مظلوموں کا درد اور مسلکی بحثیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں سانحات پیش آنا اب معمول بن چکا ہے۔ سانحات بھی اجتماعی صورت میں پیش آتے ہیں۔ کبھی ایک ساتھ کئی کئی حادثے رونما ہوتے ہیں اور کبھی ایک ہی حادثہ درجنوں اور سینکڑوں انسانوں کی زندگیوں کو نگل لیتا ہے۔ کئی برس گزرنے کے باوجود کسی قصور وار کو سامنے نہیں لایا جاتا۔ مجرم ہمیشہ نامعلوم رہتا ہے۔ یہی ہماری ریت روایت ہے اور یہی ہمارا قبول کیا گیا رویہ بن گیا۔

بے حسی اور غفلت کی انتہا یہ ہے کہ کسی سانحہ کی حقیقی وجوہات تک سامنے نہیں لائی جاتیں۔ آپ اس بات سے غیر سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بد ترین اور انسانیت سوز واقعات کو بھی سرسری طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ نہایت شرمناک بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر حادثے کو تعصب کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر افسوس کیا جاتا ہے اور اکثر جگہوں پر ملی جلی متعصب رائے دی جاتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک کام فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کا ہوتا ہے۔ اسے دو تین مختلف طرح کے لوگ انجام دیتے ہیں۔ ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو کسی شدت پسند تحریک یا تنظیم سے وابستہ ہوتے ہیں۔ وہ براہ راست قتل و غارت گری کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ مثلاً مرنے والوں یا متاثرہ افراد کی ذات، مسلک/فرقہ اور ان کے اعتقاد کی بحث چھیڑ کر قتل اور بربریت کے لیے نرم گوشے تراشتے ہیں۔ اس ضمن میں سچ اور جھوٹ کی آمیزش سے ایسی تحریریں اور مضامین گھڑے جاتے ہیں جو عام لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

دوسری قسم نیم خواندہ افراد کی ہے جو براہ راست تو کسی تنظیم یا تحریک کا حصہ نہیں ہوتے لیکن اپنی جذباتی اور مسلکی وابستگی کے باعث ایسی آرا کے پھیلنے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ تیسری قسم ان متعصب دانشوروں کی ہوتی ہے جو ملک میں بڑے بڑے قتل و غارت گری کے واقعات پر سعودی اور ایرانی تصادم کی بحث چھیڑ کر جمہور کی توجہ بھٹکاتے ہیں یا کم از کم ان کی سنجیدگی کو مجروح کرتے ہیں۔

مچھ میں حالیہ دنوں میں پھر ایک افسوس ناک سانحہ ہوا۔ اس بار لاشوں کی تعداد اگرچہ پہلے سے کم رہی لیکن قتل کا طریقہ کار ناقابل بیان حد تک شقاوت اور بربریت سے بھرا ہوا تھا۔ مزدوروں کو ہاتھ باندھ کر بکروں کی طرح ذبح کیا گیا تھا۔ مزدور وہی تھے جن کے ساتھ عقیدے یا فرقے کے اختلاف کا لیبل لگا تھا۔ ورثا نے حسب روایت لاشیں سڑک پر رکھیں اور احتجاج کیا۔ سر پر قرآن رکھا اور ملک کے ناخداؤں کو پکارا۔ ادھر ہمارے متعصب طبقات سر گرم ہو گئے۔

رنگ برنگے زہر آلود مضمون گھڑے جانے لگے۔ سعودی اور ایرانی تصادم کی بحث چھیڑ کر معاملے پر مٹی ڈالی جانے لگی۔ کچھ نے مقتولین کو فرقہ وارانہ تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ کچھ صاحبان کمال نے کان میں مزدوری کرنے والوں کو فنڈڈ لوگ قرار دے دیا تاہم اس ساری صورتحال میں سنجیدہ فکر لوگوں کے لیے چند سوالات سر اٹھاتے ہیں۔

ہمارے ہاں کتنے خود کش حملہ آور ایسے پائے گئے ہیں جن سے سعودی ایران و توران کا تقابل کیا جا سکے؟
بڑے بڑے حملوں اور دھماکے جن میں سینکڑوں اموات ہوئی ہیں، ان میں کس کس ملک یا برادری کا تقابل کیا جا سکتا ہے؟

اگر سعودی ایرانی لڑائی کے سبب سے ایسا ہوتا ہے تو اس جنگ میں دیگر ممالک مثلاً لبنان اور انڈیا وغیرہ کے لوگ زیادہ ملوث رہے ہیں۔ ان ممالک میں کتنے خود کش حملے یا اس نوعیت کے مسلسل واقعات پیش آتے ہیں؟

اگر ہزارہ برادری کا نظریاتی یا مذہبی تعلق کسی دوسرے ملک سے جوڑ دیا جائے تو ان سانحات کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو ملک کے دیگر علاقوں میں پیش آئے اور ان میں درجنوں اور سینکڑوں افراد قتل کیے گئے۔ مثلاً کراچی عباس ٹاؤن، نشتر پارک، سانحہ چکوال، لاہور، اقبال پارک، انار کلی بازار، پارہ چنار، گلگت، اے پی ایس، باچا خان یونیورسٹی حتیٰ کہ خود ہزارہ ٹاؤن اور علمدار روڈ جیسے سانحات کی بابت کیا کہا جائے گا؟

کیا پاکستانی سٹیج ڈرامہ کے فنکاروں اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کا تعلق بھی ایران و توران سے تھا کیوں کہ قاتلانہ حملوں اور بم دھماکوں سے تو یہ بھی محفوظ نہیں رہے؟
کیا ہمارے متعصب طبقات جامعہ نعیمیہ جیسے اداروں اور مساجد میں بھی خود کش حملوں پر بھی ایسا ہی جواز پیش کریں گے اور قاتلوں کے لیے نرم گوشے تراشتے رہیں گے؟

کیا مذہبی اور مسلکی اختلاف کی بنا پر لوگوں کے قتل کو جواز فراہم کیا جا سکتا ہے حالانکہ پوری دنیا میں پھیلے انسانوں میں شدید ترین نوعیت کے اعتقادی اختلافات پائے جاتے ہیں؟
آخری سوال یہ کہ ہم کب یہ سمجھنے اور سمجھانے میں کامیاب ہوں گے کہ انسانوں اور انسانیت کا قتل کسی سماج کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے؟

ہمیں کم از کم دوسرے ممالک سے ہی سبق سیکھنا چاہیے جہاں ایسے واقعات ہر تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی حمایت کی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •