بھارت: لاوارث شخص کی آخری رسومات، پڑوسی رقم لینے لاش سمیت بینک پہنچ گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کی ریاست بہار میں ایک شخص کے پڑوسی اس کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے رقم لینے لاش سمیت بینک پہنچ گئے۔

یہ واقعہ پٹنہ شہر سے متصل گاؤں سنگریاوان میں پیش آیا۔ جہاں ایک 55 سالہ رہائشی مہیش یادو کی طویل بیماری کے بعد منگل کو موت واقع ہو گئی تھی۔

مہیش یادو نے شادی نہیں کی تھی اور ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے کوئی رشتہ دار بھی سامنے نہیں آیا جس کے بعد ان کے پڑوسیوں نے یہ ذمہ داری ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن کسی کے پاس بھی رسومات کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں تھی۔

مجبوراََ پڑوسیوں نے مہیش یادو کے گھر کی تلاشی لی۔ گھر سے کوئی رقم تو برآمد نہیں ہوئی۔ البتہ ایک چیک بک ملی جس سے پتا چلا کہ مہیش کا بینک میں اکاؤنٹ ہے اور اس اکاؤنٹ میں ایک لاکھ 17 ہزار 298 روپے موجود ہیں۔

رقم کی موجودگی کا علم ہوتے ہی پڑوسیوں نے مہیش یادو کی لاش کو کندھوں پر اٹھایا اور بینک پہنچ گئے۔

انہوں نے بینک منیجر سنجیو کمار سے مہیش یادو کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے 20 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ لیکن بینک منیجر نے یہ کہتے ہوئے رقم دینے سے انکار کر دیا کہ بینک مہیش یادو کو پچھلے 2 سال سے اس بات کی یاد دہانی کرا رہا تھا کہ وہ ایک فارم بھر کر بینک سے رقم نکالنے کے لیے کسی بھی شخص کو نامزد کرسکتا ہے لیکن مہیش نے ایسا نہیں کیا۔

پشاور میں شمشان گھاٹ کیوں نہیں؟

بینک قوانین کے مطابق مہیش کے اکاؤنٹ سے رقم نکالنے پر پابندی لگا دی گئی تھی جس کے سبب 8 ماہ تک ان کا اکاؤنٹ غیر فعال رہا۔

جمعرات کو سہارنپور، بہار کے پولیس افسر امریندر کمار نے میڈیا کو بتایا کہ بینک مینیجر اور مہیش یادو کے پڑوسیوں کے درمیان کئی گھنٹے تک بحث ہوتی رہی۔ بلآخر سنجیو کمار نے مخصوص فنڈ سے 15 ہزار روپے نکال کر پڑوسیوں کے حوالے کیے جس کے بعد یہ معاملہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

خبر رسان ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق امریندر سنگھ نے بتایا کہ مہیش کی عمر 55 سال تھی۔ وہ دیہاڑی مزدور تھا اور جھونپڑی میں رہتا تھا۔

پولیس کے مطابق اس کا ایک ہی بھائی تھا جس کا کئی سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ مہیش یادو کا کوئی اور رشتے دار نہیں تھا۔

لاہور کا شمشان گھاٹ بنیادی سہولتوں سے محروم

طویل علالت کے بعد اس کی موت منگل کو ہوئی جب کہ پڑوسیوں کو اس کی موت کا علم کئی گھنٹے بعد ہوا۔

مہیش یادو کی پڑوسن شکنتلا دیوی نے بتایا کہ مہیش یادو کے نام کوئی زمین جائیداد نہیں تھی۔ نہ ہی اسے حکومت کی جانب سے کوئی امداد ملتی تھی۔ ان کے بقول مہیش یادو کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ حالاں کہ وہ کئی ماہ سے علیل تھا۔ اس کے کھانے پینے کا انتظام بھی پڑوسی ہی کیا کرتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 980 posts and counting.See all posts by voa