ وہ ہیڈ ماسٹر سے ملے گی اور کہیں ادھر ادھر نہیں جائے گی تو چوکیدار  نے اسے اندر جانے دے دیا۔ ہیڈ ماسٹر کے دفتر کے باہر بیٹھے ہوئے کلرک نے شگی کی مفلسی دیکھ کر اس سے تضحیک کے ساتھ آنے کا مقصد پوچھا۔ جب شگی نے بتایا کہ اس کا بیٹا پانچویں جماعت میں ہے لیکن اس کی کلاس میں کوئی ٹیچر نہیں ہے تو کلرک نے فوراً پلٹ کر جواب دیا کہ ٹیچر نہیں آتا تو یہ لوگ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ اس کو وزیر صاحب نے رکھوایا ہے۔ کلرک نے شگی کو ہیڈ ماسٹر سے ملنے نہیں دیا اور کچھ تلخ کلامی کے بعد وہ گھر واپس آ گئی۔

عمر کی تعلیم کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ پرائیویٹ اسکول میں تو وہ داخلے کا اس آمدنی میں وہ سوچ ہی نہیں سکتی تھی۔ کچھ دن اور اسی طرح پریشانی میں گزر گئے، پھر اسے خیال آیا کہ عمر سارا دن گلیوں میں آوارہ پھرنے کی بجائے کہیں کام پر لگ جائے۔ گلی کے کونے والی جھگی میں وہ جو آمنہ رہتی تھی اس کا بیٹا روز قبرستان جاتا تھا اور تھوڑے بہت پیسے کما کر لاتا تھا۔ اگلے دن عمر آمنہ کے بیٹے فیض کے ساتھ قبرستان چلا گیا۔

فیض کے ایک ہاتھ میں پانی سے بھری ہوئی بالٹی تھی۔ فیض کے علاوہ اور بچے بھی وہاں تھے جو پھٹے ہوئے کپڑوں میں ننگے پاؤں چل رہے تھے۔ جیسے ہی کوئی مرد یا عورت قبرستان میں پھول چڑھانے کے لیے یا فاتحہ پڑھنے کے لیے آتا یا آتی تو یہ بچے پیچھے پڑ جاتے کہ وہ قبر کی صفائی کریں گے اور پانی ڈالیں گے۔ دو تین بار عمر کو بھی دوسرے بچوں کے ساتھ کچھ روپے مل گئے۔ عمر کو یہ کام اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن زندگی میں پہلی بار اس نے کچھ روپے کمائے تھے۔ ان روپوں کو چھو کر اسے ایک عجیب سی تسکین مل رہی تھی جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر بار بار ان روپوں کو چھو رہا تھا۔ ایک عورت نے آ کر بچوں میں چنے بھی بانٹے اور ایک دوسری عورت نے دو دو بسکٹ سب کو دیے۔ آج نہ جانے کتنے عرصہ بعد عمر نے بسکٹ کھائے تھے۔

دوپہر کو جب سورج کی تپش میں اضافہ ہوا تو دونوں بچے گھر وں کو واپس آ گئے۔ چار بجے پھر دونوں اپنے گھروں سے نکل کر قبرستان پہنچ گئے اور قبرستان میں آنے والے لوگوں کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ ایک بڑی عمر کا مرد بڑی غور سے عمر کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے فیض سے عمر کے بارے میں کچھ سوالات کیے اور دو تھپڑ رسید کرنے کے بعد اسے بتایا کہ وہ کسی چھوکرے یا چھوکری کو اس کی مرضی کے بغیر دھندے پر نہیں لگا سکتا۔ پھر اس نے عمر کو تحکمانہ اشارے سے بلایا اور اسے بتایا کہ اس قبرستان میں اس کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا۔ یہاں تو مردہ بھی اس کی مرضی کے بغیر دفن نہیں ہو سکتا۔ یہ دھندا کرنا ہے تو روز کا بیس روپے کمیشن دینا پڑے گا۔

اس آدمی کے جانے کے بعد عمر کو پتا چلا کہ اس کو سب بچے گلو بھائی کہتے ہیں۔ یہاں کیٔی بچوں کی ٹیمیں کام کرتی ہیں اور سب بچے گلو بھائی کو کمیشن دیتے ہیں۔ ہر ٹیم قبرستان کے ایک مخصوص علاقے میں کام کرتی ہے اور اپنے علاقے سے باہر دوسری قبروں پر نہیں جاتی۔ فیض  نے یہ بھی بتایا کہ گلو بھائی کی مرضی کے بغیر یہاں کوئی دفن بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ کیٔی پرانی قبروں سے ہڈیاں ہٹا کر نئی قبریں بنواتا ہے۔ ہر وقت فون پر مصروف رہتا ہے اور اس کے بہت تعلقات ہیں۔ رات میں بھی قبرستان میں بڑا دھندا ہوتا ہے۔ چرس اور دوسری چیزیں خوب بکتی ہیں اور کچھ لوگ سونے کے لیے بھی یہاں آتے ہیں۔ گلو بھائی یہ سارے کاروبار چلاتا ہے۔

شام کے ختم ہونے تک عمر چالیس روپے کما چکا تھا۔ سب بچوں نے بیس بیس روپے گلو بھائی کو دیے۔ عمر گھر پہنچا تو باقی بیس روپے ماں کو دے دیے تو ماں نے دیر تک اسے سینے سے لگا کر پیار کیا اور آنسو بھری آنکھوں سے کہا کہ وہ جلد ہی اس کی پڑھائی کا بندوبست کرے گی۔

عمر قبرستان کے ان سب بچوں سے الگ تھلگ لگتا تھا۔ ایک تو شگی اس کا حلیہ ٹھیک رکھتی اور پھر اس کو ہر تیسرے دن صاف ستھرے کپڑے پہننے کے لیے دیتی اور پھر عمر کو ننگے پاؤں چلنے کی بالکل عادت نہیں تھی۔ وہ پانچ جماعتیں بھی پڑھا ہوا تھا اور ان سب بچوں کے مقابلے میں خود کو قابل سمجھتا تھا۔ اس کے چہرے پر خود اعتمادی اور معصومیت ہر ایک کا دل موہ لیتی اور وہ تھوڑے ہی دنوں میں دوسرے بچوں سے زیادہ کمانے لگ گیا تھا۔

عمر گلو بھائی سے کافی مرعوب تھا۔ گلو بھائی بھی عمر سے جب کمیشن وصول کرتا تو ایک دو باتیں اس سے کرتا۔ ایک دن گلو بھائی نے عمر کو بتایا کہ اس کا بھی ایک باس ہے جو کیٔی قبرستانوں پر حکومت کرتا ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر مردوں سے حساب کتاب لینے والا فرشتہ بھی قبرستان میں نہیں آتا۔ بڑے بڑے سرکاری افسروں اور سیاست دانوں کا اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے۔ میں تو صرف ایک قبرستان کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔ عمر جب شام میں گلو بھائی کو کمیشن دیتا تو پوچھتا کہ اس کا باس کب قبرستان آئے گا۔

وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا مگر گلو بھائی ہنس کر اسے ٹال دیتا۔ جب عمر کا اصرار بڑھا تو گلو بھائی نے اسے بتایا کہ آج رات دس بجے باس اس قبرستان میں آئے گا اور وہ کرامت والے بزرگ کے مزار کے باہر ہو گا۔ اگر دیکھنا ہے تو آجانا لیکن دور ہی دور سے دیکھنا۔ باس اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بچے رات میں قبرستان میں پھریں۔ یہ سن کر عمر کا گرد آلود چہرہ کھل گیا لیکن اس کو رات دس بجے قبرستان میں آتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا۔

عمر نے کافی مشکل سے فیض کو منایا اور دونوں ساڑھے نو بجے کرامت والے مزار کے پاس پہنچ کر اندھیرے میں کھڑے ہو گئے۔ مزار کے آس پاس بہت رونق تھی۔ کچھ لوگ مزار کے باہر والی کچی سڑک پر ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ اور دو تین لوگ موبائل پر بات کرتے ہوئے سڑک کے بیچ میں ٹہل رہے تھے۔ تقریباً سوا دس بجے دور سے کاروں کی روشنی نظر آئی۔ کوئی دس لوگ کاروں میں سے اترے اور سیدھے مزار کے اندر چلے گئے۔ کچھ دیر بعد ایک شخص مزار سے باہر آیا اور اس کے پیچھے باقی لوگ تھے۔ یہ سب سڑک پر ترتیب سے لگائی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ دونوں طرف قطاروں میں کھڑے ہوئے لوگ باری باری بیچ میں بیٹھے ہوئے شخص کے پاس آتے اور جھک کر سلام کرتے۔ ایک آدمی دوڑ کر ایک گلاس  لے کر آیا اور بیچ والے آدمی کو پیش کیا۔

عمر کو شکلیں صاف نظر نہیں آ رہی تھیں لیکن اس پر یہ ظاہر تھا کہ کیا ہو رہا تھا۔ کچھ لوگ اس اہم شخص کے گرد جمع ہو گئے اور اس سے مودبانہ انداز سے بات چیت کر رہے تھے۔ کوئی آدھ گھنٹے بعد فیض اور عمر دونوں واپس چل پڑے۔ فیض کچھ تبصرے کر رہا تھا لیکن عمر بالکل خاموش تھا جیسے کسی اور دنیا میں پہنچ چکا ہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔ ایک دفعہ اس نے دیکھا تھا کہ فیکٹری میں مشینیں کیسے چلتی ہیں۔ اس کے ساتھ کے لڑکے مشینیں چلانے والوں سے متاثر تھے لیکن عمر کا ذہن کہیں اور تھا۔ اس کا خواب تھا کہ وہ اس طرح کی مشینیں ایجاد کرے۔ وہ آج اس خواب کو لپیٹ کر ذہن کے دریچے سے باہر پھینک دے گا۔ اب وہ بڑا ہو کر قبرستان کا بادشاہ بنے گا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •