کیا عوام اقتدار کی سیاست سے مایوس ہو چکے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوری دنیا پھیل جانے والی بیماری سے سخت پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ زندگی کے معمولات وہ نہیں رہے جو پہلے تھے، ان میں کافی تبدیلی واقعی ہوئی ہے۔ وہ محفلیں، وہ میل جول کے مناظر اور وہ آزادانہ نقل و حمل سب کچھ سکڑ سمٹ کر رہ گیا ہے مگر جلد ہی ایک نئی زندگی کا آغاز ہو گا کیونکہ اب یہ بیماری انسانی آبادیوں سے دور کہیں چلی جائے گی۔

خیر وقت کبھی نہیں تھمتا آگے بڑھتا ہے۔ اس دوران کئی نشیب و فراز آتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں۔ پچھلے برس کے شروع میں جو خوف تھا اب وہ نہیں ہے کیونکہ حالات کے مطابق جینا ہے لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا چند ماہ کے بعد پہلے والی مصروفیات ایک بار پھر نظر آئیں گی مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ بعض لوگوں نے پریشان اور خوف زدہ فضا میں بھی ناجائز منافع خوری کے دھندے کو خیر باد نہیں کہا، وہ مسلسل عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے رہے۔ انہیں یہ احساس نہیں رہا کہ جن کے روزگار نہیں رہے وہ کیسے جئیں گے۔ بہرحال اب ذرا دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز میں جو سیاسی منظر ابھر چکا ہے وہ کب تک ایسے ہی رہتا ہے اور کب کوئی تبدیلی آتی ہے؟

اس وقت فریقین حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایک اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے تو دوسرا اسے محفوظ کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ بظاہر دونوں کا موقف عوامی ہے یعنی عوام کے مفاد سے متعلق ہے مگر سچ یہی ہے کہ کوئی بھی عوام کے لیے متحرک نہیں، انہیں صرف اور صرف اپنے مفادات سے غرض ہے جس کے لیے وہ حکمت عملیاں اختیار کر رہے ہیں۔

ہم نے جب سے سوچنا اور لکھنا شروع کیا تو خیال تھا کہ پندرہ بیس برسوں میں لوگ اتنے باشعور ہو جائیں گے کہ حکمرانوں کو ان کی جائز و مناسب خواہشات کا احترام کرنا پڑے گا۔ عالمی مالیاتی اداروں کو بھی ان کے مستقبل کے بارے اپنی سخت و ناگوار شرائط ختم کرنا ہوں گی مگر جب وہ عرصہ گزر گیا تو نظر آیا کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور وہ اپنی من مرضی کرتے ہوئے اقتدار کے حصول اور اس کے بچاؤ کے لیے کوشاں ہیں اور عوام کی حالت نہیں بدل رہی بلکہ خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے، اس کے مقابل حکمران طبقہ اپنی تجوریاں بھرتا جا رہا ہے، خود کو طاقت ور بنانے کے لیے مختلف حربے اپنا رہا ہے، لوگوں کو معاش کے خوف میں مبتلا کر کے ان پر ایک جانا انجانا خوف مسلط کر رہا ہے، جس سے ان میں یہ سوچ جنم لے رہی ہے کہ انہوں نے ایسے ہی جینا ہے، ایسے ہی ان کے بچے پلیں بڑھیں گے، تمام کے تمام اعلیٰ عہدے ان کے لیے نہیں اشرافیہ کے لیے ہیں، حکمرانی کا حق بھی انہیں ہی ہے؟

اب یہ سوچ پختہ ہو چکی ہے، لوگ موجودہ صورت حال سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اہل اقتدار و اختیار پر ہی انحصار کرنے لگے ہیں۔ اب جب کہ حزب اختلاف حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کرنا چاہ رہی ہے تو دکھائی یہی دیا ہے کہ منظر دھندلا ہے، وہ جذبہ وہ جوش اور وہ ترنگ نہیں ہے جو کبھی جلسوں جلوسوں میں واضح طور سے محسوس کی جا رہی ہوتی تھی۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اب عوام ادھر ہیں نہ ادھر اور جو ہیں وہ طوعاً و کرہاً ہیں، کسی کے کسی کے ساتھ معمولی مفادات جڑے ہوتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ نہیں یعنی عوامی ردعمل ہمارے سامنے ہے اور عام آدمی سب سے مایوس ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگلے پچھلے سبھی اپنا پیٹ بھرنے کے لیے بے چین ہیں، انہیں کسی سے کوئی ہمدردی نہیں اور اگر ہوتی تو آج سب مل کر سوچتے مسائل کا حل ڈھونڈتے، ترقی کے مراکز کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دیتے مگر افسوس یہ تو ایک دوسرے کو ناکام دیکھنے کے متمنی ہیں اور بتا رہے ہیں۔

ہاں اگر یہ واقعی عوامی ہیں تو نصف سے زائد غریب عوام کو ایوانوں میں پہنچائیں، اس انتخابی نظام کو بدل دیں اور جو پیسا جس جس نے بھی قومی خزانے سے لے کر بیرون پہنچایا، اسے واپس لائیں اور ملک کے عوام پر نچھاور کردیں مگر یہ ایسا نہیں کریں گے لہٰذا عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ ان کے لیے کیوں سختیاں جھیلیں، کیوں اپنے بچوں کو رلائیں مگر یہ بھی تو سوچنا ہو گا کہ اگر عوام کی عدم دلچسپی اور لاتعلقی مزید بڑھتی ہے تو پھر کیا ہو گا۔

لہٰذا جو اہل دماغ جوڑ توڑ کی سیاست کو دوبارہ واپس لا کر اقتدار کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس پہلو کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ معاشی، سماجی اور سیاسی حالات اس طرح ٹھیک نہیں ہوں گے کیونکہ ایک راضی ہو گا تو دوسرا ناراض، اس صورت میں معاملات بگڑ سکتے ہیں اور زور بازو سے موجودہ صدی میں شاید ممکن نہیں رہا کہ کسی کو ذہنی طور سے ہمنوا بنایا جا سکے؟

امید کی کرن جب بھی دکھائی دیتی ہے کہ کوئی نہ کوئی مشکل سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارا نظام پرانا ہے، یہ فرسودہ ہو چکا ہے، اسے بدلنے کی اشد ضرورت ہے مگر اس کی طرف کوئی بھی نہیں جانا چاہتا، بس اسے توڑ کر اور اسے ساتھ ملا کر اقتدار کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں۔ اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ حزب اختلاف اپنے گھوڑے دوڑا رہی ہے اور حزب اقتدار اپنے، مگر سوال یہ ہے کہ عوام کو کوئی پوچھ رہا ہے؟ جواب ہے نہیں، تو پھر ان کے ووٹ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

ایک کھلا دھوکا دیا جا رہا ہے، سب فیصلے ڈرائنگ رومز میں ہو رہے ہیں جہاں اربوں کھربوں کے مالک لوگ بیٹھتے ہیں، انہیں اقتدار سے باہر اور اس کے اندر کتنا نقصان یا فائدہ ہو گا، اسی سے متعلق گفتگو ہوتی ہے۔ اب تہتر برس بیت چکے ہیں تو ہر آنے والا دن تکلیف دہ ہوتا جا ہے، خواب سارے چکنا چور ہو گئے ہیں۔ غریبوں، کمزوروں اور بے بسوں کی زندگیاں برباد ہو چکی ہیں۔ آنے والی نسلیں اداس ہی نہیں مایوس بھی ہیں۔ انہیں وہ راستہ وہ پگڈنڈی اور وہ شاہراہ نظر نہیں آ رہے جن پر چل کر وہ اپنے خوابوں کو پورا کر سکیں۔ بس اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ جس کسی کے پاس جو بچا تھا اسے بھی مختلف طریقوں سے ہتھیایا جا رہا ہے، اس کے باوجود وہ یہ آس بھی لگائے ہوئے ہے کہ وہ ایک نہ ایک روز ضرور نکھری صبحوں اور مہکتی شاموں کو دیکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •