امریکہ بیروزگاری الاونس کے لیے مزید سات لاکھ 87 ہزار درخواستیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے امریکہ میں ہزاروں کاروباربند اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔

امریکہ میں گزشتہ ہفتے مزید سات لاکھ 87 ہزار لوگوں نے بے روزگاری الاونس کے لئے درخواستیں جمع کرائیں۔

امریکی محکمہ محنت نے یہ اعداد و شمار جمعرات کو جاری کیے جب کہ اس ہفتے کے دوران حکومت نے ہفتہ وار تین سو ڈالر اضافی امداد کی فراہمی بھی شروع کر دی ہے۔

محکمہ محنت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بیروزگاری کے لئے دائر درخواستوں کے تناسب میں کوئی کمی بیشی دیکھنے میں نہیں ائی، تاہم کرسمس کے موقع پر دسمبر کے آخری ہفتے میں اس تعداد میں تین ہزار کی کمی ہوئی تھی، جب کہ کرونا کا بحران جس نے دس ماہ قبل امریکی لیبر مارکیٹ پر ضرب لگائی تھی، بدستور جاری ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ ہفتہ وار دائر درخوستوں میں کمی نہیں ہوئی، لیکن یہ تعداد 1960 کی دہائی میں آنے والی وبا کے دوران دائر درخواستوں سے کہیں کم ہے۔

ماہ نومبر میں نئی ملازمتوں کے حصول میں مسلسل پانچویں مہینے سست روی رہی۔ اگرچہ آجروں نے اپریل کے بعد سے بہت کم ملازمتیں بحال کیں ہیں، لیکن انہوں نے ان لاکھوں کارکنوں میں سے کچھ کو واپس بلانا شروع کیا، جنھیں کاروباری بندش کے دوران گھر بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن کچھ بری طرح متاثرہ کاروباری اداروں میں یہ عمل سست رہا اور کچھ کو مستقل بند کر دیا گیا۔

ان دنوں بعض ریاستوں اور شہری حکومتوں نے ایک بار پھر کاروبار پر بعض نئی پابندیاں عائد کرنا شروع کردی ہیں جس کی وجہ سے مالکان کو ایک بار پھر کارکنوں کو واپس گھروں کو بھیجنا پڑ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دسمنبر کے آخر میں نو سو ملین ڈالر کے امدادی معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت آئندہ گیارہ ہفتوں تک ہفتہ وار تین سو ڈالر بیروزگاری امداد فراہم کی جارہی ہے۔

کرونا وائرس کی پابندیوں کے باعث ہزاروں کاروبار بند ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس کی پابندیوں کے باعث ہزاروں کاروبار بند ہو چکے ہیں۔

20 جنوری کو نئے صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، جنھوں نے امدادی پیکیج کو ناکافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد کرونا متاثرین کے لئے کہیں بڑا امدای پیکیج دیں گے۔

دنیا کی سب سے بڑی امریکی معیشت کو 2020 میں معاشی شرح نمو میں کمی کا سامنا رہا۔، امریکہ میں اس وقت تین لاکھ 65 ہزار افراد کرونا کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں اور دو کروڑ 20 لاکھ انفیکشن کے کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔

تاہم ماہرین معاشیات توقع کر رہے ہیں کہ نئے امدادی پیکیج کی منظوری کے بعد 2021 کے دوسرے نصف حصے میں امریکی معیشت کی بحالی کی رفتار میں تیزی آئے گی۔

واضح رہے کہ اب تک 53 لاکھ امریکیوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ لیکن یہ تعداد اس سے کہیں کم ہے جس کا تخمینہ ٹرمپ انتظامیہ نے دسمبر کے آخر تک کا لگایا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 912 posts and counting.See all posts by voa